مجھ سے میری آرزوئے جانِ جاں ناراض ہے ایسا لگتا ہے کہ اب سارا…
پہلے قیاس صورت حالات کیجئے پھر پیش اپنے اپنے خیالات کیجئے اونچے…
نگاہیں جھیل تو چہرہ گلاب رکھتا ہے وہ کمسنی میں بھی کتنا…
آتے ہیں شب و روز خیالات اچانک کیا ہو جو دوبارہ ہو…
اک دھواں سا جہاں میں رہتا ہوں اپنے خالی مکاں میں رہتا…
بہاریں رنگ لاتی ہیں چمن آباد ہوتا ہے کہ جب نازک لبوں سے…
کل ہوا آج تو اب آج کو ہے کل ہونا اپنے افسانے…
نفع نقصاں کے اُصولوں سے بغاوت کی ہے ہم نے اس شہر…
ضمیرِ عصر حاضر ہوں نظر اُٹھا میں عہدِ نو کا شاعر ہوں…
Copy Not Allowed
Sign in to your account
Remember me