خدا معلوم
نہ ہے میزان میں اب بھی بُدھی کیونکر خدا معلوم
مجھے بھانے لگی ہے بہتر بدی کیونکر خدا معلوم
خدا نے عقل بخشی تھی مجھے اجداد سے بہتر
حیات غارت میں کر بیٹھاضدی کیونکر خدا معلوم
سمجھ پایا نہ میں اب تک یہ عالم دارِ فانی ہے
تصور میں بسا میرے یہ ابدی کیونکر خدا معلوم
بدلتا رہتا ہے اکثر زمینِ زیست کا موسم
بشر اِس میں بسر کر لے صدی کیونکر خدا معلوم
حیات و موت سے باور بخوبی ہوتے ہوتے بھی
بُھلا بیٹھا میں اپنی ہی جدی کیونکر خدا معلوم
تفاوت، بعض ،کینہ کو ہوا دی خُوب تر میں نے
سمجھ آئی نہیں نیکی بدی کیونکر خدا معلوم
بنا کر میں نے ’’ایٹم بم‘‘ زیاں اپنا ہی کر ڈالا
بہائی اپنے ہی خون کی ندی کیونکر خدا معلوم
مجھے بھاتا ہے ایسا اب بتاؤں میں تمہیں آذرؔ
دکھانے میں نگا ہوں اب سرمدی کیونکر خدا معلوم
وفورِ وجد میں کاتب کرے کار ِکتا بت جب
بگاڑے لفظ کی ساختِ جدی کیونکر خداؔ معلوم
چُراسی پار کر کے بھی مجھے یہ زوعم ہے عشاقؔ
رقم طالع میں ہے میرے صدی کیونکر خُدا معلوم
عُشاقؔ کشتواڑی
صدر انجمن ترقی اردو (ہند)شاخ چناب ویلی کشتواڑ،جموں
موبائل نمبر؛9697524469
تلاشِ رائیگاں
اے آدم زاد!
کس نے کہا تھا کہ تو
اس کائناتِ بے کنار کے بھید پائے گا؟
مٹی کے ایک ڈھیر سے اٹھ کر
ستاروں کی طنابیں ہلائے گا؟
کس نے کہا تھا کہ تو
اپنے ہی سینے میں تلاطمِ شوق پالے گا؟
اور پھر اسی آگ میں
اپنے خوابوں کو خاک ڈالے گا؟
اے آدم زاد!
تجھے کس نے یہ فریب دیا
کہ تو ہجرتوں کے صحرا میں تھکے گا نہیں؟
یا یہ کہ تیرے پاؤں میں بندھی زنجیرِ انا
تجھے کبھی مٹی کی طرف جھکنے نہ دے گی؟
تو نے ہر پتھر کو معبود سمجھا
ہر سراب کو ساحل جانا
مگر یہ نہ سوچا کہ اس تگ و دو کے بعد
خالی ہاتھ ہی تیرا اصل مقدر ہے!
اے آدم زاد!
اگر تو اپنی ہی تنہائی کا زہر نہ پی سکا
تو کس لیے اس انجمنِ ہست و بود میں آیا؟
کس نے کہا تھا کہ تو
خدا بننے کی کوشش میں “انسان” بھی نہ رہے گا !
راقمؔ حیدر
حیدریہ کالونی،شالیمار ، سرینگر، کشمیر
موبائل نمبر؛9906543569
متاعِ ماضی
کاش وہ گزرے ہوئے پھر، دور آ جائیں
بچپن کے وہ ساتھی، وہی یار آ جائیں
کاش وہ کچی گلیاں، وہ مٹی کی خوشبو
ننگے پاؤں، خواب اب بے شمار آ جائیں
جوانی کے وہ گیسو، وہ شوخ سی ادائیں
اجڑے ہوئے چمن میں، پھر بہار آ جائے
بے سبب ہنسی، وہ آنکھوں کی چمک
زندگی میں پھر وہی، رنگ و خمار آ جائے
نہ غمِ روزگار ہو، نہ وقت کا ہو جبر
دل کے صحن میں پھر، وہی اتوار آ جائے
آئینے میں دیکھوں تو، وہی سادہ سا عکس
چہرے پہ پھر وہی، کھویا اعتبار آ جائے
ماں کی وہ دعا، باپ کی خاموش محنت
چھت پہ ٹوٹا ہوا سا، وہ مہتاب آ جائے
کتابیں بستے میں، دل بے فکری سے پُر
نہ ہار کا ہو خوف، نہ انکار آ جائے
وقت نے جن رشتوں کو آہستہ کھو دیا
نام لے کر وہ سبھی، اب احباب آ جائیں
اجڑے ہوئے چمن میں، خزاں کی اب جگہ
اک بار پھر سے رت، وہ خوشگوار آ جائے
نہ کل کی فکر، نہ گھڑی کی ہو قید
لمحے ٹھہر جائیں، نہ دن نہ رات آ جائے
ہم جو اب خود کو، سنبھالے ہوئے پھرتے ہیں
کاش ہم میں پھر وہی، نادان آ جائے
پر جانتے ہیں سب، خواب ہی رہ جائیں گے
وقت پلٹ آئے— کہاں یہ یار آ جائیں
ایوبؔ، یہ حسرتیں دل میں ہی سلگتی رہیں
لوگ لوٹیں کہاں، بس یادیں بار بار آ جائیں
محمد ایوبؔ گنائی
ٹیچر جی ایچ ایس ایس ترال
موبائل نمبر؛ 9596359446