سر سے اوپر ہے چڑھ گیا پانی
اپنی حد سے بھی بڑھ گیا پانی
پیاس صحرا کی ریت پر لکھا
میں کتابوں میں پڑھ گیا پانی
تشنگی لے کے نائو میں اُترے
جانے کیوں کر بگڑ گیا پانی
اب کے آنکھوں میں تھا عجب موسم
سر سے پا تک جکڑ گیا پانی
چل پڑا ،مؤجزن رہا دریا
رک گیا جو تو سڑ گیا پانی
خشک آنکھوں میں پھر سے ہلچل ہے
جانے کس غم سے لڑ گیا پانی
پانی پانی تو ہوگیا شیدؔا
تجھ کو آخررگڑ گیا پانی
علی شیدا
نجدون نیپورہ اسلام آباد، اننت ناگ،کشمیر
موبائل نمبر؛9419045087
شمع کو یوں آدھار پانا پڑا ہے
کہ اپنا بدن ہی گلا نا پڑا ہے
کہ جب ہاتھ اس سے ملانا پڑا ہے
تو دستانہ اپنا ہٹانا پڑا ہے
شریفوں میں جب اُس کو جانا پڑا ہے
طوائف کو کیا کیا چھپانا پڑا ہے
قدم مشکلوں سے پڑے ہیں اٹھانے
کہ گھر راستے میں پرانا پڑا ہے
لگائی ہے بیوہ نے دلہن کے مہندی
تو محفل سے اُٹھ کر بھی جانا پڑا ہے
شکاری کا ڈر بھی نہیں یاد رکھا
کہ ساون میں بلبل کو گانا پڑا ہے
بہت غمزدہ ہے یہ ٹوٹا ستارہ
کہاں سے کہاں، اس کو آنا پڑانا ہے
وہ تھا پھول پر اوس کا صرف قطرہ
پرندے نے سمجھا کہ دانہ پڑا ہے
یہ گُل دور سے ہی نہیں دیکھا جاتا
مجھے اس کے نزدیک جانا پڑا ہے
اسی پر کھلائے ہیں پنچھی کو دانے
ہتھیلی کا چھالا بُھلانا پڑا ہے
ارون شرما صاحبابادی
پٹیل نگر ،غازی آباد اُتر پردیش
میں حیراں ہوں لوگوں کی حیرانی پر
ایسا کیا لکھا ہے میری پیشانی پر
کس کے بدن کو آگ لگی تھی جہلم بول
کس کا سایا ناچ رہا تھا پانی پر
اپنی نظر کی عریانی پر تو شرما
میں کیوں شرماؤں اپنی عریانی پر
چہرے پہ میرے کیوں نہ خزاں کے رنگ اُبھریں
عشق اترا ہے میری اُٹھتی جوانی پر
کیا مخموری آنکھیں کیا متوالا بدن
کس کا نہ دل آئے ایسی مستانی پر
دل نے بہار نہ بادِ بہاری مانگی ہے
دل نے قناعت کی بس اِسی ویرانی پر
تو کہ ابھی ہے رموزِ عشق سے نا واقف
حسن ابھی ہنس مت میری نادانی پر
زخموں کی پھلواری کا پتّا پتّا
قرباں ہے تیری شبنم افشانی پر
ایسے اندھیارے میں ہنسی آتی ہے مجھے
ایسی دو کوڑی کی خوش امکانی پر
سب پروانوں کی نظر اُس پر تھی شب بھر
کتنا بوجھ تھا کومل رات کی رانی پر
میں نے ایسے ایسے دشت کئے سیراب
دریا ہوئے حیراں میری طغیانی پر
میر شہریارؔ
اننت ناگ، کشمیر
مرادل تو ترے جیسا نہیں ہے
تجھے بھولے کبھی سوچا نہیں ہے
مجھے تو کر دیا تو نے فراموش!
