ایجنسیاں
تہران//ایران کی جانب سے ہفتے کے روز خلیجی خطے میں امریکہ کے اتحادی ممالک پر نئے حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ حملے ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب امریکہ کی طرف سے مسلسل ساتویں رات بھی ایران کے فوجی اہداف، لاجسٹک تنصیبات اور دیگر عسکری ڈھانچوں پر فضائی حملے کیے گئے۔ دونوں ممالک کے درمیان ایک ہفتہ قبل جنگ بندی کا نازک معاہدہ ٹوٹنے کے بعد تنازعہ مسلسل شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔کویت میں متعدد میزائل اور ڈرون حملوں کے باعث ایک سمندری پانی کو انسانی استعمال کے قابل بنانے والا ڈی سیلینیشن پلانٹ متاثر ہوا جبکہ مسلسل خطرات کے پیش نظر کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پروازوں کی سرگرمیاں معطل کر دی گئیں۔ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے ہفتے کے روز کہا کہ اردن میں امریکی فوج کے زیر استعمال الازرق ائیر بیس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ آئی آر جی سی نے اس سے قبل دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے کویت میں واقع کیمپ عریفجان میں امریکی فوجی معاونت کے ایک مرکز کو نشانہ بنایا اور علی السالم ایئر بیس پر موجود ایک ریڈار تنصیب تباہ کر دی۔ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق بحرین میں بھی پاسدارانِ انقلاب نے شیخ عیسیٰ ایئر بیس پر موجود اس مقام کو نشانہ بنایا جہاں امریکی جنگی طیارے موجود تھے، جبکہ ایک انٹیلی جنس ڈیٹا سینٹر پر بھی حملے کا دعویٰ کیا گیا۔خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔جمعے کے روز دونوں ممالک نے بحری نقل و حمل کو بھی نشانہ بنایا۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ ایرانی پانیوں میں بحری ناکہ بندی نافذ کر رہا ہے جبکہ ایران نے دعویٰ کیا کہ اس نے آبنائے ہرمز میں ان بحری جہازوں کو نشانہ بنایا، جو اس کے مقرر کردہ قواعد کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل سپلائی کے لیے انتہائی اہم آبی گزرگاہ ہے۔اس کشیدگی کے باعث جمعے کو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں چار فیصد سے زائد بڑھ گئیں اور ایک ماہ سے زیادہ عرصے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ہفتے کی صبح آبنائے ہرمز کے قریب صوبہ ہرمزگان کے شہر جاسک میں بجلی کی تنصیبات اور پانی صاف کرنے والے پمپوں پر میزائل حملے ہوئے، جس کے نتیجے میں تقریباً 20 دیہات کے 10 ہزار افراد پانی سے محروم ہو گئے۔دوسری جانب کویت کی وزارت بجلی، پانی اور قابل تجدید توانائی نے تصدیق کی کہ ایرانی حملے میں ایک بجلی پیدا کرنے اور پانی صاف کرنے کا پلانٹ متاثر ہوا۔ دو روز کے دوران کویت کے پانی صاف کرنے والے مراکز پر یہ دوسرا حملہ ہے۔ادھر امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ اس نے مسلسل ساتویں روز ایران میں نگرانی کے نظام، فوجی لاجسٹک تنصیبات، زیرِ زمین اسلحہ گوداموں اور بحری صلاحیتوں کو نشانہ بنایا۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرش نے اس بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خاص طور پر ایران اور پورے خطے میں شہری تنصیبات پر حملوں کو خطرناک قرار دیا۔ایرانی میڈیا کے مطابق ہفتے کی صبح ہرمزگان صوبے میں ہونے والے امریکی حملوں میں تین افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوئے، جبکہ دو پلوں اور ایک سرنگ کو نقصان پہنچا۔ایک روز قبل ایرانی سرکاری میڈیا نے بتایا تھا کہ جنوبی ایران میں کم از کم پانچ پل امریکی حملوں میں تباہ ہوئے۔ بندر خامیر میں پلوں پر حملوں کے نتیجے میں سات افراد ہلاک بھی ہوئے جبکہ وہاں ریلوے اسٹیشن بھی متاثر ہوا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے بنیادی ڈھانچے پر مزید وسیع فضائی حملوں کی دھمکی دے چکے ہیں اور انہوں نے ایران کے ساحلی علاقوں یا جزیروں پر زمینی کارروائی کے امکان کو بھی مسترد نہیں کیا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جنوبی ایران پر حملوں کا مقصد صدر ٹرمپ کو مختلف عسکری آپشنز فراہم کرنا بھی ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق ایسی کارروائیاں ایران کو خلیجی ممالک کے اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے یا یمن میں اپنے اتحادیوں کے ذریعے بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر مزید حملے کرنے پر اکسا سکتی ہیں، جس سے عالمی توانائی کی سپلائی مزید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