عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/ جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے منشیات کی اسمگلنگ کو ”خاموش دہشت گردی“ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ منشیات فروش قوم کے دشمن ہیں اور ان کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے گی۔
اتوار کے روز سری نگر کے ٹی آر سی فٹبال گراؤنڈ میں”نشہ مکت جموں و کشمیر ابھیان“ کے تحت منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ محض 22 دنوں میں یہ مہم عوامی تحریک کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ جنگ ہر گھر، ہر محلے اور ہر گلی میں لڑی جا رہی ہے جہاں منشیات نوجوانوں کی زندگیاں تباہ کر رہی ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ منشیات کے خلاف لیا گیا عہد محض علامتی نہیں بلکہ والدین کے درد، خاندانوں کی بے چینی اور اساتذہ کی فکر کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب عوام نے فیصلہ کر لیا ہے کہ “بہت ہوا، اب اور نہیں ہوگا”۔
منوج سنہا نے کہا کہ وہ جموں صوبے کے آٹھ اضلاع کا دورہ کر چکے ہیں جہاں لوگوں نے ایک ہی مطالبہ کیا کہ ہمیں اپنے بچے واپس چاہئیں، ہمیں اپنا مستقبل واپس چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آج وہ کشمیر آئے ہیں تاکہ یہ پیغام دیں کہ ہر قیمت پر مستقبل واپس لایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ منشیات کی اسمگلنگ کا تعلق دہشت گردی سے بھی ہے۔ ان کے مطابق سرحد پار بیٹھے عناصر منشیات کے پیسے سے دہشت گردی کو فروغ دے رہے ہیں اور ہتھیار خریدے جا رہے ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے بتایا کہ 11 اپریل سے 100 روزہ مہم شروع کی گئی ہے جس کے 78 دن باقی ہیں۔ اس مہم کا مقصد ہر شہری کو اس جدوجہد میں شامل کرنا ہے تاکہ جموں و کشمیر کو منشیات سے پاک سماج بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ انتظامیہ تین محاذوں پر کام کر رہی ہے، جن میں سپلائی چین توڑنا، عوامی بیداری پیدا کرنا اور نشے کے عادی افراد کی بازآبادکاری شامل ہے۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ عوامی تعاون سب سے بڑا ہتھیار ہے۔
اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 11 اپریل سے 2 مئی تک 481 ایف آئی آر درج کی گئیں، 518 منشیات فروش گرفتار کیے گئے، 24 منشیاتی جائیدادیں ضبط کی گئیں جبکہ تقریباً 300 ڈرائیونگ لائسنس معطل کیے گئے۔ اس کے علاوہ 5 پاسپورٹ منسوخ، 325 گاڑیاں ضبط اور 3000 سے زائد میڈیکل اسٹوروں کی جانچ کی گئی۔ 107 لائسنس معطل کیے گئے اور ایک کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ منشیات فروشوں کی تصاویر تمام تھانوں میں آویزاں کی جائیں گی اور مفرور افراد کے خلاف نوٹس جاری کیے جا رہے ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے واضح کیا کہ جہاں جرم ثابت ہوگا وہاں کوئی رعایت نہیں دی جائے گی، تاہم بے گناہوں کو نہیں چھیڑا جائے گا۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ انتظامیہ کی آنکھ اور کان بنیں، منشیات فروشوں کی فہرستیں تیار کریں اور پولیس و سول انتظامیہ سے تعاون کریں۔
انہوں نے مذہبی رہنماؤں، ائمہ مساجد، اساتذہ، خواتین اور نوجوانوں سے بھی اس مہم میں فعال کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔
نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ منشیات لینا کوئی فخر کی بات نہیں، جو نوجوان اس لعنت میں پھنس گئے ہیں وہ متاثرین ہیں اور انہیں علاج اور ہمدردی کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کو منشیات سے پاک بنانے کا عہد کیا جا چکا ہے اور یہ مقصد ہر صورت حاصل کیا جائے گا۔
منشیات فروش قوم کے دشمن، سخت کارروائی کا سامنا کریں گے: ایل جی منوج سنہا