یواین آئی
بغداد// ایران اور عرب ممالک کے درمیان بات چیت کے لیے روس متحرک ہو گیا ہے، روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ ایران اور عرب ممالک کو مذاکرات کی میز پر بٹھانا چاہتے ہیں۔روس کے وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے عراق اور عرب لیگ کی شمولیت سے خطے میں مذاکرات کی ایک نئی سفارتی پہل کی تجدید کا اعلان کیا، پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے لاوروف نے کہا ’’روس نے عراق اور عرب لیگ کی شرکت کے ساتھ خطے میں مذاکرات کی اپنی پہل کی تجدید کر دی ہے۔‘‘انھوں نے وضاحت کی کہ ’’روس نے ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی حمایت کی تھی، تاہم اس سے وابستہ توقعات پوری نہیں ہو سکیں۔ لاوروف نے زور دیتے ہوئے کہا دونوں فریق ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی اور میزائل حملے کرنے کے الزامات عائد کر رہے ہیں، جن کی قیمت خلیجی ممالک بھی ادا کر رہے ہیں۔انھوں نے نشان دہی کی کہ خطے میں دوبارہ بڑھتی ہوئی کشیدگی معیشت اور سلامتی کے لیے خطرات میں مسلسل اضافہ کر رہی ہے۔ لاوروف نے مزید کہا ’’روس، اردن، عراق اور عرب لیگ کی شمولیت سے خطے میں مذاکرات کا عمل شروع کروانا چاہ رہا ہے، جسے چین، مصر اور پاکستان کی حمایت حاصل ہے۔‘‘سرگئی لاوروف نے کہا کہ بات چیت کے عمل میں پاکستان، چین اور مصرکا تعاون شامل ہوگا، جب کہ ایران عرب ممالک کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے۔ ایران نے بھی چین، مصر اور پاکستان کے ساتھ مل کر مذاکرات کے لیے اپنی آمادگی کی تصدیق کی ہے۔انوں نے کہا روس پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے تاہم کچھ عناصر ایسے بھی ہیں جو ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کی کوششوں کو سبوتاڑ کرنا چاہتے ہیں اور ایران کے خلاف ایک وسیع محاذ قائم کرنے کے خواہاں ہیں۔