اوپر سے تو صحرا ہوں میں
دل سے لیکن دریا ہوں میں
جھوٹوں کو سمجھاؤں کیسے
سچ کہتا ہوں سچا ہوں میں
دنيا کو لگتا ہوں بوڑھا
ماں کو بچہ لگتا ہوں میں
سب کو منزل تک پہنچانا
کام ہے میرا رستہ ہوں میں
آکر اپنی پیاس بجھا لے
دیکھ چھلکتا دریا ہوں میں
مجھ پر بھی ہو نظرِ عنایت
مالک تیرا بندہ ہوں میں
اس کے علاوہ رفیق ؔمجھ کو
سب کہتے ہیں اس کا ہوں میں
رفیق ؔعثمانی
سابق آفس سپرانٹنڈنٹ BSNL
آکولہ ، مہاراشٹرا
شمع کو یوں آدھار پانا پڑا ہے
کہ اپنا بدن ہی گلا نا پڑا ہے
کہ جب ہاتھ اس سے ملانا پڑا ہے
تو دستانہ اپنا ہٹانا پڑا ہے
شریفوں میں جب اس کو جانا پڑا ہے
طوائف کو کیا کیا چھپانا پڑا ہے
قدم مشکلوں سے پڑے ہیں اُٹھانے
کہ گھر راستے میں پرانا پڑا ہے
لگائی ہے بیوہ نے دلہن کے مہندی
تو محفل سے اُٹھ کر بھی جانا پڑا ہے
شکاری کا ڈر بھی نہیں یاد رکھا
کہ ساون میں بلبل کو گانا پڑا ہے
بہتغمزدہ ہے یہ ٹوٹا ستارہ
کہاں سے کہاں اس کو آنا پڑا ہے
وہ تھا پھول پر اوس کا صرف قطرہ
پرندے نے سمجھا کہ دانہ پڑا ہے
یہ گُل دور سے ہی نہیں دیکھا جاتا
مجھے اس کے نزدیک جانا پڑا ہے
اِسی پر کھلائے ہیں پنچھی کو دانے
ہتھیلی کا چھالا بھلانا پڑا ہے
ارون شرما صاحبابادی
پٹیل نگر ،غازی آباد اُتر پردیش
مجھ سے یوں شکوۂ حالات کروگے کب تک
اپنے حجرے میں سیہ رات کروگے کب تک
بھول جاؤ بھی اسے اب تو ہماری خاطر
اپنی آنکھوں سے یہ برسات کروگے کب تک
حالِ دل تم کو سنانے کا بہت کرتا ہے
مجھ سے تنہائی میں یوں بات کروگے کب تک
پر سکوں رات کی ویران سی تنہائی میں
اُلجھی زلفوں میں نئی رات کروگے کب تک
جیت کا جشن مناتے ہو ‘ مناؤ لیکن
دیش کے قابو میں حالات کروگے کب تک
جانےکب سےمیں ادھورا ہوں کہانی کی طرح
پوری آخر کو مری ذات کرو گے کب تک
تم سے ملنے کی تمنا میں جدا ہوں خود سے
طے کرو مجھ سے ملاقات کروگے کب تک
صبح ہوتے ہی چلے جاؤ گے گھر کو اپنے
رات ڈھل جائے گی پھربات کروگے کب تک
دل ہی دل میں مجھے تم یاد کروگے کتنا
اپنی دھڑکن سے سوالات کروگے کب تک
خودبھی سوجاؤ اورمجھکو بھی سوجانے دو
آنکھوں آنکھوں میں بسر رات کروگے کب تک
نیند سےجاگو جواں کر بھی دو حسرت راقمؔ
سرد یوں ہی مرے جذبات کروگے کب تک
عمران راقم
موبائل نمبر؛9163916117
دھوکہ کھا کے بھی میں رشتہ نہیں بدلتا
دشمن کو دیکھ کے میں رستہ نہیں بدلتا
رن میں سوجھ بوجھ رکھتا ہوں میں بھی
اپنے ہتھیار میں بھی آہستہ نہیں بدلتا
مرجھا جائے اگر کوئی گلاب یوں ہی
پھر بھی مالی کبھی گلدستہ نہیں بدلتا
بدلتے رہتے ہیں ماہ و سال لیکن
غریب کا بچہ مگر بستہ نہیں بدلتا
پایا اور کو مگر پھر بھی تمنا اس کی
تقدیر تو بدلی مگر دل ِخستہ نہیں بدلتا
اس کی آنکھ بدلی سوچ بدلی وہ بھی بدلا
پھر بھی فلکؔ جی خواب شکستہ نہیں بدلتا
فلکؔ ریاض
