آورلوڈ گاڑیاں، خستہ حال سڑک اور لاپرواہی کسی بڑے سانحے کو دعوت، عوام میں شدید تشویش
ایم شفیع میر
گول/سب ڈویژن گول کو بھیمداسہ سے جوڑنے والی اہم سڑک اس وقت شدید خطرات کی علامت بنی ہوئی ہے جہاں ایک طرف خستہ حال اور انتہائی تنگ سڑک عوام کیلئے دردِ سر بن چکی ہے، وہیں دوسری جانب بعض لالچی اور غیر ذمہ دار ڈرائیوروں کی جانب سے آورلوڈنگ کا سلسلہ مسلسل جاری رہنے سے مقامی لوگوں میں خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ گول۔بھیمداسہ سڑک پر ’’موت کا ننگا ناچ‘‘ جاری ہے لیکن متعلقہ حکام خوابِ غفلت میں مبتلا دکھائی دے رہے ہیں۔
مقامی باشندوں کے مطابق روزانہ مسافر گاڑیاں مقررہ تعداد سے کہیں زیادہ سواریاں بٹھا کر اس خطرناک سڑک پر سفر کر رہی ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ ڈرائیور محض چند اضافی کرایوں کی خاطر انسانی جانوں کو داؤ پر لگا رہے ہیں جبکہ متعلقہ محکمہ اور ٹریفک حکام کی خاموشی سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ عوام نے الزام عائد کیا کہ کئی بار معاملہ اجاگر کرنے کے باوجود آورلوڈنگ کے خلاف کوئی سنجیدہ کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔
علاقے کے مکینوں کا کہنا ہے کہ گول۔بھیمداسہ سڑک کئی مقامات پر اس قدر تنگ ہے کہ دو گاڑیوں کا بیک وقت گزرنا انتہائی دشوار ہو جاتا ہے۔ بعض مقامات پر معمولی سی لاپرواہی یا گاڑی کا ذرا سا توازن بگڑنے کی صورت میں گاڑی سینکڑوں فٹ گہری کھائی میں جا گرنے کا خدشہ رہتا ہے۔ مقامی افراد کے مطابق سڑک کے کناروں پر حفاظتی دیواریں نہ ہونے کے برابر ہیں جبکہ خطرناک موڑوں پر وارننگ سائن بورڈز کی بھی شدید کمی ہے۔
لوگوں نے بتایا کہ حالیہ بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث سڑک کی حالت مزید ابتر ہو چکی ہے۔ متعدد جگہوں پر سڑک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے جبکہ مٹی اور پتھروں کے ڈھیر سفر کو مزید خطرناک بنا رہے ہیں۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ برسوں گزرنے کے باوجود اس اہم رابطہ سڑک کی کشادگی اور مناسب مرمت کیلئے کوئی جامع منصوبہ عمل میں نہیں لایا گیا جس کی وجہ سے روزانہ سینکڑوں مسافروں کی زندگیاں خطرے میں پڑی ہوئی ہیں۔لوگوں کے مطابق اگر بروقت سخت اقدامات نہ کئے گئے تو مستقبل قریب میں کوئی بڑا سانحہ پیش آ سکتا ہے جس میں قیمتی انسانی جانوں کے ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔
بھیمداسہ واسیوں نے انتظامیہ، ٹریفک پولیس اور متعلقہ محکموں سے فوری مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ آورلوڈنگ میں ملوث ڈرائیوروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے اور سڑک کی فوری مرمت و کشادگی کو یقینی بنایا جائے۔ لوگوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ خطرناک مقامات پر حفاظتی دیواریں، مناسب سائن بورڈز اور دیگر حفاظتی انتظامات کئے جائیں تاکہ انسانی جانوں کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔
عوام نے بالخصوص رکن اسمبلی سجاد شاہین سے اپیل کی ہے کہ وہ ذاتی دلچسپی لے کر اس سنگین مسئلے کا فوری نوٹس لیں اور متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کریں تاکہ کسی بڑے سانحے سے قبل عوام کو راحت فراہم کی جا سکے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر اب بھی صورتحال کو نظر انداز کیا گیا تو کسی بھی وقت ایک المناک حادثہ پیش آ سکتا ہے جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام اور انتظامیہ پر عائد ہوگی۔