بے رُخی تیری نظروں کی جب پائوں گا تیری محفل سے اُٹھ…
اس کھنڈر میں کوئی آتا ہے چلا جاتا ہے دیپ ہر شام…
تن کے اُجلے، من کے کالے ہوتے ہیں لوگ سیاسی،مطلب والے ہوتے…
تیرا جلوہ کہیں نہیں ہوتا تو یہ عالم حسیں نہیں ہوتا تو…
سُلگتے شہر کے اب دُور منظر چھوڑ آئے ہیں بلاؤں کے لئے…
کچھ تو احسانِ وفا، یاد تجھے ہے کہ نہیں بھول بیٹھے ہو…
سر سے اوپر ہے چڑھ گیا پانی اپنی حد سے بھی بڑھ…
اوپر سے تو صحرا ہوں میں دل سے لیکن دریا ہوں میں…
موسلا دھار بارشیں ہونگی ہجر کی پھر سے سازشیں ہونگی میرا سادہ…
کیا دن تھے کہ دل میں مرے اُلفت کا اثر تھا اس…
Copy Not Allowed
Sign in to your account
Remember me