عظمیٰ ویب ڈیسک
نئی دہلی/کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف مسٹر راہل گاندھی نے طلبا کے معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث نہ کرائے جانے کو نامناسب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اس بارے میں لوک سبھا اسپیکر اوم برلا سے بحث کرانے کا مطالبہ کیا لیکن انہیں بتایا گیا کہ اس کے لیے سرکار سے اجازت لینی ہوگی۔
گاندھی نے منگل کو پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں صحافیوں سے کہا کہ طالب علموں کے مستقبل سے جڑے اس سنگین معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہیے۔ طالب علموں پر لاٹھی چارج اور مار پیٹ کی جا رہی ہے، جو پوری طرح غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے نوجوان تباہ ہو چکے تعلیمی نظام اور امتحانی نظام کے خلاف مظاہرہ کر رہے ہیں، لیکن وزیرِ اعظم نریندر مودی اس معاملے پر خاموش ہیں۔ انہیں طالب علموں سے معافی مانگنی چاہیے اور طالب علموں کے خلاف طاقت کا استعمال فوری طور پر بند کرانا چاہیے۔
گاندھی نے کہا کہ ملک کے نوجوانوں کے ساتھ اس طرح کا سلوک قابلِ قبول نہیں ہے۔ نوجوانوں کے سامنے مواقع کے تمام راستے تقریباً بند ہو چکے ہیں۔ صرف مسابقتی امتحانات کا راستہ بچا تھا، لیکن وہ نظام بھی برباد ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں موجود طالب علم صرف تعلیمی نظام کی شکایت نہیں کر رہے ہیں بلکہ اپنے مستقبل کے تعلق سے بھی فکر مند ہیں۔ یہ صرف تعلیم کا معاملہ نہیں ہے بلکہ ملک کے نوجوانوں کے مستقبل کا سوال ہے۔ طالب علم کہہ رہے ہیں کہ انہیں اپنے مستقبل کی کوئی امید دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ اس پورے معاملے کی اخلاقی ذمہ داری لیتے ہوئے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان، وزیرِ داخلہ امیت شاہ اور مسٹر مودی کو استعفیٰ دینا چاہیے۔ انہوں نے دہرایا کہ طالب علموں کے مستقبل سے جڑے اس سنگین موضوع پر پارلیمنٹ میں وسیع بحث کرائی جانی چاہیے۔
طلبا کے معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث کوٹالنا نامناسب : راہل