حسینی کالونی چھترگام کشمیر
ہم سے گر جو ملا نہیں کرتے
ان سے بھی ہم گلہ نہیں کرتے
ہم بنا کر اَنا کی اک دیوار
زندگی کو سزا نہیں کر تے
مان لیتا ہے دل جسے اپنا
اُن سے پھر ہم دغا نہیں کرتے
ملتے ہیں ان سے بھی تری خاطر
جن سے دل یہ ملا نہیں کرتے
ہر تعلق نہ توڑ ئے ہم سے
دل کو جاں سے جدا نہیں کرتے
جس دئے سے ہوا اُجالا یاں
وہ بجھایا دیا نہیں کرتے
ہے معینؔ ان کی نظروں میں بھی پیار
بس لبوں سے کہا نہیں کرتے
معین فخر معین
موبائل نمبر؛003443837244
چلو، دل کی صدائی جا رہی ہے
جنوں کی رہنمائی جا رہی ہے
ازل کے خامشی خانے سے یارو
صدا کوئی سنائی جا رہی ہے
میں جس کو ڈھونڈتا ہوں خود میں اکثر
وہی صورت چھپائی جا رہی ہے
یہ دل ہے یا حرم کی روشنی ہے
کہ ہر دھڑکن دعائی جا رہی ہے
جہاں سجدہ ہوا تھا، ایک لمحہ
وہی ساعت جگائی جا رہی ہے
میں پیہم ہار کر حیران ہوں کیوں
کہ ہارے میں کمائی جا رہی ہے
ابھی دل میں عجب اک نور برپا
خطا بھی نیک نیتی جا رہی ہے
کہہ دو سبدرؔ، سکوتِ جاں نہ توڑے
یہ خاموشی خدائی جا رہی ہے
سبدر شبیر
اوٹو اہربل کولگام ،کشمیر
موبائل نمبر؛9797008660
دلِ مضطر صبر ذرا اور سہی
حرف دعا اوردوا اور سہی
زندگانی ما سوا کیامشت خاک
اہلِ فنا کس نے کہا اور سہی
ایک تیرا غم، غم دوران بھی
اس پہ سفرـسوئے صحر ا اور سہی
ہجر کا موسم بہ مثل برگ ریز
چشم روئے، خوں جگر کا اور سہی
ریش دل ‘درپیش ہے سفرِ حیات
اک ستم یہ اس پہ تنہا اور سہی
کعبئہ دل ٹوٹنے پر یہ کُھلا
ُُبُت مکیں تھا یا کہ خدا اور سہی
خود مٹا پر نا مٹا تیرا خیال
پاسِ وفا اہلِ وفا او ر سہی
تم نہیں تو ہم کہاں موجود ہیں
ہم نہیں تو کوئی مرزاؔاور سہی
مرزا ارشاد منیبؔ
بیروہ بڈگام ، کشمیر
موبائل نمبر؛9906486481
دُور منزل ہے مسافر رہگُزر میں ہے ابھی
جستجو منزل کے پانے کے اثر میں ہے ابھی
تھوڑی سی مہلت اَجل سے مانگنا میری طرف
میرا جو پوچھے تو کہنا وہ سفر میں ہے ابھی
آئیں کتنی ہستیاں دنیائے فانی میں بڑی
جو ہوا انجام ان کا وہ نظر میں ہے ابھی
نفرتوں کے دور میں مانا کہ قدریں مٹ گئیں
لیکن اک جذبہ محبت کا بَشر میں ہے ابھی
کتنے ہیں منسوب قصّے چاند تیرے داغ پر
ڈھونڈتا اسرار کوئی اُس نگر میں ہے ابھی
شانتی کا عالمی دن ! نفرتوں پہ تبصِرہ
ہو گیا ، پر تیر نفرت کا جگر میں ہے ابھی !
رخسانہ پروین
باغات، برزلہ ، سرینگر کشمیر
پھول اور کلیاں ملیں اُس کو بہار کی
دیکھ لی زینت ہم نے ویراں دیار کی
جس گھڑی کا تھا اسے بے صبری سے انتظار
مختتم اب ہو گئیں وہ گھڑیاں انتظار کی
شادابیاں رنگوں کی یہاں چھائی ہیں ہر سُو
مٹ گئی فضا ہے یہاں سوگوار کی
کل تلک جو پھول سے روٹھتے تھے
وہی لائے چمن میں اب شبنم انحصار کی
قادریؔ دیکھ تو ذرا چمن چمن میں
مسکرائی ہے کلی کلی افتخار کی
فاروق احمد قادری
کوٹی ڈوڈہ ، جموں