ایجنسیز
بنکاک//تھائی لینڈ کے سابق وزیر اعظم تھاکسن شنواترا نے بدھ کو اپنی جیل کی سزا سے متعلق تمام قانونی ذمہ داریوں کو باضابطہ طور پر مکمل کر لیا ہے۔ شاہی معافی ملنے کے بعد ان کی 4 مہینے کی پیرول وقت سے قبل ختم کر دی گئی ہے۔ 2 دہائیوں سے زیادہ وقت تک تھائی سیاست میں ایک بااثر شخصیت رہے 76 سالہ ارب پتی اور معروف لیڈر کو گزشتہ ماہ بینکاک کی جیل سے رہا کیا گیا تھا۔ تب سے اس بات کا اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ وہ برسراقتدار اتحاد میں شامل ’پھیو تھائی پارٹی‘ پر اپنا مضبوط اثر و رسوخ برقرار رکھ سکتے ہیں۔ حالانکہ ان کے اہل خانہ نے کہا کہ وہ سیاست سے پیچھے ہٹنا چاہتے ہیں۔تھائی لینڈ کے بادشاہ مہا واچیرالونگ کورن کی جانب سے جاری کردہ معافی کا حکم نامہ منگل کی دیر رات رائل گزٹ میں شائع ہوا۔ یہ آج سے نافذ العمل ہو گیا۔ واضح رہے کہ تھائی لینڈ ایک آئینی بادشاہت ہے، جس میں بادشاہ کو سزا یافتہ مجرموں کی معافی کے بارے میں حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ بادشاہ کا یہ فیصلہ ملکہ ستیدا کے یوم پیدائش کے موقع پر لیا گیا تھا۔ یہ مخصوص شرائط کو پورا کرنے والے اہل مجرموں پر بڑے پیمانے پر نافذ ہوا۔ تھاکسن مکمل رہائی کے اہل تھے، کیونکہ انہیں پیرول پر رہا کیا گیا تھا اور ان کی سزا میں ایک سال سے کم کا وقت بچا تھا۔واضح رہے کہ تھاکسن ٹیلی کمیونیکیشن کے ایک بڑے کاروباری تھے، جنہوں نے 1998 میں اپنی سیاسی پارٹی قائم کی تھی۔ انہوں نے 2001 سے 2006 تک وزیر اعظم کے طور پر خدمات انجام دیں، جس کے بعد ان کے بیرون ملک قیام کے دوران ایک فوجی بغاوت کے ذریعے انہیں اقتدار سے بے دخل کر دیا گیا تھا۔ شنواترا کے اقتدار سے بے دخل ہونے کے تقریباً 2 دہائیوں تک سیاسی پولرائزیشن برقرار رہی۔
حالانکہ ان کی خود ساختہ جلاوطنی کے دوران بھی ان سے وابستہ پارٹیاں بار بار اقتدار میں لوٹتی رہیں۔ ان کی عوامی مقبولیت پر مبنی پالیسیوں کو غریب ووٹرس (خاص طور پر دیہی شمالی اور شمال مشرقی علاقوں میں) کی بھرپور حمایت حاصل ہوئی۔ لیکن ان کی مقبولیت اور بعض اوقات ان کے سخت رویے نے ان کے حامیوں اور ملک کے شہری اشرافیہ، شاہی خاندان کے حامیوں اور فوج کے درمیان گہری خلیج پیدا کر دی۔تھاکسن کو بدعنوانی سے متعلق الزامات کے تحت ایک سال کی سزا کے 8 ماہ گزارنے کے بعد 11 مئی کو رہا کیا گیا تھا۔ ان کی پیرول کی شرائط کے تحت، انہیں ایک الیکٹرانک مانیٹرنگ بریسلیٹ پہننا لازمی تھا اور اصل شیڈول کے مطابق انہیں 4 ماہ تک پیرول پر رہنا تھا۔ شنواترا کے وکیل نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو تصدیق کی کہ تھاکسن اپنے قانونی پابندیوں سے پوری طرح آزاد ہو چکے ہیں۔ حالانکہ انہوں نے کہا کہ ان کا بریسلیٹ ہٹانے کے لیے کچھ پروسیس ہیں، جن میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔ انہیں اپنے ذاتی کاروباری مفادات کو فائدہ پہنچانے کے لیے اپنے عہدے کا استعمال کرنے اور حکومت کو نقصان پہنچانے والے ایک سرکاری لاٹری منصوبے کی غیر قانونی منظوری دینے کے الزامات میں قصوروار ٹھہرائے جانے کے بعد جیل بھیجا گیا تھا۔قابل ذکر ہے کہ تھاکسن شنواترا کو بنیادی طور پر 2023 میں 8 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی، لیکن بادشاہ نے سزا کو کم کر کے ایک سال کر دیا تھا۔ انہیں طبی بنیادوں پر بینکاک کے پولیس اسپتال کے ایک کمرے میں سزا پوری کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ غیر مناسب خصوصی مراعات حاصل کرنے کے خلاف احتجاج کے بعد سپریم کورٹ نے ستمبر 2025 میں تھاکسن کو جیل میں اپنی سزا کاٹنے کا حکم دیا تھا۔