سوچتا ہوں فسردگی کیوں ہے زندگی میں یہ بے حِسی کیوں ہے…
مسکرانے کی بات کرتے ہو کس زمانے کی بات کرتے ہو ہر…
جبر سلطاں اور ہم شعلہ زنداں اور ہم جاؤں تو جاؤں کہاں…
زندگی کے پھول کھلنے سے پہلے ہو گئے پژمرده ملنے سے پہلے…
لوگ اِسے دیکھتے ہی رو جائیں مجھ کو ایسی کوئی نشانی دو…
پرندے ہیں شجر میں پھر بھی تنہائی نظر آئی جو منظر میں…
وہ کیا بچھڑ گئے کہ فراغت کی رات تھی لفظوں میں کیسے…
لبریز ہو چلا ہے غمِ زندگی سے دل تھک سا گیا ہے…
زبانی ہی سہی آ جاؤ دے دوں تمہارے دل پہ کوئی گھاؤ…
رب کی جب کر لیں عبادت دل کو ملتا ہے قرار…
Copy Not Allowed
Sign in to your account
Remember me