عظمیٰ نیوز سروس
جموں//سینئرسپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) جموں جوگیندر سنگھ نے میڈیا کو جاری نشہ مکت جموں و کشمیر ابھیان کے پہلے 50 دنوں کے دوران ضلع پولیس جموں کی پیش رفت کے بارے میں بریفنگ دی۔جموں پولیس کی منشیات اور منشیات سمگلنگ کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کو دہراتے ہوئے، ایس ایس پی نے کہا کہ نفاذ، انٹیلی جنس معلومات کے حصول، عوامی شمولیت اور قانونی کارروائی پر مشتمل ایک جامع حکمت عملی نے ضلع بھر میں منشیات کے ناسور پر قابو پانے میں نمایاں نتائج دیے ہیں۔مہم کے پہلے 50دنوں کے دوران، ضلع جموں میں این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت 176مقدمات درج کیے گئے۔ سخت کارروائی کے تحت، جموں پولیس نے درج ذیل منشیات ضبط کیں,ہیروئن (چٹا) 5کلو 533گرام، جس کی مالیت تقریباً 16.60کروڑ روپے ہے، پوست کا بھوسہ 3کلو 250گرام، جس کی مالیت تقریباً 87,000 روپے ہے، گانجا 29کلو 267 گرام، جس کی مالیت تقریباً 8.78لاکھ روپے ہے، افیون 1کلو، جس کی مالیت تقریباً 27,000 روپے ہے۔ایس ایس پی نے بتایا کہ این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت 202ملزمان کو گرفتار/حراست میں لیا گیا، جبکہ ایک بدنام زمانہ منشیات فروش کو پی آئی ٹی-این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت حراست میں لیا گیا، جو کہ عادی مجرموں کے خلاف کارروائی اور منشیات کے نیٹ ورک کو ختم کرنے کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔منشیات فروشوں کے خلاف مالی تحقیقات اور اثاثوں کی نشاندہی کی حکمت عملی کے تحت، جموں پولیس نے غیر قانونی طور پر حاصل کی گئی جائیدادوں کے خلاف بھی بڑی کارروائی کی۔ مہم کے دوران،منشیات سے متعلق سرگرمیوں میں ملوث 37 گاڑیاں ضبط کی گئیں،123.290گرام سونا، جس کی مالیت تقریباً 13.70 لاکھ روپے ہے، منجمد کیا گیا۔26بینک اکاؤنٹس منجمد کیے گئے، جن میں تقریباً 18 لاکھ روپے کی لین دین شامل ہے، 8معاملات میں 5.19کروڑ روپے مالیت کی جائیدادیں ضبط کی گئیں، جن میں 3 منقولہ اور 5 غیر منقولہ جائیدادیں شامل ہیں، ضلع انتظامیہ کے ساتھ مل کر 22مجرموں کی جائیدادیں مسمار کی گئیں،اس کے علاوہ، منشیات کے کاروبار میں ملوث افراد کے خلاف سخت انتظامی کارروائیاں بھی عمل میں لائی گئیں،27ڈرائیونگ لائسنس منسوخ کیے گئے، 143گاڑیوں کے رجسٹریشن سرٹیفکیٹس (آر سی) منسوخ کیے گئے۔منشیات فروشوں کے زیر استعمال ڈھانچے کے خلاف کارروائی جاری رکھتے ہوئے، جموں پولیس نے 22غیر قانونی تعمیرات کو بھی مسمار کیا، جن میں 11پختہ مکانات اور 11کھلے ڈھانچے شامل ہیں، جو منشیات سے متعلق سرگرمیوں کے لیے استعمال ہو رہے تھے۔جوگیندر سنگھ نے کہا کہ منشیات کے خلاف جنگ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کا چیلنج نہیں بلکہ ایک سماجی ذمہ داری بھی ہے، جس کے لیے تمام طبقات کے مشترکہ تعاون کی ضرورت ہے۔ انہوں نے عوام، سول سوسائٹی، تعلیمی اداروں اور نوجوانوں کی طرف سے مہم کو کامیاب بنانے میں دیے گئے تعاون کو سراہا۔انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ منشیات فروشی اور اس سے متعلق سرگرمیوں کی معلومات پولیس کے ساتھ شیئر کرتے رہیں اور یقین دہانی کرائی کہ ہر قابلِ اعتماد اطلاع پر فوری اور پیشہ ورانہ کارروائی کی جائے گی۔