ماہِ رمضان
مقدس کیا مہینہ آگیا ہے
طہارت کا قرینہ آگیا ہے
درخشاں ہوگئی جنت زمیں پر
منور ہو گئے ایماں جبیں پر
سبھی ہیں رشک میں عرش ِ بریں پر
ہوئی خلدِ بریں مہماں زمیں پر
حسیں در رحمتوں کے سب کھلے ہیں
نصیبوں سے یہ دن پھر اب ملے ہیں
نزولِ رحمت ِرب کی عطا ہے
یہی ماہِ کرم ماہِ سخا ہے
پیامِ رب کو ہی رمضان کہئے
کہ رب کا تحفہ ٔ قرآن کہئے
عبادت میں بھی پنہاں راحتیں ہیں
حسیں شام و سحر میں لذتیں ہیں
جو تقویٰ کا سکھاتا ہے تقدس
وہی پھر آیا ہے ماہِ مقدس
دلِ صائم میں رہتا ہے مدینہ
نہیں وہ طالب ِ مال و نگینہ
ادا صائم کی بھاتی ہے خدا کو
وہ کرتا ہے قبول اس کی دعا کو
الٰہی سب لبوں پہ یہ دعا ہو
ترے در سے جو مانگے سب عطا ہو
معینؔ ایسی مبارک یہ گھڑی ہو
سبھی پر رحمتوں کی پھر جھڑی ہو
معین فخر معین
موبائل نمبر؛003443837244
میں روزہ دار ہوں
دل میں سرور آگیا میں روزہ دار ہوں
چہرے پہ نور چھا گیا میں روزہ دار ہوں
من پہ ہے اختیار بھی،چاہت رکی ہوئی
لذت سے ہے فرار بھی، آنکھیں جھکی ہوئی
سجدوں سے آج پیار بھی، مسجد سجی ہوئی
روح پہ نئی بہار بھی، خواہش جمی ہوئی
یہ ماہ بہت بھا گیا، میں روزہ دار ہوں
چہرے پہ نور چھا گیا میں روزہ داروں ہوں
ہر سمت خوشبوئیں ہیں بازار سج گئے
مالک کی رحمتیں ہیں دربار سج گئے
دل دل میں اُلفتیں ہیں گھر بار سج گئے
دامن میں برکتیں ہیں سنسار سج گئے
واللہ میں سکوں پا گیا میں روزہ دار ہوں
چہرے پہ نور چھا گیا میں روزہ دار ہوں
ہر نفس پاک وصاف سا ہونے لگا ہے آج
اپنا بھی دل شفاف سا ہونے لگا ہے آج
ہر اک گناہ معاف سا ہونے لگا ہے آج
ذرہ بھی کوہ ِ کاف سا ہونے لگا ہے آج
شیطان تو گھبرا گیا میں روزہ دار ہوں
چہرے پہ نور چھا گیا میں روزدار ہوں
مالک سے لو لگا کے مجھے آگیا سکوں
اپنا نفس بُجھا کے مجھے آگیا سکوں
داغ ِگناہ مٹا کے مجھے آگیا سکوں
نامِ فلکؔ پہ جاکے مجھے آگیا سکوں
رب کے قریب آگیا میں روزہ دار ہوں
چہرے پہ نور چھا گیا میں روزہ داروں
فلک ریاض
حسینی کالونی چھتر گام،کشمیر
موبائل نمبر؛6005513109