نعت رسول ؐ
ہے نوک قلم لرزاں کیسے میں بھلا لکھوں
ہے بس میں نہیں میرے میں ان کی ثنا لکھوں
اُس ذات مقدس کی خود رب نے ستائش کی
اب اور میں کیا لکھوں حیراں ہوں کہ کیا لکھوں
الفاظ و معانی کے دامن میں نہیں وسعت
تعریف میں کیا لکھوں توصیف میں کیا لکھوں
وہ افضل و اعلیٰ ہیں وہ برتر و بالا ہیں
وہ ذات بڑی سب سے ہے رب کے سوا لکھوں
سورج کی چمک لکھوں تاروں کی دمک لکھوں
زہرہ کی جھلک لکھوں یا نور ہدىٰ لکھوں
پھولوں کی مہک لکھوں خوشبو کی لہک لکھوں
یا بوئے ملک لکھوں یا بوئے حنا لکھوں
پُر کیف فضا لکھوں جنت کی ہوا لکھوں
اک کالی گھٹا لکھوں یا بادِ صبالکھوں
مظلوم کی جاں لکھوں بے گھر کی اماں لکھوں
بیکس کی فغاں لکھوں یا دل کی دوا لکھوں
آہوں کی صدا لکھوں محبوبِ وفا لکھوں
اُلفت کی ادا لکھوں یا عشقِ بقا لکھوں
خالق کی عطا لکھوں یا رب کی رضا لکھوں
ممکن ہی نہیں ندویؔ میں اُن کی ثنا لکھوں
عبد السبحان ندوی
پیمنتلا سٹریٹ کولکتہ
موبائل نمبر؛9831452849
سلام
بتا دو اس کو جو پوچھے کوئی کہ کیا ہیں حسینؓ
بُھلایا جا نہ سکے جو وہ سانحہ ہیں حسینؓ
ملے گا حشر میں ذبحِ عظیم کا رتبہ
مقامِ عزمِ مصمم کا آئینہ ہیں حسینؓ
پہنچ نہ پائیں گی اس کی ندامتیں اُن تک
یزید ڈھونڈتا پھرتا ہے، ماورا ہیں حسینؓ
بچے گا حشر تک اب خانوادۂ اسلام
کہ مصطفیٰؐ کے گلستان کی بقا ہیں حسینؓ
وہ تیر کھائی ہنسی سے بدل گئی تاریخ
کہ شیر خوار میں بھی عکسِ حوصلہ ہیں حسینؓ
مٹانا اُن کو تجھے پڑ گیا بہت مہنگا
یزید یاد رہے خود تری قضا ہیں حسین
سنانِ ظلم پہ بھی ذکرِ رب رہا جاری
کٹے سے سر کی تلاوت کا معجزہ ہیں حسینؓ
اِسی کی لاج بچانے کو گھر لُٹا ڈالا
نبی کے دینِ مقدس کا آسرا ہیں حسینؓ
ذکی طارق بارہ بنکوی
سعادتگنج، بارہ بنکی، یوپی، انڈیا