عظمیٰ ویب ڈیسک
نئی دہلی/دہلی میں واقع قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کی خصوصی عدالت نے پاکستانی ملی ٹینٹ تنظیم لشکرِ طیبہ (ایل ای ٹی) کی مدد کرنے کے معاملے میں جموں و کشمیر کے دو افراد کو قصوروار قرار دیا ہے۔ظہور احمد پیر اور نذیر احمد پیر پر انسداد ملی ٹینسی قانون کے تحت الزام تھا کہ انہوں نے 2016 میں ہندوستان میں دراندازی کر کے دہلی اور دیگر ریاستوں میں حملوں کی منصوبہ بندی کرنے والے ملی ٹینٹوں کو پناہ دی اور ان کی مدد کی۔ عدالت نے ظہور احمد پیر اور نذیر احمد پیر کی سزا کے بارے میں فیصلہ محفوظ رکھ لیا ہے۔
عدالت نے ملی ٹینسی کی حمایت کی سخت مذمت کرتے ہوئے دہلی اور دیگر علاقوں کو نشانہ بنانے کی سازش کی تفصیلات بیان کی۔ اپنی ریمارکس میں عدالت نے زور دے کر کہا، ’’ملی ٹینٹوں کی مدد کرنے والے دراصل ملی ٹینسی کو ہی طاقت دیتے ہیں۔ اگر کوئی شخص کسی ملی ٹینٹ کے رابطے میں آتا ہے تو اسے حکومت کی سکیورٹی ایجنسیوں سے رابطہ کر کے انہیں معلومات فراہم کرنی چاہیے۔ ملزمان ایسا کرنے میں ناکام رہے، اسی لیے وہ اس معاملے میں پھنس گئے۔‘‘
یہ معاملہ پاکستانی شہری اور ایل ای ٹی کے تربیت یافتہ رکن بہادر علی عرف سیف اللہ منصور سے متعلق ہے۔ وہ جون 2016 میں اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ غیر قانونی طور پر جموں و کشمیر میں داخل ہوا تھا۔ اپنے گروپ سے الگ ہو جانے کے بعد پاکستان میں موجود اس کے ایل ای ٹی ہینڈلرز (کنٹرول اسٹیشن ’الفا-3‘) نے اسے مقامی سرگرم رکن، کوڈ نام ’ڈاکٹر‘ سے رابطہ کرنے کی ہدایت دی تھی۔
تحقیقات اور مقدمے کے دوران ملنے والے شواہد سے معلوم ہوا کہ ظہور احمد پیر اور نذیر احمد پیر (جسے ’بشیر‘ کے نام سے بھی جانا جاتا تھا) مقامی معاون تھے۔ وہ ہفتوں تک ہندواڑہ کے یاہاما مقام گاؤں میں ایک سرکاری اسکول کے قریب باقاعدگی سے بہادر علی سے ملتے رہے، اسے کھانا فراہم کرتے رہے، قریبی جنگل میں چھپنے کی جگہ دلوانے میں مدد کرتے رہے اور دیگر ضروری اشیاء مہیا کرتے رہے، جب تک کہ جولائی 2016 میں اس کی گرفتاری نہیں ہوئی تھی۔
این آئی اے نے جموں و کشمیر کے دو افراد کو پاکستانی ملی ٹینٹ تنظیم کی مدد کا قصوروار قرار دیا