عظمیٰ ویب ڈیسک
نئی دہلی/نیشنل ایلیجیبلٹی کم انٹرنس ٹیسٹ (نیٹ) پیپر لیک، وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفی اور دیگر امور کو لے کر اپوزیشن کا ہنگامہ دوسرے دن بھی جاری رہا، جس کی وجہ سے لوک سبھا کی کارروائی منگل کے روز دن بھر کے لیے ملتوی کر دی گئی۔
دو بار کے التوا کے بعد دوپہر دو بجے، پریزائڈنگ آفیسر دلیپ سائکیا نے ہنگامے کے درمیان ایوان کی کارروائی شروع کرتے ہوئے رول 377 کے تحت اراکین سے اپنے اپنے مسائل ایوان کی میز پر رکھنے کو کہا تو اپوزیشن جماعتوں کے اراکین نعرے بازی کرتے ہوئے ایوان کے وسط میں آ گئے۔ مسٹر سائکیا نے ہنگامہ کرنے والے اراکین سے کہا کہ آپ مسلسل دوسرے دن ایوان کے وسط میں آکر کارروائی میں خلل ڈال رہے ہیں، جس سے ایوان کا کام کاج متاثر ہو رہا ہے۔
انہوں نے کئی بار اراکین سے اپنی نشستوں پر واپس لوٹنے اور ایوان کی کارروائی چلانے میں تعاون کرنے کی اپیل کی، لیکن ہنگامہ تھمنے کے بجائے اور تیز ہو گیا، جس کے بعد انہوں نے ایوان کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی کر دی۔
اس سے پہلے صبح 11 بجے اسپیکر اوم برلا نے جیسے ہی ایوان کی کارروائی شروع کی، کانگریس، سماجوادی پارٹی، ڈراوڈ منیترا کزگم (ڈی ایم کے)، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (ایس پی) اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے اراکین نے نیٹ پیپر لیک اور دیگر مسائل پر نعرے بازی شروع کر دی۔ مسٹر برلا نے وقفہ سوالات کو چلنے دینے کے لیے اراکین سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وقفہ سوالات اراکین کے لیے حکومت سے جواب طلب کرنے کا ایک اہم موقع ہوتا ہے، لیکن ہنگامہ جاری رہنے پر انہوں نے ایوان کی کارروائی دوپہر 12 بجے تک کے لیے ملتوی کر دی۔
اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو اپوزیشن اراکین پلے کارڈز اور بینرز لے کر ایوان کے وسط میں پہنچ گئے اور نعرے بازی جاری رکھی۔ سماجوادی پارٹی کے اراکین کالے رنگ کے بڑے بڑے بینرز اور ڈی ایم کے کے اراکین ہرے رنگ کے بینرز لے کر آئے تھے۔
پریزائڈنگ آفیسر سندھیا رائے نے ہنگامے کے درمیان ضروری قانون سازی سے متعلق دستاویزات ایوان کے میز پر رکھوائے اور اراکین سے اپنی اپنی نشستوں پر واپس جا کر وقفہ صفر کو چلنے دینے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ وقفہ صفر میں اراکین کو اپنے علاقوں کے مسائل اٹھانے کا موقع ملتا ہے اور پورا ملک ایوان کی کارروائی دیکھ رہا ہے۔ اس کے باوجود اپوزیشن اراکین نے ہنگامہ جاری رکھا، جس کے باعث ایوان کی کارروائی دوپہر دو بجے تک کے لیے ملتوی کرنی پڑی۔
اپوزیشن کے ہنگامے کے باعث لوک سبھا کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی