سُلگتے شہر کے اب دُور منظر چھوڑ آئے ہیں
بلاؤں کے لئے ہم تو کُھلا گھر چھوڑ آئے ہیں
سفر صحراؤں کا ہم پیاس میں کرتے رہے لیکن
تمہارے واسطے پیچھےسمندر چھوڑ آئے ہیں
تشدد چھوڑ کر ہم امن کی راہوں پہ چل نکلے
کسی تالاب میں نفرت کے خنجر چھوڑ آئے ہیں
وہ جن کو دیکھ کر اکثر تھکن محسوس ہوتی تھی
مسافت کے سبھی پیچھے وہ پتھر چھوڑ آئے ہیں
ہماری پیاس نے دریا تلک ٹھکرا دیئے آخر
تمہاری ایک چاہت پر سمندر چھوڑ آئے ہیں
وہ جن رشتوں پہ نازاں تھے، وہی دشمن ہوئے اکثر
سو دل ہلکا کیا اور سب برابر چھوڑ آئے ہیں
ترے دربار میں مجبوریاں تو لے کے آئیں ہیں
ضمیر اپنا مگر ہم آج باہر چھوڑ آئے ہیں
کئی زخموں کو سینے میں سجا رکھا تھا برسوں سے
تمہاری یاد کے سارے وہ لشکر چھوڑ آئے ہیں
اُگاتے تھے جہاں اجداد میرے پیار کی فصلیں
زمینیں آخرش ساری وہ بنجر چھوڑ آئے ہیں
پرویز مانوسؔ
آزاد بستی نٹی پورہ، سرینگر کشمیر
موبائل نمبر؛9429463487
سرد آہوں سے کچھ بد دعائیں ملی درد کی آنچ پر ہچکیاں پک گئیں لفظ بُھنتے رہے سر بھی دھنتے رہے
حبس کے غار میں شورِ دیوار سے خامشی توڑ کر گیت لکھتے رہے خود کو سنتے رہے سر بھی دھنتے رہے
برف کے چاک پر رات کی دھند تھی کپکپی اوڑھ کر اِزنِ کہرا لئے،بین کرتی رہی ہم سے لپٹی ہوئی
ہجر کے ڈیر پر درد کی آگ میں جسم جلتا رہا رات بھر کوئلہ دل کا چنتے رہے سر بھی دھنتے رہے
شام کی کوکھ سے سانس چھنتی رہی درد کے ساز پر گنگناتی کسک روزنوں کی طرح جھانکتے آبلے
روح سے اٹھ رہی کانپتی جنبشیں، کروٹیں اوڑھتی سلوٹوں کی تھکن برف دھنتے رہے سر بھی دھنتے رہے
عجلتوں سے اٹھی فرقتوں کی ترنگ، فاصلوں میں چھپے وقت کے زاویئے، حاشیے پر پڑا مختصر حادثہ
عکس پیکر ترا آنکھ میں بھر دیا اشک کی بوند سے رنگ بھرتے ہوئےخواب بنتے رہے سربھی دھنتے رہے
آسماں زرد تھا سال کا آخری چاند پیلا پڑا ،دھند یادوں کی تھی دم بخود راستے جگنو بجھتے ہوئے
وہ شبِ بے بسی ڈائری میں پڑی جیسے دیمک کوئی ہاتھ یونہی لگی درد پھُنتے رہے سر بھی دھنتے رہے
راستےماپتی ادھ کھلی کھڑکیاں دشت کے قافلے ٹوٹتے حوصلے آرزو کی قسم خاک شیدؔا ہوا
چشمِ ویران سے پھول کیا توڑتے دھند کی خوشبوئیں گرد کی تتلیاں اوس چُنتے رہے سر بھی دھنتے رہے
علی شیداؔ
نجدون نیپورہ اسلام آباد، اننت ناگ،کشمیر
موبائل نمبر؛9419045087
اس پر کتنا سرمایہ ہے
کوئی جان نہیں پایا ہے
کچھ کھویا اور کچھ پایا ہے
جب دھاگوں کو سلجھایا ہے
گھر کا مالک اب ایا ہے
ملبہ کس نے ہٹوایا ہے
گھر تو مجھ پہ نہیں ہے بے شک
لیکن میرا ہمسایہ ہے
اپنے کچھ سکوں کو میں نے
اوروں سے بھی گِنوایا ہے
کس کی موت ہوئی تھی لیکن
اس نے کس کو دفنایا ہے
خود کو تنہا بلوایا پر
ساتھ میں پھر کوئی آیا ہے
گھر پہ نہیں پایا جب اُس کو
تب اس کا در کھٹکایا ہے
اس کے پاس ہی رہتا ہے وہ
جس کے ساتھ نہ رہ پایا ہے
شیشے کے ٹوٹے گھر پر اب
کوئی پرچم لہرایا ہے
دنیا کے پرشنوں کا اُتر
اور کسی سے دلوایا ہے
ارون شرما صاحبابادی
پٹیل نگر ،غازی آباد اُتر پردیش
غم نہ دیکھے ان آشیانوں پر
ورد رب ہے جہاں زبانوں پر
منزلِ شوق ہے وہی پہنچے
تھی نظر جن کی آسمانوں پر
