عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر اور نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے منگل کو کہا کہ دہلی میں ریاستی درجے کی بحالی کے حق میں کیا گیا احتجاج صرف آغاز ہے، اختتام نہیں، اور پارٹی مرکز کو اس کے وعدے یاد دلاتی رہے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ نیشنل کانفرنس بی جے پی کو خوش کرنے کے لیے اپنے سیاسی ایجنڈے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔سری نگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، عمر عبداللہ نےکہا کہ جموں و کشمیر اسمبلی نے خودمختاری کی بحالی کے حق میں قرارداد منظور کی تھی، تاہم اس اقدام کو جان بوجھ کر غلط انداز میں پیش کیا گیا۔
انہوں نے کہا، ’’جب اسمبلی نے خودمختاری کی قرارداد منظور کی تو اسے اس طرح پیش کیا گیا جیسے جموں و کشمیر کو بھارت سے الگ یا پاکستان کے ساتھ ملانے کی کوشش کی جا رہی ہو۔ یہ الزامات صرف ہماری سیاسی جدوجہد کو بدنام کرنے کے لیے لگائے گئے تھے۔ ہم اس پروپیگنڈے کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔‘‘عمر عبداللہ نے الزام عائد کیا کہ اسمبلی قرارداد سے مرکز ناخوش تھا اور اسی کے بعد جموں و کشمیر کی آواز کو کمزور کرنے کے لیے نئی سیاسی جماعتوں اور گروہوں کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی عوامی آواز کو تقسیم اور کمزور کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دہلی احتجاج کا مقصد مرکز کو جموں و کشمیر کے عوام سے کیے گئے وعدوں کی یاد دہانی کرانا تھا۔ ’’ہم دہلی اس لیے گئے تاکہ مرکز کو اس کے وعدے یاد دلائیں۔ ہم نے تمام سیاسی جماعتوں کو دعوت دی کیونکہ یہ صرف نیشنل کانفرنس کا نہیں بلکہ پورے جموں و کشمیر کا مسئلہ ہے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے بعض علاقائی جماعتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کچھ جماعتیں نہ صرف احتجاج سے دور رہیں بلکہ انہوں نے نیشنل کانفرنس کی اس مہم کا مذاق بھی اڑایا۔ انہوں نے کہا، ’’بعض جماعتوں نے نہ ہمارا ساتھ دیا اور نہ خود کوئی کوشش کی، بلکہ ہماری مہم کا تمسخر اڑایا۔ مجھے مرکز کے ردعمل کی فکر نہیں، لیکن ان لوگوں سے مایوسی ضرور ہے جو خود کو جموں و کشمیر کا خیرخواہ کہتے ہیں مگر ایسے مواقع پر اپنی ذمہ داری بھول جاتے ہیں۔‘‘
آرٹیکل 370 اور خصوصی حیثیت کے حوالے سے ہونے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے کبھی بھی اپنے بنیادی ایجنڈے کو ترک نہیں کیا۔انہوں نے کہا، ’’لوگ پوچھتے ہیں کہ ہم آرٹیکل 370 یا خصوصی حیثیت کی بات کیوں نہیں کرتے۔ میں پوچھتا ہوں کہ ہم نے یہ ایجنڈا کب چھوڑا؟ جب دوسروں نے وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی سے ہاتھ ملانے کے لیے اپنا ایجنڈا ترک کیا، تب بھی ہم اپنے مؤقف پر قائم رہے۔‘‘
عمر عبداللہ نے کہا کہ اصل مسئلہ ریاستی درجے کی بحالی اور جموں و کشمیر و مرکز کے درمیان آئینی اختیارات کی تقسیم ہے۔انہوں نے کہا، ’’لوگ کہتے ہیں آرٹیکل 370 یا خصوصی حیثیت بحال کرو، لیکن میں پوچھتا ہوں کہ ریاستی درجہ نہ ہو تو آرٹیکل 370 یا آرٹیکل 371 کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟ نام کچھ بھی ہو، اصل مسئلہ جموں و کشمیر اور مرکز کے درمیان آئینی اختیارات کی شراکت داری ہے۔‘‘ان کا کہنا تھا کہ اختیارات کی ایسی تقسیم صرف اسی صورت ممکن ہے جب جموں و کشمیر کو دوبارہ ریاست کا درجہ حاصل ہو۔
مخالف جماعتوں کو نشانہ بناتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ بعض پارٹیاں بی جے پی کو ناراض کرنے سے گریز کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’جو لوگ بی جے پی کو ناراض نہیں کرنا چاہتے تھے، وہ گھروں میں بیٹھے رہے اور سوشل میڈیا پر ٹوئٹس کرتے رہے۔ جموں و کشمیر کے عوام نے دیکھ لیا ہے کہ کون میدان میں جدوجہد کرنے کے لیے تیار ہے اور کون صرف موبائل فون کے پیچھے رہنا پسند کرتا ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی جلد ہی اپنے آئندہ لائحۂ عمل کا اعلان کرے گی۔ ’’دہلی احتجاج صرف آغاز تھا، اختتام نہیں۔ اگلے مرحلے اور اس کی نوعیت کا فیصلہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی قیادت میں تنظیمی سطح پر کیا جائے گا۔ ہماری جدوجہد جاری رہے گی اور ہم مرکز کو اس کے وعدے مسلسل یاد دلاتے رہیں گے۔‘‘
دہلی میں ریاستی درجے کے لیے احتجاج محض آغاز، بی جے پی کو خوش کرنے کے لیے اپنا ایجنڈا ترک نہیں کریں گے: عمر عبداللہ