وزیر اعلیٰ کی صدارت میں جموں ضلع کا جائزہ اجلاس،کئی منصوبوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد،سیوریج مشینیں اور ایمبولینس روانہ
عظمیٰ نیوزسروس
جموں//وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جموں ضلع کی مجموعی ترقیاتی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں اہم بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی رفتار تیز کرنے، آبپاشی سہولیات میں بہتری، سیلاب سے متعلق مستقل بحالی کاموں کو مضبوط بنانے اور فنڈز کے مؤثر استعمال پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی۔اجلاس میں نائب وزیر اعلیٰ سریندر کمار چودھری، وزراء سکینہ ایتو، جاوید احمد رانا، جاوید احمد ڈار اور ستیش شرما، وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی، چیئرمین ضلع ترقیاتی کونسل جموں بھارت بھوشن، رکن پارلیمنٹ جموں جگل کشور شرما اور ضلع کے تمام اراکینِ اسمبلی نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے ہدایت دی کہ کیپیکس کے تحت شروع کیے گئے ترقیاتی کاموں کو فنڈز کی دستیابی کے مطابق بروقت مکمل کیا جائے۔ انہوں نے اراکینِ اسمبلی کو یقین دلایا کہ انہیں ایک تفصیلی تحریری اطلاع فراہم کی جائے گی جس میں ان منصوبوں کی صورتحال شامل ہوگی جو شروع کیے جا سکتے ہیں، جو تاحال شروع نہیں ہو سکے، اس کی وجوہات اور آئندہ کا لائحہ عمل واضح ہوگا۔وزیر اعلیٰ نے کہا’’ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ کسی منصوبے کو ترجیح دی جائے اور پھر اسے پسِ پشت ڈال دیا جائے۔ آپ سب کو ایک خط کے ذریعے بتایا جائے گا کہ ہم کیا کر رہے ہیں، کیا کر چکے ہیں اور مستقبل میں کیا کرنے کا ارادہ ہے، تاکہ سب کو مکمل طور پر باخبر رکھا جا سکے‘‘۔آبپاشی کے شعبے پر بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے نہروں کے آخری سروں (ٹیل اینڈ ایریاز) میں زمینی سطح پر جامع معائنہ کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ڈی سلٹنگ کو یقینی بنایا جا سکے اور کسانوں کو مساوی طور پر پانی کی فراہمی ہو۔ انہوں نے متعلقہ وزیر کو ہدایت دی کہ وہ مقامی اراکینِ اسمبلی کے ساتھ مل کر ٹائم ٹیبل تیار کریں اور موقع پر جا کر معائنہ کریں۔ماضی کے مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ نہروں کی ڈی سلٹنگ نہ ہونے کی وجہ سے اکثر آخری سرے کے کسانوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا اور ضرورت کے وقت انہیں پانی نہیں ملتا تھا۔ انہوں نے ہدایت دی کہ جہاں ممکن ہو ڈی سلٹنگ کے کاموں کو ایم جی این آر ای جی اے کے ساتھ ہم آہنگی میں انجام دیا جائے تاکہ مزدوری کی لاگت ایم جی این آر ای جی اے کے تحت اور مشینری و سامان کی لاگت محکمہ برداشت کرے۔نہری آبپاشی کی ناکافی سہولیات کے باعث کسانوں کے پمپ استعمال کرنے کے مسئلے پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آبپاشی کے لیے استعمال ہونے والے غیر مجاز بجلی کنکشن منقطع نہیں کیے جائیں گے بلکہ انہیں نان میٹرڈ کنکشن کے طور پر باقاعدہ کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ اس سال کسانوں کے لیے بجلی کے نرخوں میں کسی قسم کے اضافے کی تجویز نہیں دی جائے گی۔ڈپٹی کمشنر جموں کو ہدایت دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے مالی سال کے باقی مہینوں میں فنڈز کے زیادہ سے زیادہ استعمال پر زور دیا۔ انہوں نے ضلع انتظامیہ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اب تک فنڈز کے استعمال میں توقع سے بہتر نتائج سامنے آئے ہیں۔انہوں نے ایس اے ایس سی آئی منصوبوں، خصوصاً گرین فیلڈ منصوبوں کی قریبی نگرانی پر زور دیا تاکہ فنڈز بروقت استعمال ہوں اور کیپیکس پر اضافی مالی بوجھ سے بچا جا سکے۔ ساتھ ہی انہوں نے ہدایت دی کہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے مشن یووا کی سرگرمیوں کے انعقاد کے دوران متعلقہ اراکینِ اسمبلی کو اعتماد میں لیا جائے۔سیلاب سے مستقل بحالی کے کاموں پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ اس مد میں 1400 کروڑ سے زائد کی رقم منظور کی جا چکی ہے اور جموں ضلع کو مختص حصے کو دانشمندی سے استعمال کیا جانا چاہیے تاکہ دیرپا اور مؤثر حل یقینی بنائے جا سکیں۔انہوں نے کہا’’آج جو پانی کی سطح ہم دیکھ رہے ہیں وہ 2014جیسی ہے۔ ہمیں بحالی کے کام اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبہ بند کرنے ہوں گے تاکہ اگلی شدید بارشوں میں بنائے گئے اثاثے دوبارہ تباہ نہ ہوں۔ بحالی عارضی نہیں بلکہ مستقل ہونی چاہیے‘‘۔وزیر اعلیٰ نے ضلع انتظامیہ اور منتخب نمائندوں کی مشترکہ کوششوں کی تعریف کی۔ اجلاس کے دوران متعلقہ وزراء نے بھی اپنے اپنے محکموں سے متعلق امور پر مداخلت کی اور افسران کو موقع پر ہی مسائل کے فوری حل کی ہدایات دیں۔اس سے قبل ڈپٹی کمشنر جموں نے مختلف محکموں کی مالی اور جسمانی پیش رفت پر ایک تفصیلی پریزنٹیشن پیش کی۔ انہوں نے پبلک ورکس (آر اینڈ بی)، پی ایم جی ایس وائی، بجلی، پی ایم اے وائی-جی، پی ایم اے وائی-یو، اسکولی تعلیم، اسکل ڈیولپمنٹ، صحت، یوتھ سروسز و اسپورٹس، ریونیو، لیبر، زراعت و اس سے وابستہ شعبے، جنگلات، جیولوجی و مائننگ، قبائلی امور اور دیگر محکموں میں جاری و مکمل کاموں کی تفصیلات پیش کیں۔چیئرمین ڈی ڈی سی جموں، رکن پارلیمنٹ اور اراکینِ اسمبلی نے بھی اپنے اپنے حلقوں سے متعلق مسائل، مطالبات اور شکایات جلد حل کرنے کے لیے اجلاس میں پیش کیں۔اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے ہاؤسنگ و اربن ڈیولپمنٹ کے13.48کروڑ مالیت کے منصوبوں کے ای-سنگِ بنیاد رکھے اور اسکولی تعلیم، ہاؤسنگ و اربن ڈیولپمنٹ اور دیہی ترقی سے متعلق19.05کروڑ کے منصوبوں کا ای-افتتاح کیا۔انہوں نے ٹرک پر نصب جیٹنگ کم سیور سکشن مشینیں (6000لیٹر)، ٹرک پر نصب جیٹنگ کم سیور سکشن مشینیں (4000لیٹر)، جیٹنگ، گریبانگ اور روڈنگ مشینیں (3000لیٹر) اور ٹِپر چیسیس پر نصب اوپن نالہ ڈی سلٹنگ مشینیں بھی روانہ کیں۔اس کے علاوہ سی ایچ سی پلّانوالہ کے لیے ایک ایمبولینس کو بھی جھنڈی دکھا کر روانہ کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بغیر پروٹوکول کے پیدل ڈی سی آفس جموں پہنچے
عظمیٰ نیوزسروس
جموں// جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ پیر کو اپنی سرکاری رہائش گاہ سے پیدل چل کر ڈپٹی کمشنر آفس جموں پہنچے ، جہاں انہوں نے انتظامی جائزہ میٹنگ کی صدارت کی سرکاری ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ نے پیر کو طے شدہ انتظامی جائزہ میٹنگ میں شرکت کیلئے روایتی سکیورٹی قافلے کے بجائے پیدل سفر کو ترجیح دی۔ عینی شاہدین کے مطابق وزیراعلیٰ کے اچانک پیدل سفر سے سڑکوں پر معمول کی سکیورٹی نقل و حرکت میں کوئی نمایاں خلل نہیں آیا۔ تاہم عام شہری اس غیر روایتی انداز پر خوشگوار حیرت کا اظہار کرتے نظر آئے ۔ کئی مقامی لوگوں نے بتایا کہ انہوں نے وزیراعلیٰ کو بغیر کسی بڑے پروٹوکول کے عام شاہراہ پر آرام سے چلتے ہوئے دیکھا۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے ڈی سی آفس پہنچ کر جموں ڈویژن کے اہم انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا ۔ عمر عبداللہ کا پیدل چل کر ڈی سی آفس پہنچنا بظاہر سادگی اور عوامی رابطے کی پالیسی کا حصہ ہے ، جسے انتظامی و عوامی حلقوں میں مثبت انداز میں دیکھا جا رہا ہے ۔