ہر اِک کو زخم جگر کے دکھا نہیں سکتے
جو دل پہ گذری ہو سب کو سُنا نہیں سکتے
کسی کو دل کے خزانے دِکھا نہیں سکتے
سبھی کو رازِ محبت بتا نہیں سکتے
وہ نغمے سب نے کبھی ساتھ مل کے گائے تھے
جو چاہیں بھی تو کبھی پھر سے گا نہیں سکتے
بہت سے ایسے خزانے ملے ہمیں یونہی
جو چاہ کر بھی کسی کو بتا نہیں سکتے
بدل رہا ہے زمانے میں رنگ و بُو کا مزاج
ہم اپنی چاہ کی دنیا بسا نہیں سکتے
تم اپنے دل کی کہانی بدل نہیں سکتے
نصیب میں جو لکھا ہے مِٹا نہیں سکتے
جو بجھ چکے ہیں دیئے اُن کو یونہی رہنے دو
نئے چراغ ہوا میں جلا نہیں سکتے
پُرانے وقتوں کو پھر یاد مت کرو جاویدؔ
گذر چکے ہیں جولمحے بھلا نہیں سکتے
جاوید شبیر
راولپورہ، سرینگر
موبائل نمبرـ؛9419011881
زندگی دشوار ہے، چلتے رہو
حوصلہ سالار ہے، چلتے رہو
گردشِ ایّام سے گھبراؤ مت
صبر ہی دستار ہے، چلتے رہو
ہے اندھیرا چار سو پھیلا ہوا
دل مگر مینار ہے، چلتے رہو
رک گئے تو فاصلے بڑھ جائیں گے
وقت خود رفتار ہے، چلتے رہو
خوف کی دیوار آخر گر پڑے
حوصلہ بیدار ہے، چلتے رہو
اپنے حصے کی شمع جلتی رہے
روشنی کردار ہے، چلتے رہو
راہِ حق میں سر اگر کٹنا پڑے
یہ بھی اک ایثار ہے، چلتے رہو
سر جھکانے سے اگر ملتی ہو جاں
ایسی جاں بیکار ہے، چلتے رہو
خاک اُڑتی ہے تو اُڑنے دیجئے
یہ بھی اک رفتار ہے، چلتے رہو
منزلیں خود ڈھونڈ لیتی ہیں اُسے
جس کا دل بیدار ہے، چلتے رہو
ابتلا کی دھوپ سے گھبراؤ مت
صبر برگ و بار ہے، چلتے رہو
آئینہ ٹوٹے تو لہجہ مت بدل
سچ بڑا خوددار ہے، چلتے رہو
سر اٹھا کر جینے والوں کے لیے
ہر زمانہ خوار ہے، چلتے رہو
آگہی کو اپنی یاور زندہ رکھ
علم ہی ہتھیار ہے، چلتے رہو
یاور حبیب ڈار
بڈکوٹ ہندوارہ، کپوارہ، کشمیر
موبائل نمبر؛6005929160
وہ مجھ پہ مہربان بہت دیر تک رہا
مجھ کو یہی گمان بہت دیر تک رہا
اے صاحبو! نہ جاؤ مری جھونپڑی پہ تم
میں صاحبِ مکان بہت دیر تک رہا
اب اس کی لاش کیلئے کاندھے بھی کم پڑے
جو شہر بھر کی جان بہت دیر تک رہا
دردِ شب فراق کا کیا تذکرہ کریں
جاری وہ امتحان بہت دیر تک رہا
ہاں جان بچ گئی مری لفظوں کے وار سے
دل پر مگر نشان بہت دیر تک رہا
دادی تو کچھ روایتوں کو ساتھ لے گئیں
پر گھر میں پان دان بہت دیر تک رہا
افراد جس کے آج ہیں کاسہ لئے ہوئے
حاکم وہ خاندان بہت دیر تک رہا
رخصت میں کر گیا اسے اور اس کے بعد پھر
تکتا میں آسمان بہت دیر تک رہا
کوثرؔ اسی نے جان کا سودا کیا تری
جو تیرا جانِ جان بہت دیر تک رہا
سید کوثرؔ بُخاری
چیوڑارہ بیروه بڈگام ، کشمیر
موبائل نمبر؛9682645166
لوگ کب ناحق کسی سے بد گماں ہو جاتے ہیں
بھید کُھل جانے پہ سب چہرے عیاں ہو جاتے ہیں
زندگی میں شاذ و نادر ہی ہوا کرتا ہے یہ
ساتھ جو بیتیں وہ پل پیوستِ جاں ہو جاتے ہیں
