ایجنسیز
واشنگٹن// امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کو بیروت پر بڑے حملے سے باز رہنے پر آمادہ کیا، جس کے بعد اسرائیلی رہنما نے اپنی فوج کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا۔ٹرمپ نے پیر کی شام اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر یہ اعلان کیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو انتہائی کشیدہ اور گرما گرم تھی۔ٹرمپ نے لکھا،’’میں نے آج (پیر کو) بی بی نیتن یاہو سے بات کی اور ان سے کہا کہ لبنان کے دارالحکومت بیروت پر بڑا حملہ نہ کریں۔ انہوں نے اپنی فوج واپس موڑ لی۔ شکریہ بی بی۔‘‘یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا جب ایران نے لبنان پر اسرائیلی حملوں کے باعث امریکہ کے ساتھ جاری مذاکرات ختم کرنے کی دھمکی دی تھی۔ اس سے قبل نیتن یاہو نے کہا تھا کہ اگر حزب اللہ نے اسرائیل پر حملے بند نہ کیے تو اسرائیل بیروت میںدہشت گردی کے اہداف کو نشانہ بنائے گا۔ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انہوں نے حزب اللہ کی قیادت کے نمائندوں سے بات کی، جنہوں نے اسرائیل اور اس کے فوجیوں پر فائرنگ بند کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔انہوں نے کہا،’’میں نے حزب اللہ کے رہنماؤں کے نمائندوں سے بھی بات کی، اور انہوں نے اسرائیل اور اس کے فوجیوں پر فائرنگ روکنے پر اتفاق کیا۔ اسی طرح اسرائیل نے بھی ان پر حملے روکنے پر رضامندی ظاہر کی۔ اب دیکھتے ہیں یہ صورتحال کتنی دیر برقرار رہتی ہے۔ امید ہے ہمیشہ کے لیے۔‘‘امریکی میڈیا ادارے ایکسوس کے مطابق ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان گفتگو کے دوران شدید تلخی پیدا ہوگئی تھی۔رپورٹ کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو سے سخت لہجے میں کہا،’’تم پاگل ہو چکے ہو۔ اگر میں نہ ہوتا تو تم جیل میں ہوتے۔ میں تمہیں بچا رہا ہوں۔ اب ہر کوئی تم سے نفرت کرتا ہے، اور اسرائیل سے بھی۔‘‘ایک دوسرے ذریعے کے مطابق ٹرمپ شدید ناراض تھے اور ایک موقع پر انہوں نے چیخ کر کہا،’’آخر تم کر کیا رہے ہو؟‘‘ایک اور عہدیدار نے بتایا کہ فون کال کے دوران ٹرمپ نے نیتن یاہو پر مکمل دباؤ ڈالا، جس کے بعد نیتن یاہو نے جواب دیا،’’ٹھیک ہے، ٹھیک ہے، بس یہ یقینی بنائیں کہ سب کچھ سنبھال لیا جائے۔‘‘اس سے قبل ٹرمپ نے گفتگو میں کہا کہ انہیں مذاکرات معطل کرنے کے فیصلے سے پہلے آگاہ نہیں کیا گیا تھا، تاہم اگر فریقین نے بات چیت ختم بھی کر دی ہے تو یہ کوئی مسئلہ نہیں۔
انہوں نے کہا،’’یہ کہنا مناسب ہے، کیونکہ وہ جنگجوؤں سے زیادہ اچھے مذاکرات کار ہیں۔‘‘ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکہ فوری طور پر دوبارہ بمباری شروع کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔یاد رہے کہ ہفتے اور پیر کے دوران امریکی افواج اور ایران کے درمیان حملوں کا تبادلہ ہوا، جس سے تقریباً دو ماہ قبل طے پانے والی جنگ بندی خطرے میں پڑ گئی۔اگرچہ جنگ بندی برقرار ہے، تاہم اسرائیل لبنان میں اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے، اور گزشتہ ہفتے کے آخر میں اسرائیلی افواج نے گزشتہ 26 برسوں میں لبنان کے اندر اپنی سب سے گہری پیش قدمی کی۔