عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/حکمراں جماعت نیشنل کانفرنس اور حکومت کے حمایتی آزاد اراکینِ اسمبلی نے بدھ کے روز وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی صدارت میں داچھی گام میں منعقدہ اجلاس کے دوران نائب وزیراعلیٰ سریندر چودھری کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور اُن پر محکمۂ تعمیراتِ عامہ (آر اینڈ بی) میں فنڈز کی غیر منصفانہ تقسیم کا الزام عائد کیا۔ذرائع کے مطابق سات گھنٹے تک جاری رہنے والے اس اجلاس میں قیاس آرائیوں کے برخلاف ریاستی درجے کی بحالی سے زیادہ حکومتی کارکردگی، خصوصاً وزراء کی کارگزاری، زیرِ بحث رہی۔ذرائع نے بتایا کہ نیشنل کانفرنس اور آزاد اراکینِ اسمبلی دونوں نے نائب وزیراعلیٰ کے ماتحت آر اینڈ بی محکمہ کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے۔
ذرائع کے مطابق بیشتر اراکینِ اسمبلی نے آر اینڈ بی وزیر کی جانب سے فنڈز کی مبینہ امتیازی تقسیم اور ان کے رویے پر ناراضگی ظاہر کی۔ذرائع نے بتایا کہ خاص طور پر پیر پنچال خطے کے اراکینِ اسمبلی نے نائب وزیراعلیٰ کو ہدفِ تنقید بنایا اور الزام لگایا کہ نوشہرہ اسمبلی حلقہ کو فنڈز اور ترقیاتی منصوبوں میں غیر معمولی حصہ دیا گیا، جبکہ دیگر حلقوں کو نظر انداز کیا گیا۔ذرائع کے مطابق نبارڈ، کیپیکس برج پروگرام اور دیگر اسکیموں کے تحت فنڈز کی تقسیم کے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے اراکین نے الزام لگایا کہ فنڈز کی تقسیم میں کھلی جانبداری برتی گئی۔
ذرائع نے بتایا کہ اعجاز جان (ایم ایل اے پونچھ حویلی)، جاوید چودھری (ایم ایل اے بدھل)، مظفر خان (ایم ایل اے تھنہ منڈی) اور چودھری اکرم (ایم ایل اے سرنکوٹ) نے سریندر چودھری کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا، جو خود بھی پیر پنچال سے تعلق رکھتے ہیں۔ذرائع کے مطابق کشمیر وادی سے تعلق رکھنے والے بعض اراکین، خصوصاً جاوید بیگ (ایم ایل اے بارہمولہ) اور علی محمد ڈار (ایم ایل اے چاڈورہ) نے بھی نائب وزیراعلیٰ کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ ان اراکین نے بھی آر اینڈ بی محکمہ کی جانب سے فنڈز کی تقسیم میں امتیازی سلوک کا الزام لگایا، جبکہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک رکنِ اسمبلی نے نائب وزیراعلیٰ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ بھی کیا۔ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے نائب وزیراعلیٰ کو ہدایت دی کہ ایک ماہ کے اندر ان شکایات کا ازالہ کیا جائے۔اجلاس کے دوران بعض اراکین اسمبلی نے جاوید رانا (وزیر برائے پی ایچ ای، آبپاشی و فلڈ کنٹرول) اور ستیش شرما (وزیر برائے سی اے پی ڈی و یوتھ سروسز اینڈ اسپورٹس) کی کارکردگی پر بھی ناراضگی ظاہر کی۔ان وزراء سے رابطہ کرنے کی متعدد کوششیں کی گئیں تاہم ان کا مؤقف حاصل نہیں ہو سکا۔ کے این او کے مطابق جیسے ہی متعلقہ وزراء یا نیشنل کانفرنس کی جانب سے ردعمل موصول ہوگا، خبر کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