بے رُخی تیری نظروں کی جب پائوں گا
تیری محفل سے اُٹھ کر چلا جائوں گا
میرا اِس کے سوا کوئی ٹھکانہ نہیں
تیری مخمور آنکھوں میں کھو جائوں گا
غیر ممکن ہے تجھ سے الگ ہوسکوں
چھوڑ کر تجھ کو اب میں کہاں جائوں گا
زندگی ہے تُو جب تک میرے ساتھ ہے
تیری دُوری نہ ہرگز میں سہہ پائوں گا
ہے میری اہمیت کیا میں غافل نہیں
ایک غنچہ ہوں گُلشن کو مہکائوں گا
زندگی جب میسر ہے قربت تیری
جو بھی آداب ہیں میں بجا لائوں گا
اے ہتاش اِس زمانے میں یہ فکر ہے
اپنی عزت میں کیسے بچا پائوں گا
پیارے ہتاشؔ
دور درشن گیٹ لین جانی پورہ جموں
موبائل نمبر؛8493853607
پھول کی چاہ میں کانٹوں میں سمٹ جاتی ہے
کیسی تتلی ہے جو بھونروں سے لپٹ جاتی ہے
زہر پیتے ہیں یہاں عشق میں رانجھےاب بھی
عمر کچھ ہیر کی غم پی کے بھی کٹ جاتی ہے
کچھ بھی حاصل نہیں اوروں کی شکایت کرکے
آبرو اپنی نگاہوں میں بھی گھٹ جاتی ہے
عمر کچھ لوگوں کی کٹتی ہے سفر میں اکثر
زندگی کتنوں کی کمرے میں ہی کٹ جاتی ہے
اس سے دوبارہ کوئی کام نہیں لے سکتا
یہ وہ جھلی ہےجو اک سانس میں پھٹ جاتی ہے
ذہن پہ اُس کے تو آتا ہے سدا رشک مجھے
سارے اسباق وہ لمحے میں ہی رٹ جاتی ہے
اِس سے آگے تو ہے ماں باپ کی دنیا ہی نہیں
عمر بچوں کی محبت میں ہی کٹ جاتی ہے
یہ بھی سچائی ہے انسان کی کہ وقت کے ساتھ
زندگی سینکڑوں خانے میں ہی بٹ جاتی ہے
شمع کی جرأتِ رندانہ کی کیوں داد نہ دیں
سرپھری آندھی کے جو سامنے ڈٹ جاتی ہے
یہ بھی فطرت کا تقاضا ہے ازل سے راقمؔ
بادچلتی ہے تو بدلی بھی یہ چھٹ جاتی ہے
عمران راقم
موبائل نمبر؛9163916117
میں دنیا کو اب تک سمجھ ہی نہ پایا
تبھی دھوکا ہر ایک سےمیں نےکھایا
شکستہ گھروں کےچراغاں کی خاطر
چراغوں کے ہمراہ خود کو جلایا
ہے اپنی خبر مجھ کو میں صاف دل ہوں
سمجھ کوئی مجھ کو ابھی تک نہ پایا
کیا جس پہ سب کچھ نچھاور ہمیشہ
اسی سے تو نقصان اکثر اُٹھایا
سناؤں جسےحال میں بے بسی کا
نہیں ایساہمدم نظر مجھ کو آیا
ہوا اب تو رخصت ہےاخلاق ہم سے
سبق ایسا شیطاں نے ہم کو پڑھایا
بھروسہ تو شاداؔب کر لے اُسی پر
کہ ہر اک جہاں کو ہے جس نے بنایا
غلام رسول شاداب
مڑواہ ،کشتواڑ، جموں
موبائل نمبر؛9103196850
ہلکے میں لینے والے چونکیں گے
ماتھے کو زور سے وہ پھوڑیں کے
سامنے بیٹھ جاتے ہیں سب سُر
کتے ہیں پیٹھ پیچھے بھونکیں گے
چال ایسی چلیں گے وہ دشمن
سارے الزام ہم پہ تھوپیں گے
جتنے مضبوط ہونگے یہ دشمن
کیل کے مثل سب کو ٹھوکیں گے
ایک دن خود کے منہ پہ برسے گی
آج جو آسماں پہ تھوکیں گے
رُخسانہ پروین
باغات، برزلہ، سرینگر کشمیر
تیری دنیا سے نہیں اپنی کہانی کہتے
حالِ دل تجھ سے اگر اپنا زبانی کہتے
تذکرہ اپنا جو ہم عہدِ جوانی کہتے
اس کی تصویر کو تصویر پرانی کہتے
عمرِ رفتہ کو اگر تھوڑا سکوں مل جاتا
زندگی تجھکو بھی موجوں کی روانی کہتے
ہم کو لوٹادے کوئی عہد گزشتہ کی کتاب
ہم جسے پڑھ کے کبھئ مصرعئہ ثانی کہتے
تم بھی چنگیز ہلاکو سا نہ رکھتے جو مزاج
پھر غریبوں کے لہو کو نہیں پانی کہتے
وقتِ صبح جو ہمیں روز جگاتا ہے فقیر
اس کی آواز کو ہم سنت کی بانی کہتے
کاش شبنمؔ ہمیں اعجاز یہ حاصل ہوتا
شعر ہم بھی گل و بلبل کی زبانی کہتے
شاہینہ خاتون شبنم
موبائل نمبر؛9415598203
پھول سی اپنی جوانی مجھ کو دے جائو ذرا
خوبصورت سی کہانی مجھ کو دے جاو ذرا
دھند میں کھوئی ہوئی ماضی کی تصویریں ہی دو
چھوٹی سی کوئی نشانی مجھ کو دے جائو ذرا
دل مرا آتشکدہ ہے کافی مدت سے یہاں
کوئی ساون کی روانی مجھ کو دے جائو ذرا
غفلتاً چھو کے کبھی مجھ کو گزر جائو ذرا
اس ہی لمحے کی روانی مجھ کو دے جائو ذرا
تم بھی کھو جائوگے دنیا کے ہجو موں میں کہیں
کوئی صورت،کوئی نشانی مجھ کو دے جائو ذرا
صورتؔ اب دل کو تسلی بھی عطاء ہو کچھ تو
اپنی باتوں کی گرانی مجھ کو دے جائو ذرا
صورت سنگھ
رام بن جموں موبائل نمبر؛9622304549
ہم نے اُسے پہچان لیا مدتوں کے بعد
وہ بھی ہمیں مان گیا مدتوں کے بعد
کیا کیا وفائیں ہم نے نبھائیں سکوت میں
شکوہ لبوں پہ نہ آیا حسرتوں کے بعد
جھوٹے نقاب اُتر ہی گئے تیری ذات کے
سچ بھی نظر میں آیا بڑی عبرتوں کے بعد
شرافتوں کا دور تو کھویا زمانہ سا
دنیا بدل گئی ہے نئی فطرتوں کے بعد
یوں ہی نہیں وہ پھرتا ہے اب دربدر بہت
قدرِ وفا سمجھ میں آئی ٹھوکروں کے بعد
کانٹے بچھانے والوں کو اب نیند کب ملے
زخموں کی دھجیاں اُڑ گئیں نفرتوں کے بعد
صائمہؔ اب تو بدل جائے گا ہر ایک رویہ
دل کو سنبھالنا ہوگا بہت چاہتوں کے بعد
صائمہ مقبول
ٹیکی پورہ لولاب، کپوارہ کشمیر