مرے دل سے تو پر اُترانہیں ہے
تجھے خوابوں میں ہی ڈھونڈا کروں کیا
تو جو آکر کبھی ملتا نہیں ہے
گلہ بھی غیروں سے ہم کیا کریں دوست
کہ اپنا بھی تو اب اپنا نہیں ہے
کہوں ہر فیصلے کو عدل کیسے
ہر منصف بھی یہاں سچا نہیں ہے
کبھی تو وہ معین آئے گا ملنے
یقیں میرا ابھی ہارانہیں ہے
معین فخر معین
موبائل نمبر؛003443837244
نظر میں یاس دل میں داغِ حسرت چھوڑ جائے گی
محبت میری شاید بس اذیّت چھوڑ جائے گی
یہ تنہائی یہ سناٹے یہ دل کا خوف اور لرزہ
یہ خاموشی مرے گھر ایک وحشت چھوڑ جائے گی
مجھے معلوم ہے جب وہ کبھی دیکھے گی آئینہ
تو اپنے ہی کئے پر اک شکایت چھوڑ جائے گی
زمانہ جانتا ہے یہ جو ہم نے درد پالا ہے
یہ دل کی آگ ہر شے میں حرارت چھوڑ جائے گی
تمہارے بعد گرچہ دل شکستہ ہوگیا میرا
کہانی پھر بھی یہ میری شرافت چھوڑ جائے گی
وہ آئے یا نہ آئے اس تمنّا کی اذیت بھی
مرے ویران دل میں اک مَسَرَّت چھوڑ جائے گی
کیسر خان قیسؔ
ٹنگواری بالا، بارہمولہ ، کشمیر
موبائل نمبر؛6006242157
پھر تمہارا غم دسمبر میں جواں ہو جائے گا
کوُچہ و بازار پھر سے اب دُھواں ہو جائے گا
پھر سے وادی برف پوشی سےحسیں ہو جائے گی
پھر دُوپٹے کا یونہی مجھ کو گماں ہو جائے گا
پھر جمے گا آنکھ کا آنسُو تمہاری یاد میں
یاد کا دریا مگر دل میں رواں ہو جائے گا
نام کوئی رات بھر وردِ زُباں ہو جائے گا
اور بھی مشکل مرا عہدِ گراں ہو جائے گا
ظاہراً تو درد میرا لا مکاں ہو جائے گا
رُوح کی مانند یہ پیوستِ جاں ہو جائے گا
چاند بھی دُھندلائے گا ان سرد راتوں میں کبھی
غم ذدہ شام و سحر یہ آسماں ہو جائے گا
آگ لگ جائے گی ہر منظر دُھواں ہو جائے گا
یہ دسمبر بھی خلشؔ مِثلِ خزاں ہو جائے گا
سجاد سُلیمان خلشؔ
اسلام آباد،کشمیر
موبائل نمبر؛9906589315
ہر ایک فن میں وہ اتنا کمال رکھتا تھا
کہ اپنے آپ میں ہی اک مثال رکھتا تھا
میرے ہی خون کا پیاسا تھا میرا وہ فلک
کہ مجھ کو چھوڑ کے سب کا خیال رکھتا تھا
وفا کیسی؟ کہاں کا عشق ؟ تھا فریب سب
وہ شخص جھوٹ کہنے میں کمال رکھتا تھا
وہ اپنی باتوں سے اُلجھا رہا تھا مجھ کو جب
میں اس کے سامنے کوئی سوال رکھتا تھا
اُسے بھی آج بہت کم دکھائی دیتا ہے
جو میری کور نظر کا ملال رکھتا تھا
خزاں ہی کھا گئی میرے پورے وجود کو
وگرنہ موسمِ گل میں جلال رکھتا تھا
حرام کھانے کی عادت کہاں تھی پہلے
میں اپنی تھالی میں رزقِ حلال رکھتا تھا
رخسانہ پروین
باغات، برزلہ، سرینگر کشمیر
سہما سہما دسمبر ہوں میں
تم سے بچھڑا دسمبر ہوں میں
تپتے صحرا کی گرمی ہو تم
ٹھنڈا ٹھنڈا دسمبر ہوں میں
تم نئے موسموں کی بہار
اُجڑا اُجڑا دسمبر ہوں میں
آنے والا زمانہ ہو تم
کل کا گُزرا دسمبر ہوں میں
برف کی چادریں اوڑھی ہیں
اِتنا ٹھنڈا دسمبر ہوں میں
سال کے کُل مہینوں میں کیا؟
سب سے ٹھنڈا دسمبر ہوں میں
ہر کِسی کو رُلا جاتا ہوں
جانے کیسا دسمبر ہوں میں
اِندرؔ سرازی
ڈوڈہ، جموں
موبائل نمبر؛7006658731
چار قدم چل کر دیکھ
ساتھ صنم چل کر دیکھ
ٹوٹ گیا ہجر میں وہ
توڑ قسم چل کر دیکھ
تیرا عکس ہی اُبھرے گا
ایک کرم ،چل کر دیکھ
ہنستے ہنستے سہتے ہیں
لوگ ستم چل چل کر دیکھ
عشق میں لازم ہیں
رنج،الم چل کر دیکھ
موسم وصل کا آیاہے
قبل عدم، چل کر دیکھ
اب کیا لکھوں اور نواز
روکقلم چل کر دیکھ
شاہنواز احمد
شالی پورہ ،کولگام،کشمیر