جن کی فطرت کو خدا نے کر دیا حاتم مزاج
وہ غریبوں مفلسوں پر مہربان ہو جاتے ہیں
وقت کی رفتار سے ہیں سب کہاں نا آشنا
لیک چند ہی لوگ مشہورِ زماں ہو جاتے ہیں
اوس کے قطروں سے میں ارشادؔ پاتا ہوں سراغ
یوں میرے جذبات تر ہو کر جواں ہوجاتے ہیں
ارشاد علی ارشاد
مہو بانہال ضلع رام بن، جموں
موبائل نمبر؛9906205535
کسی پہ اعتبار تھا کسی پہ تھا یقین کم
کبھی عذاب سے لگے بڑوں کے قاعدے نیم
نہ میں کسی کا خواب ہوں نہ تم کسی کی آرزو
ادھوری زندگی یہاں ادھورے آپ اور ہم
یہاں نہ چین ہے سکون ہے نہ اطمینان ہے
یہ راستے ہیں پیار کے ذرا سنبھالئے قدم
یہ زندگی کبھی کہاں چلی میرے حساب سے
اسی کا نام زندگی خوشی کے ساتھ ساتھ غم
تباہ ہوا ہوں میں فقط تمہارے ایک جھوٹ سے
یہ اور بات ہے تمہیں خبر تلک نہیں صنم
سزا سُنا تو دی مگر میرا قصور تو بتا
کہیں اِسی خیال میں میرا نکل نہ جائے دم
مشکورؔ تماپوری
تماپور ،کرناٹک
اس لئے خوش رہنے کی عادت لگ گئی ہے
ہمیں درد سہنے کی عادت لگ گئی ہے
حال ٹھیک تو نہیں ہے ربّا مگر پھر بھی
الحمدللہ کہنے کی عادت لگ گئی ہے
بہت روکتی ہیں آنکھیں اُنھیں لیکن
آنسوئوں کو بہنے کی عادت لگ گئی ہے
کیا محل بنائیں گے خوابوں سے ہم کہ
خوابوں کو ڈھنے کی عادت لگ گئی ہے
آشفتہؔ کو پسند نہیں اُداس رہنا
بس اُداس رہنے کی عادت لگ گئی ہے
عاشق آشفتہ سرازی
کاستی گڑھ،ڈوڈہ، جموں
موبائل نمبر؛6005260724
اب نہیں وہ، اُن کے ہیں آثار باقی، کیا کہیں ہم
اب کہاں دِل، اب کہاں دلدار باقی، کیا کہیں ہم
اب تو یوں بھی یاد میں تیری بُھلایا ہم نے تجھ کو
اب محبت کا نہ کاروبار باقی، کیا کہیں ہم
آسماں نے یوں بدل ڈالا سبھی کچھ، تھا مرا جو
اب نہ میں ہوں، نہ مرے اطوار باقی، کہا کہیں ہم
تھی مجبت کیا ہوا پھر یار کا دِل کچھ نہ پوچھو
وہ ملے نہ، حسرتِ دیدار باقی، کیا کہیں ہم
شادماں تھا دِل کبھی جب ساتھ تھے تم یار صورتؔ
وہ گئے دن، اَب فقط آزاد باقی، کیا کہیں ہم
صورت سنگھ
رام بن، جموں
موبائل نمبر؛9622304549
اداس دل ہے بہت کوئی بات کہہ دیجئے
بسر ہو درد و غم کی یہ رات کہہ دیجئے
میں بھی رکھ لوں گا سلیقے سے دعا برلب
تو بھی آمین اٹھا کے ہاتھ کہہ دیجئے
ہے تیرے پاس اب نہ آنے کا بہانہ کوئی
دھوپ، پہرے ہیں نہ برسات کہہ دیجئے
طعنہ زن ہےمیری بربادی پہ جہاں مولا
کب بدل جائیں گے میرے حالات کہہ دیجئے
میں ابھی درد کے دوزخ سے نہیں گزرا واعظ
تم کسی اور سے جنت کی بات کہہ دیجئے
پوچھتی ہےپرانے گھر کی شکستہ دہلیز
کیا سکوں بخش ہیں شہر کے محلات کہہ دیجئے
کون سمجھا ہے بے بسی میں خاموشی میری
اشک ریزی نہ اشعار و شکایات کہہ دیجئے
لازمی تھا کہ تجھے بھول جاتے ستاتے ہم بھی
مرزا ارشاد منیب کی ہے الگ ذات کہہ دیجئے
مرزاؔ ارشاد منیب
بیروہ بڈگام، کشمیر
موبائل نمبر؛9906486481