خیالوں میں جو بنتے ہیں گھروندے ٹوٹ جاتے ہیں کبھی حق بات…
حصارِ ذات سے باہر نکل گیا ہوتا نئے زمانے کے سانچے میں…
رنگ اُتریں گے سبھی منظر میں کیا رہ جائے گا آئینہ ہوجاؤں…
زیست میری اُداس رہتی ہے مثلِ شعلہ وہ پاس رہتی ہے تجھ…
بادِ صرصر کیا اُٹھی صحرا سے گھر تک آگئی رقص کرکے چھت…
بات کچھ یوں کیا کرو سائیں دل میں گھر کر لیا کرو…
خزاں کے دور میں جو پھول خوشبو دار ہوتا ہے چمن کے آبرو…
تیری آنکھوں میں ہے چاہت کا سمندر پُر سکوں اب تلک…
حد سے مشکل ہوگئے کیوں زندگی کے راستے ہے سبب اے دوست…
تنہا ہے بہت ہجر میں تنہائی غموں کی دیکھی ہے بہت ہم…
Copy Not Allowed
Sign in to your account
Remember me