عظمیٰ نیوز سروس
ریاسی //کٹرہ قصبہ پیر کے روز اس وقت کشیدگی کا شکار ہو گیا جب شری ماتا ویشنو دیوی سنگھرش سمیتی کے ارکان نے مجوزہ روپ وے پروجیکٹ کے خلاف زوردار احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے مقامی ایم ایل اے پر الزام عائد کیا کہ وہ روپ وے منصوبے کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں اور سمیتی کی اس تحریک کو کمزور کرنے میں کردار ادا کر رہے ہیں جس کا مقصد اس منصوبے کی معطلی ہے۔احتجاج کے دوران سمیتی کے ارکان نے قصبے میں جمع ہو کر نعرے بازی کی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ مظاہرین نے کٹرہ کے ایم ایل اے اور ریاسی کے رکنِ اسمبلی پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ مقامی تاجروں کے شدید تحفظات کے باوجود روپ وے تجویز کی حمایت کر رہے ہیں۔صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہو گئی جب سنگھرش سمیتی کے کچھ ارکان نے ایم ایل اے کے دفتر کا گھیراؤ کرنے کی کوشش کی تاہم پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے مظاہرین کو دفتر کے احاطے میں داخل ہونے سے روک دیا۔ اس دوران معمولی دھکم پیل جیسی صورتحال پیدا ہوئی، لیکن سیکورٹی اہلکاروں نے فوری مداخلت کر کے مجمع کو منتشر کر دیا اور امن و امان برقرار رکھنے کے لئے چند مظاہرین کو حراست میں بھی لیا۔یہ احتجاج ایسے وقت سامنے آیا ہے جب چند روز قبل لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ کی جانب سے تشکیل دی گئی ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی نے کٹرہ کا دورہ کیا تھا۔ کمیٹی نے زمینی صورتحال کا جائزہ لیا اور مقامی نمائندوں، تاجروں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز سے ملاقات کر کے ان کے خدشات اور مطالبات سنے تھے۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کمیٹی کا دورہ مشاورتی عمل کا حصہ تھا، تاہم مقامی تاجروں کے ایک طبقے میں روپ وے پروجیکٹ کے خلاف بے چینی بدستور پائی جا رہی ہے۔ تاجروں کو خدشہ ہے کہ اس منصوبے سے ان کے روزگار پر منفی اثر پڑ سکتا ہے، خاص طور پر وہ افراد جو روایتی سفری نظام اور زیارت سے جڑے کاروبار پر انحصار کرتے ہیں۔شری ماتا ویشنو دیوی سنگھرش سمیتی نے ایک بار پھر اپنے مطالبے کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ روپ وے منصوبے کو فوری طور پر معطل کیا جائے، بصورت دیگر احتجاجی تحریک کو مزید تیز کیا جائے گا۔ادھر ضلعی انتظامیہ کے حکام کا کہنا ہے کہ کٹرہ میں صورتحال قابو میں ہے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے مناسب سیکورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔دوسری جانب بی جے پی کی ضلع ریاسی یونٹ نے ایک پریس کانفرنس میں الزام لگایا کہ سنگھرش سمیتی کے بعض ارکان نے احتجاج کے دوران ریاسی اور کٹرہ کے ایم ایل ایز کے خلاف غیر پارلیمانی زبان استعمال کی، جو نہایت افسوسناک ہے۔ پارٹی رہنماؤں نے کہا کہ کچھ عناصر پرامن ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