تیرا جلوہ کہیں نہیں ہوتا
تو یہ عالم حسیں نہیں ہوتا
تو مرے سامنے ہے جانِ غزل
مجھ کو پھر بھی یقین نہیں ہوتا
تیرے ہونے کی بات ہے ورنہ
کوئی موسم حسیں نہیں ہوتا
تیری پہلی نظر نہ پڑتی تو
چاند اتنا حسیں نہیں ہوتا
جس جگہ تم نے چُھو کے پوچھا ہے
درد بھی بس وہیں نہیں ہوتا
جب بھی ہوتا ہے میری آنکھوں میں
وہ صنم پھر کہیں نہیں ہوتا
نگہہ آذر حسین ہوتی ہے
کوئی پتھر حسیں نہیں ہوتا
میری آنکھوں میں جھانک کر دیکھو
یہ نظارہ کہیں نہیں ہوتا
گر نظر اشک میں نہا لیتی
کوئی پردہ کہیں نہیں ہوتا
تیرے قدموں میں آگیا پنچھیؔ
آسماں یوں زمیں نہیں ہوتا
سردار پنچھیؔ
جیٹھی نگر، مالیر کوٹلہ روڑ کھنہ پنجاب
موبائل نمبر؛9417091668
جب ملیں نظروں سے نظریں تو نظارہ ہو گیا
ہم کسی کے ہو گئے کوئی ہمارا ہو گیا
ٹکٹکی باندھے جو دیکھا دور سے محبوب کو
بس یہی دیدار جینے کا سہارا ہو گیا
یار کی آمد کا چرچا شہر میں ہے جابجا
ساتھ اس کے وصل کا ہم کو اشاره ہو گیا
تھا قفس میں اب تلک جو طائرِ لاچار بند
پا کے آزادی سمجھتا ہے گزارہ ہو گیا
بے وفاؤں سے ہی اکثر واسطہ میرا پڑا
غالباً مجھ سے خفا میرا ستارہ ہو گیا
موجِ دریا کے تھپیڑے سہہ لئے ہمت سے جب
ہمکنار اب کامیابی سے کنارا ہو گیا
قدر ہم نے وقت کی جانی نہیں جب عمر بھر
حیف ہے کہتے پھریں ہم کو خساره ہو گیا
حسن کی چوکھٹ پہ رکھا جب قدم شادابؔ نے
گلستانِ عشق میں چرچا دوباره ہو گیا
غلام رسول شادابؔ
مڑواہ،کشتواڑ، جموں
<[email protected]>
عشق کیا ہے؟ کبھی بتائیں گے
زخم دِل کے سبھی دِکھائیں گے
سارے دکھ درد بھول جاؤ گے
ہم تمھیں جب گلے لگائیں گے
زندگی سے نِبھی نہیں جِس دِن
موت سے ہاتھ ہم مِلائیں گے
سرد راتوں کی گھنی سیاہی میں
چاندنی سے ضِیا چُرائیں گے
چاند تارے گگن بناؤ تم
ہم تو روٹی مکاں بنائیں گے
ہاتھ مَلتے رہو گے تم اِندرؔ
’’ہم ترا شہر چھوڑ جائیں گے‘‘
اِندرؔ سرازی
ڈوڈہ، جموں کشمیر
تم سے بھی اپنا درد سنبھالا نہیں گیا
مجھ سے بھی میرا زخم چھپایا نہیں گیا
مجھ پر ترا جنون بھی طاری تھا مستقل
تم سے ہی دل کا حال سنایا نہیں گیا
کل کے بھرم میں عمر گزاری ہے اے خدا!
انجامِ بعدِ وصل بھی سوچا نہیں گیا
غم خوار اس جنم کے مرے بس وہ لوگ تھے
جن سے بھی بزم میں مری ٹھہرا نہیں گیا
اے زندگی میں جن کے بھروسے تھی اب تلک
ان سے تو اپنا آپ سدھارا نہیں گیا
رسوائیوں کی حد سے تو گزری ہوں بے پناہ
مجھ سے تو پھر بھی گھر کو یوں چھوڑا نہیں گیا
عذراؔ گزر گئے ہیں کئی موسمِ الم
لیکن وہ داغ دل سے مٹایا نہیں گیا
عذرا حکاک
سرینگر، کشمیر
[email protected]
تو روح میں تو سانس میں پھر بھی حجاب ہے
تو جا بجا تو درمیاں کیسا نقاب ہے ؟
بخشش میں چاہتی ہوں خدا سےگناہوں کی
ظاہر میرا شریف ہے ، باطن خراب ہے
کِتنے عذاب جھیلنے ہیں خاک کے نیچے
ڈرتا ہے کون مرنے سےبس اضطراب ہے !
اوجھل نگاہوں سے ہوئیں کیا خوب صورتیں
اعلانِ مرگ ہے ، یا یہ ہوا ہی خراب ہے ؟
جانے سسکتی غزلیں مخاطب ہیں کن سے یہاں
کن لوگوں کا سوال تھا ، کن کو جواب ہے
رُخسانہ پروین
باغات، برزلہ ، سرینگر ،کشمیر