ریاض//عالمی ادارہ سیاحت (ورلڈ ٹورازم آرگنائزیشن) (ڈبلیو ٹی او)کے اعدادوشمار کے مطابق سعودی عرب دنیا کا دوسرا سب سے تیزی سے بڑھتا ہوا سیاحتی مقام بن گیا ہے۔غیر ملکی میڈیارپورٹس کے مطابق ڈبلیو ٹی اونے بتایاکہ سعودی عرب میں 2023 کی پہلی سہ ماہی میں بین الاقوامی سیاحت کرونا وائرس کے وبائی مرض سے قبل کی سطح سے 64 فی صد زیادہ رہی ہے اور سال کے پہلے چند ماہ میں قریبا 78 لاکھ سیاحوں نے سعودی مملکت کا رخ کیا ہے۔
سعودی عرب 2022 میں بین الاقوامی سیاحوں کی سب سے زیادہ تعداد میں آمد والے ممالک میں سے ایک تھا اورعالمی سطح پر تیرھویں نمبر پر رہا تھا جس کی سیاحت کے لیے دنیا بھر سے زیادہ تعداد میں لوگ آئے تھے۔وہ 2019 میں پچیسویں نمبر پر تھا۔اس طرح وہ 12 درجے اوپرآیا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق، 2022 میں تمام سفری مقاصد کے لیے مملکت کا دورہ کرنے والے بین الاقوامی سیاحوں کی تعداد ایک کروڑ66 لاکھ تھی۔بین الاقوامی سیاحت سے آمدن کے اشاریے میں سعودی عرب 2022 میں گیارھویں نمبر پر آگیا جبکہ 2019 میں یہ ستائیسویں نمبر پر تھا۔سعودی عرب میں شہری ترقیاتی پروگرام ‘‘گرین ریاض’’ بہت سے لوگوں کے لیے سرسبز ماحول کی فراہمی اور عرب دنیا کے سب سے بڑے دارالحکومتوں میں سے ایک ‘‘ریاض’’ میں رہنے کے خوابوں کو پورا کرنے کے لیے تشکیل دیا گیا ہے۔
ریاض میں سعودی عرب کی کل آبادی کا 20 فیصد سے زیادہ حصہ آباد ہے۔ گرین ریاض کو دنیا کے سب سے زیادہ شہری جنگلات کے منصوبوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ یہ منصوبہ خادم حرمین شریفین اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی ہدایت پ شروع کیے گئے چار عظیم منصوبوں میں سے ایک ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق 12 رجب 1440 ہجری کو شروع کیے گئے اس منصوبے کا مقصد ریاض شہر کی درجہ بندی کو دنیا کے اہم شہروں کی رینکنگ میں بلند کرنا تھا۔ اس منصوبے کے تحت ریاض میں 120 رہائشی محلوں میں شجرکاری، تمام اہم سڑکوں اور عوامی چوکوں پر شجرکاری کے علاوہ بڑے پارکس اور دیگر سہولیات کو بھی سرسبز مقامات میں بدلنے کا ہدف بنایا گیا تھا۔ماہرین کے مطابق شہری جنگلات وہ ہوتے ہیں جو شہروں اور رہائشی علاقوں میں عوامی مقامات پر سبز بنیادی ڈھانچہ تشکیل دیتے ہیں۔ ان جنگلات کے ذریعے شہر میں سبزہ کی موجودگی کو مضبوط کیا جاتا ہے۔ یہ شہری ترقی سے منسلک ایک اہم اور جدید آلات میں سے ایک طریقہ ہے۔