صحرا میں تجھے جانِ جگر دیکھ رہا ہوں جیسے کوئی پھولوں کا…
ہم بھی تو عشق زاد ہیں ضد پر جو آئیں ہم ’’…
اُٹھتا ہوا گُلشن سے دھواں دیکھ رہا ہوں ہر طرف ہے فریاد…
شب کی آہٹ پہ گزرتی ہے کہانی میری وقت کیا مانگے اُجالوں…
اس سے مل پاتی اگر میری نظر کچھ دکھائی دیتا اَثر میری…
کبھی تو اے دلبر حسیں رات ہوگی ستاروں سے آگے یہ بارات…
مبارک ہو رمضان سارے جہاں کو رکھو تر تلاوت سے اپنی زباں…
دلِ ناداں نہیں سمجھا چلا ہے پیارپانے کو گزاری زندگی ساری فقط…
اک نظر دیکھ کر کردار پڑھا کرتے تھے ہم تو چہرے سے…
حاصلِ زیست جو ہوگا وہ حضر باقی ہے شام سر پر ہے…
Copy Not Allowed
Sign in to your account
Remember me