سمت بھارگو
راجوری//ضلع راجوری کے گھمبیر مغلاں علاقے کے دھوری مہل میں جاری انسدادِ دہشت گردی آپریشن کے تحت سیکورٹی فورسز کی جانب سے محاصرہ اور تلاشی کارروائی بدھ کے روز مسلسل بارہویں دن بھی جاری رہی۔ گھنے جنگلاتی علاقے میں ملی ٹینٹوں کی موجودگی کی اطلاع کے بعد سیکورٹی ایجنسیوں نے پورے علاقے کو سخت حفاظتی حصار میں لے رکھا ہے اور بڑے پیمانے پر تلاشی مہم چلائی جا رہی ہے۔ذرائع کے مطابق سیکورٹی فورسز کو شبہ ہے کہ چند ملی ٹینٹ اب بھی علاقے کے گھنے جنگلات میں چھپے ہوئے ہیں، جن کی تلاش کے لیے فوج، پولیس اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کی مشترکہ ٹیمیں مسلسل کارروائیاں انجام دے رہی ہیں۔ آپریشن انتہائی دشوار گزار اور جنگلاتی علاقے میں جاری ہے، جہاں فورسز کو ہر قدم پر احتیاط کے ساتھ پیش قدمی کرنی پڑ رہی ہے۔اطلاعات کے مطابق سیکورٹی فورسز نے پورے علاقے میں سخت محاصرہ قائم کر رکھا ہے تاکہ کسی بھی مشتبہ نقل و حرکت کو روکا جا سکے۔
فورسز جدید آلات اور نگرانی کے نظام کی مدد سے پورے خطے پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں، جبکہ حساس مقامات پر اضافی نفری بھی تعینات کی گئی ہے۔بدھ کے روز آپریشن کے مقام سے وقفے وقفے سے چھوٹے ہتھیاروں کی فائرنگ اور زوردار دھماکوں کی آوازیں بھی سنائی دیں، جس سے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ علاقے میں سیکورٹی فورسز اور ملی ٹینٹوںکے درمیان سرگرمیاں جاری ہیں۔ تاہم حکام کی جانب سے کسی جانی نقصان یا تازہ تصادم کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی ہے۔سیکورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے مکمل خاتمے اور علاقے میں امن و امان کی بحالی تک آپریشن جاری رکھا جائے گا۔ فورسز جنگی بنیادوں پر کارروائی انجام دے رہی ہیں تاکہ خطے کو دہشت گردی کے خطرے سے مکمل طور پر پاک کیا جا سکے۔مقامی انتظامیہ اور سیکورٹی ایجنسیوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر توجہ نہ دیں اور سیکورٹی فورسز کے ساتھ تعاون کریں۔ ساتھ ہی لوگوں کو حساس علاقوں کی جانب جانے سے گریز کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچا جا سکے۔واضح رہے کہ ڈوری مال اور ملحقہ جنگلاتی علاقوں میں گزشتہ کئی دنوں سے سیکورٹی فورسز کی وسیع پیمانے پر کارروائیاں جاری ہیں، جن کا مقصد دہشت گردوں کی موجودگی کا خاتمہ اور علاقے میں مکمل امن و سکون کی بحالی ہے۔ سیکورٹی فورسز مسلسل سرچ آپریشن، نگرانی اور کومبنگ کارروائیوں کے ذریعے دہشت گردوں کے خلاف دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