سوچو گے دوسروں کے لئے تو سوچو ہوبہو
بات کرنی ہے کسی کی تو کر لو روبَرو
نہیں کوئی کسی سے اس جہاں میں کمتر
مانو کسی کو‘ تو مانو اپنے سے خوب رو
ہستی اپنی پہ کیا گماں، کُلُّ مَن ’ علیھَا فاَنٍ
گر ہے ندامت کی زندگی ، تو رہو سُرخرو
کتنے گئی جو یاد نہیں ، کچھ اب بھی ہیں زندہ
کرنی کا پھل میٹھا بنا،اِسی میں تیری آبرو
تنہاؔ درد دِل کے واسطے کا م کر توشب و روز
با ہیں پیھلا دے اپنی لے چمن کی خوشبو
قاضی عبدالرشید تنہا
چھانہ پورہ، سرینگر، کشمیر