عظمیٰ ویب ڈیسک
جموں/جموں و کشمیر اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف سنیل شرم نے بدھ کے روز کہا کہ اسپیکر عبدالرحیم راتھر کا ایوان کی 9 میں سے 8 کمیٹیوں کی چیئرمین شپ حکمراں اتحاد کے اراکین اسمبلی کے سپرد کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ جموں و کشمیر اسمبلی کو نیشنل کانفرنس کے ہیڈکوارٹر نوائے صبح میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔
ایک بیان میں سنیل شرما نے کہا کہ جموں و کشمیر اسمبلی یہاں کے عوام کی ملکیت ہے اور بھارتیہ جنتا پارٹی کسی بھی جماعت کو اسے اپنی جاگیر بنانے کی اجازت نہیں دے گی۔
انہوں نے کہا کہ حکمراں جماعت کے 8 اراکین اسمبلی کو مختلف کمیٹیوں کا سربراہ مقرر کرنا سراسر ناانصافی ہے اور جموں و کشمیر کے عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ متناسب نمائندگی کے عالمی طور پر تسلیم شدہ اصول کو پامال کیا گیا ہے۔
سنیل شرما نے کہا کہ جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے قواعد و ضوابط کے تحت اسپیکر کو ایوانی کمیٹیوں کے چیئرمین نامزد کرنے کا اختیار حاصل ہے، تاہم یہ اختیار منصفانہ انداز میں استعمال ہونا چاہیے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ حکمراں جماعت کے پہلی بار منتخب ہونے والے اراکین اسمبلی کو مختلف کمیٹیوں کا سربراہ بنایا گیا، جبکہ اپوزیشن کے سینئر اراکین کو نظرانداز کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ 54 اراکین اسمبلی پر مشتمل حکمراں اتحاد کو 8 کمیٹیوں کی سربراہی دی گئی ہے، جبکہ 29 اراکین اسمبلی رکھنے والی بھارتیہ جنتا پارٹی کو صرف ایک کمیٹی کی چیئرمین شپ دی گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکمراں اتحاد کو دی گئی 8 کمیٹیوں میں سے 5 کی سربراہی نیشنل کانفرنس کے پاس ہوگی، جس کے 41 اراکین اسمبلی ہیں۔ انہوں نے اس فیصلے کو ایک منظم سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسمبلی کو حکمراں جماعت کے ہیڈکوارٹر میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اسپیکر جموں و کشمیر اسمبلی کو نوائے صبح بنانے پر تُلے ہیں: سنیل شرما