کچھ تو احسانِ وفا، یاد تجھے ہے کہ نہیں
بھول بیٹھے ہو خدا، یاد تجھے ہے کہ نہیں
میری پلکوں پہ جو اک خواب سا ٹھہرا تھا کبھی
تیرے چُھونے سے کھلا، یاد تجھے ہے کہ نہیں
شام ڈھلتے ہی مرا درد اُبھر آتا رہا
یہ بھی اک راز رہا، یاد تجھے ہے کہ نہیں
میں نے خوابوں میں بھی تیرا ہی تعاقب ہے کیا
تُو نے رستہ بھی دیا، یاد تجھے ہے کہ نہیں
آج تنہائی میں ترا چہرہ ہوا پھر سے طلب
میں نے تجھ سے کہا آ، یاد تجھے ہے کہ نہیں
چاند اُترا تھا مرے سامنے جب پہلی بار
میں نے ’’رُک جا‘‘ بھی کہا، یاد تجھے ہے کہ نہیں
وقت، موسم، یہ فضا سب نے گواہی دی تری
ہم نے تجھ کو ہی چُنا، یاد تجھے ہے کہ نہیں
یہ جہاں لذتوں سے خوب ہے، کیا بھول گئے
قولِ فرمان خدا، یاد تجھے ہے کہ نہیں
تیرے تُکّے پہ گزارا کرے یاورؔ تو کیا
زخم پہ زخم سہا، یاد تجھے ہے کہ نہیں
یاورؔ حبیب ڈار
ہندوارہ، کشمیر
موبائل نمبر؛6005929160
ہے ہماری قسم یوں نہ مایوس ہو
بھول جا سارے غم یوں نہ مایوس ہو
اچھا ایسا کرو میرے دامن میں ڈال
سارے رنج و الم یوں نہ مایوس ہو
ہر قدم پر بھنور ہیں تو کچھ غم نہیں
آکے تھامیں ینگے ہم یوں نہ مایوس ہو
مُسکرا دو کہ کھِل جائیں دل کے کنول
کر نہ پلکوں کو نم یوں نہ مایوس ہو
آپ سنگ جو چلیں تو دھوپ بھی چاندنی
اے میرے ہم قدم یوں نہ مایوس ہو
میرے کاندھے پہ سر رکھ کے سو جائیے
درد تھوڑا ہو کم یوں نہ مایوس ہو
چھوڑ کر میں اَنا آیا در پہ تیرے
سر کئے اپنا خم یوں نہ مایوس ہو
یہ ملن کی گھڑی باندھ رکھیں گے ہم
رات جائے گی تھم یوں نہ مایوس ہو
اپنا تن چھوڑ کر تیری روح سے ملوں
اس میں ہو جاؤں ضم یوں نہ مایوس ہو
ہے اندھیرا مگر آس کا اک دِیا
ساتھ ہے دم بدم یوں نہ مایوس ہو
ہے خدا بس نگہباں فلکؔ جی تیرا
ہے اُسی کا کرم یوں نہ مایوس ہو
فلک ریاض
حسینی کالونی چھترگام کشمیر
ای میل؛[email protected]
ہوتا ہے جو ناز اس کا وہ ہی نہیں ہے
سنگ دل ہے یہ لڑکی کبھی روئی نہیں ہے
شفقت میری ماں کی بھولوں گا میں کیسے
جب تک میں نہ سویا کبھی سوئی نہیں ہے
پہلے بھی میرے سائے میں وہی شخص رہا ہے
جو چیخ رہا ہے کہ میرا کوئی نہیں ہے
کچھ سال تو ہم ساتھ رہے ایک کمرے میں
یہ بھائیوں کی بات ہے اور کچھ بھی نہیں ہے
دیکھو یہ مسافر کا جگر ہے کاٹ رہا کون
اس دور میں بھی ڈر ہے کہیں بندہ ہی نہیں ہے
منتظر یاسر ؔ
فرصل کولگام کشمیر
موبائل نمبر؛ 9682649522
یا اللہ ! مجھے اپنے قریب کر لے
ایسا بلند میرا نصیب کر لے
عشق کی بیماری لگی ہوئی ہے
میرے درد کی دوا طبیب کر لے
میری خطاؤں کی تلافی ہو یارب
مجھ کو تو صدقہ ٔحبیب کر لے
مٹا دے میرے دل سے جالے حسد کے
کینہ ‘ تعصب ‘ بغض سے غریب کر لے
تیرے دید کی طلب لگی ہوئی ہے
مرشد سے رشتہ میرا قریب کر لے
محفل ؔ کو بھٹکے زمانہ ہوا ہے
سنوار لے مجھے جتن جتنا رقیب کر لے
محفلؔ مظفر
پلہالن پٹن بارہمولہ ،کشمیر
ای میل؛[email protected]