یہ زمیں پر ستاروں کی کرنیں
رکھتی ہیں یہ سفر زمانوں پر
بات وہ حق کی کر نہیں سکتے
زر کے پہرے ہیں جن زبانوں پر
قسمتوں سےکریں گلہ کیا ہم
سب لکھا ہے جب آسمانوں پر
کوئی قدغن لگا نہیں سکتا
اک خیالوں کی یاں اُڑا نوں پر
ہر ستم ہم معینؔ سہہ لیتے
برق گرتی نہ آ شیا نوں پر
معین فخر معینؔ
موبائل نمبر؛003443837244
فکر ہے زندگی بچانے کی
کیا ضرورت تھی زہر کھانے کی
ان کو عادت رہی ستانے کی
غم عطا کر کے مسکرانے کی
چل رہی ہے سماج کے اندر
اب رہ و رسم دل دُکھانے کی
آدمی آدمی میں رنجش ہے
کچھ نہ بدلی روش زمانے کی
کھڑکیاں کھولئے کہ نکلے راہ
گھر میں تازہ ہوائیں آنے کی
ہو چلی بیٹیوں کے ہاتھوں پر
عمر برگِ حنا رچانے کی
بجلیاں کوندتی ہیں رہ رہ کے
خیر ہو میرے آشیانے کی
فکر و فن سے غیاثؔ نسبت ہے
حضرتِ داغؔ کے گھرانے کی
غیاثؔ انور شہودی
ہوگلی، مغربی بنگال
موبائل نمبر؛990370094
میں کشمکش میں مبتلا میری زندگی اُبال ہے
قدم لرز رہے ہیں جیسے ہر طرف بھونچال ہے
تیری صورت قید ہے مرے نظروں کے حصار میں
بھا گیا ہے جو مجھے تیرے چہرے کا جمال ہے
نہ صبح کی خبر کوئی نہ شام کا کوئی گمان
آنچ پر چڑھے ہوئے جیسے پانی میں اُبال ہے
زندگی کی ڈور جو ہے سانس سے بندھی ہوئی
تم سے کیا چھپاؤں اب یہ جان کا وبال ہے
چہرے پہ میری سادگی مسکان ہے بناوٹی
میں کھڑا ہوا ہوں پُر سکون یہ بھی اِک کمال ہے
دِل کے دروازے کو تم یوں کھٹکھٹایا نا کرو
اُلفت کے رنگ میں تیری کہ پھر نئی اِک چال ہے
جواب ڈھونڈ رہا ہوں میں ہر طرف و ہر جگہ
زِندگی میری آج بھی بنا ہوا اِک سوال ہے !!
افتخار دانشؔ
سنگھیا چوک، کشن گنج ، بہار
جب یہ سوچا، انہوں نے ہی دیا یہ فراق
مجھ کو اُس کی محبت میں خوب لگا یہ فراق
میں نے مانگا تو کچھ بھی نہ تھا، بچ نہ سکا وہ کیسے
جو میرے نام مقدر تھا، میرا ہی رہا یہ فراق
سچ کہوں، یہ مری اپنی ہی تھی خطا اور خُو
وصل کے حاصلوں کے بجائے چُنا یہ فراق
یہی اکثر ہوا کرتا ہے عشق کی اصل سوغات
عاشقوں کو جو ملتا ہے، وہی ملا یہ فراق
صورتؔ !آخر مری تقدیر میں لکھا یہی نقش تھا
میں نے چاہا ہو یا نا چاہا، ملا ہی رہا یہ فراق
صورت ؔسنگھ
رام بن، جموں
موبائل نمبر؛9622304549
پھر ہو گا مکمل اس سلطنت کا وہ تاجدار
پھر آئی ہے اس کی مکمل حکومت کی پکار
گل و بلبل جس مالی سے تھے نالاں
وہی خزاں میں بن کے آیا ہے بہار
جلوہ گر تھا جو اب تک پت جڑ کا موسم
پھر بن کے آیا ہے وہی یہاں شاندار
گونجینگے پھر اپنی ہی حکومت کے نغمے
پھر ہو گی یہاں پھولوں کی سرکار
قادریؔ نفرت کے گلوں میں جاکر دیکھ
برسا رہے ہیں وہ اب چمن چمن میں پیار ہی پیار
فاروق احمد قادریؔ
کوٹی ڈوڈہ، جموں
تو روح میں، تو سانس میں، پھر بھی حجاب ہے
تو جا بجا، تو درمیاں ،کیسا نقاب ہے ؟
بخشش میں چاہتی ہوں خدا سےگناہوں کی
ظاہر میرا شریف ہے ، باطن خراب ہے
کِتنے عذاب جھیلنے ہیں خاک کے نیچے
ڈرتا ہے کون مرنے سےبس اضطراب ہے !
اوجھل نگاہوں سے ہوئیں کیا خوب صورتیں
اعلانِ مرگ ہے ، یا یہ ہوا ہی خراب ہے ؟
جانے سسکتی غزلیں مخاطب ہیں کن سے یہاں
کن لوگوں کا سوال تھا ، کن کو جواب ہے
رُخسانہ پروین
باغات، برزلہ،سرینگر کشمیر