منڈی// منڈی صدر مقام سے 8کلو میٹر کی دوری پر آباد لوہل بیلہ علاقہ میں ناگہ ناڑی،بن، درمیانہ بن ،اور چکھڑی بن دیہات جن کی آبادی چار ہزارنفوس پر مشتمل ہے۔ آج کے اس جدید دور میں بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں ، یہاں نہ تو بجلی ہے نہ سڑک رابطے ،جبکہ لوگ طبی سہولیات کی عدم دستیابی کے نتیجے میں بھی پریشان ہیں ۔ مقامی لوگوں کاکہنا ہے کہ ان دیہات میں سرکار کی جانب سے کسی بھی طبی مرکز کا قیام عمل میں نہیں لایا گیا ہے اور یہاں کے مریضوں کو میلوں پیدل سفر کر کے سب ضلع ہسپتال منڈی علاج ومعالجہ کیلئے آنا پڑتا ہے ۔ سڑک نہ ہونے کی وجہ سے شدید نوعیت کے مریض راستے میں ہی دم توڑ دیتے ہیں، جبکہ حاملہ خواتین کو سفر کے دوران سب سے زیادہ دقتیں پیش آتی ہیں ۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ان دیہات میں بجلی کا نظام کافی مفلوج ہے ،سال میں محض 4ماہ ہی بجلی دیکھنے کو ملتی ہے ۔ان دیہات میں تعلیمی نظام کی اگر بات کی جائے تو اس کا بھی خدا ہی حافظ ہے اگر چہ سرکار کی جانب سے ان علاقوں میں سکولوں کو قائم کیا گیا ہے مگر سکولوں میں نہ ہی اساتذہ حاضر رہتے ہیں اور نہ ہی سکولوں کی عمارتیں طلاب کے بیٹھنے کیلئے موزوں ہیں۔ محکمہ جل شکتی کی جانب سے پانی کی پائپیں تو بچھائی گی ہیں، مگر ان میں پانی کبھی کبار آتا ہے اور موسم سرما میں پانی کی یہ پائپیں بھی جواب دے جاتی ہیں ۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ برسوں قبل نصب کی گئی ان پائپوں کو تبدیل کرنے کے حوالے سے بھی کوئی سنجیدہ اقدامات نہیں کئے گے اور نتیجے کے طور پران بوسیدہ پائپوں سے پانی ضایع ہو جاتا ہے۔ محمد رشیداور محمد جمیل نامی شہریوں نے بتایا کہ ان دیہات کو سرکار کی جانب سے ہر محاز پر نظر انداز کیا گیا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ نہ ہی ان علاقوں میں سڑک جاتی ہے اور نہ ہی بجلی پانی اور تعلیمی نظام بہتر ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ یہ علاقے تحصیل منڈی کے دور درراز علاقہ ہیں جہاں کے عوام اس ترقی یافتہ دور میں بھی بنیادی سہولیات کو ترس رہے ہیں۔مقامی لوگوں نے گونر انتظامیہ حکام او ر ضلع انتظامیہ پونچھ سے اپیل کی ہے کہ وہ عوام کے مشکلات کا ازالہ کرنے کیلئے اقدامات کریں ۔