تن کے اُجلے، من کے کالے ہوتے ہیں
لوگ سیاسی،مطلب والے ہوتے ہیں
بوڑھا پنچھی بچوں کو سمجھاتا تھا
نیچے دانے، اوپر جالے ہوتے ہیں
ڈوبنے والے ،ساحل کی جانب مت دیکھ
ساحل پر بس، دیکھنے والے ہوتے ہیں
ایسے ویسے مت سمجھو شعروں کو میاں
ان میں بھی قرآں کے حوالے ہوتے ہیں
ہوجاتی ہے موت بھی آساں کبھی کبھی
کبھی کبھی جینے کے لالے ہوتے ہیں
اس گھر میں تنہائی کیسے ٹھہرے گی
جس گھر میں اخبار رسالے ہوتے ہیں
جدا ہے سب سے شہر میں اک اندازِ رفیق ؔ
شعر بھی اس کے سب سے نرالے ہوتے ہیں
رفیق عثمانی ؔ
سابق آفس سپرانٹنڈنٹ
BSNL آکولہ، مہاراشٹرا
سارے عالم کو حیرت زدہ کر گیا
میرا ذوقِ سفر جب فلک پر گیا
انتظاروں کا وحشی سا لشکر گیا
مجھ پہ آیا تھا جو عہدِ محشر گیا
کر کے فطرت سے ہر اک قدم انحراف
یار جی کر نہیں تھک کے میں مر گیا
بے وفائی کی تجھ کو ہے لت لگ گئی
یا مرے عشق سے تیرا دل بھر گیا
فضلِ رب سے سلامت ہے میرا وجود
اپنا دم خم لگا کر ستم گر گیا
چاند شرما گیا اس کے جب سامنے
لے کے ہمدم مرا روئے انور گیا
پاتا تھا راحتیں جس سے دل اور دماغ
آنکھ سے اب وہ ہر ایک منظر گیا
آ کے اُف میرے تشنہ لبوں تک ذکیؔ
لے کے محرومیاں اک سمندر گیا
ذکی طارق بارہ بنکوی
سعادتگنج، بارہ بنکی یوپی
کیوں درد کو چُھپا کے بہاروں میں رکھتا ہے
یادوں کو ان حسین چناروں میں رکھتا ہے
اب تو کتابوں کی جگہ لی پی ڈی ایف نے
اب کون پھولوں کو یاں کتابوں میں رکھتا ہے
ہر کام یوں تو ہوتے مکمل ہیں وقت پر
اک میں ہی ہوں جسے وہ قضاؤں میں رکھتا ہے
تیری ہی دسترس میں ہے سب کچھ میرااگر
تو کیوں مُقدرات ستاروں میں رکھتا ہے
کتنے ہی رند آ کے یہاں فیض پا گئے
وہ راز کیا ہے؟ رب جو پہاڑوں میں رکھتا ہے
اس کے ہی جلنے سے میرے گھر میں ہے روشنی
چھوٹے سے اک دیئے کو ہواؤں میں رکھتا ہے
کب کا اُڑا لیا ہوتا اس تیز آندھی نے
کوئی تو ہے جو مجھ کو دعاؤں میں رکھتا ہے
رُخسانہ پروین
باغات، برزلہ ، سرینگر ،کشمیر
دل میں سمایا ہے ہجر کا رنگ
ہر طرف چھایا ہے ہجر کا رنگ
اب تو مقدر یہی ہے اپنا
دل میں سجایا ہے ہجر کا رنگ
عشق اُن سے جو ہوا تھا ہمیں
اسی نے دکھایا ہے ہجر کا رنگ
ہر رنگ پہ غالب آیا ہے یہ
کیا ستم ڑھایا ہے ہجر کا رنگ
یاد و درد کبھی اشک بن کے صورتؔ
مجھ کو ستایا ہے ہجر کا رنگ
صورت سنگھ
رام بن، جموں
موبائل نمبر؛9622304549