عظمیٰ ویب ڈیسک
جموں/نیشنل کانفرنس کے رُکن اسمبلی تنویرصادق نے منگل کے روز کہا کہ ایران کے ساتھ بھارت کے دیرینہ تعلقات اسے موجودہ علاقائی کشیدگی میں ایک ممکنہ ثالث کے طور پر سامنے لاتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ کے بیان کی تائید کرتے ہوئے یہ بات کہی۔جموں میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے تنویر صادق نے کہا کہ بین الاقوامی تنازعات پر گفتگو کرتے وقت خاص طور پر ہندوستان اور ایران کے تاریخی تعلقات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔انہوں نے کہاجب بھی ہم کسی ملک کے بارے میں بات کرتے ہیں تو سب سے پہلے اس کے تاریخی پس منظر کو دیکھنا چاہیے۔ بھارت اور ایران کے تعلقات بہت پرانے اور مضبوط رہے ہیں۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب عمر عبداللہ نے تجویز دی تھی کہ بھارت ایران سے متعلق جاری تنازع میں تعمیری کردار ادا کرتے ہوئے ثالثی کر سکتا ہے، کیونکہ اس کی سفارتی ساکھ اور متوازن تعلقات اسے اس قابل بناتے ہیں۔تنویر صادق نے مزید کہا کہ بھارت کی سفارتی پوزیشن اور ایران کے ساتھ تاریخی روابط اسے کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں اہم کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا، جب عمر عبداللہ یہ کہتے ہیں کہ اگر اس وقت کوئی ملک ثالثی کر کے اس تنازع کا حل نکال سکتا ہے تو وہ بھارت ہے، تو اس بات میں وزن ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کی خارجہ پالیسی کی روایت اور خطے کے مختلف فریقین کے ساتھ روابط اسے ایک مثبت اور تعمیری کردار ادا کرنے کے قابل بناتے ہیں۔
تنویر صادق کے مطابق، بھارت اور ایران کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور اقتصادی تعلقات موجود ہیں، جن میں توانائی اور رابطہ کاری کے منصوبے بھی شامل ہیں، اور یہی عوامل دہائیوں سے دونوں ممالک کے تعلقات کو مضبوط بناتے آئے ہیں۔
ایران تنازع میں بھارت کا مثبت کردار ممکن: تنویر صادق