ملی کوٹ میں مردہ کوا اور چوہا، گلاب گڑھ میں کئی ہفتوں تک مردہ بھینس پانی کے سورس میں موجود رہی
شاہ نواز
ریاسی//ضلع ریاسی کے سب ڈویژن مہور اور درماڑی میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کا نظام سنگین سوالات کی زد میں آ گیا ہے۔ مختلف علاقوں سے سامنے آنے والے واقعات نے محکمہ جل شکتی کی کارکردگی پر عوامی اعتماد کو شدید متاثر کیا ہے۔ مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ محکمے کی مبینہ غفلت اور لاپرواہی کے باعث شہریوں کو ایسا آلودہ پانی فراہم کیا جا رہا ہے جو انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔حال ہی میں تحصیل چسانہ کے ملی کوٹ علاقے میں پانی کی سپلائی کے ایک ہوز سے مردہ کوا اور مردہ چوہا برآمد ہونے کا معاملہ منظر عام پر آیا، جس کے بعد پورے علاقے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اس معاملے کا پتہ نہ چلتا تو یہی آلودہ پانی مسلسل گھروں تک پہنچتا رہتا، جس سے مختلف مہلک بیماریوں کے پھیلنے کا خدشہ پیدا ہو سکتا تھا۔اسی دوران گزشتہ روز علاقہ گلاب گڑھ کے گاؤں اڈبیس، کاشلی وارڈ نمبر 5 میں گریویٹی واٹر سپلائی منصوبے کے پانی کے سورس میں ایک مردہ بھینس کئی ہفتوں تک پڑی رہنے کا انکشاف بھی سامنے آیا۔ مقامی افراد کے مطابق اس پورے عرصے کے دوران یہی آلودہ پانی ہزاروں افراد کو فراہم کیا جاتا رہا، جبکہ متعلقہ حکام کی جانب سے بروقت کارروائی نہیں کی گئی۔علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ سب ڈویژن مہور اور درماڑی کے متعدد دیہی علاقوں میں واٹر سپلائی اسکیموں کی مناسب نگرانی، صفائی اور دیکھ بھال کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں ہے، جس کی وجہ سے ایسے خطرناک واقعات بار بار رونما ہو رہے ہیں۔
لوگوں نے الزام عائد کیا کہ متعلقہ افسران اور فیلڈ عملے کی مبینہ غفلت عوامی جانوں کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔ماہرین صحت کے مطابق آلودہ پانی کا استعمال ہیضہ، ٹائیفائیڈ، یرقان، پیچش، اسہال اور دیگر مہلک بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ خصوصاً بچے، بزرگ اور کمزور قوت مدافعت رکھنے والے افراد اس طرح کی بیماریوں سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور بعض اوقات یہ بیماریاں جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہیں۔متاثرہ علاقوں کے عوام نے لیفٹیننٹ گورنر، چیف سیکرٹری، ضلع انتظامیہ ریاسی، محکمہ صحت اور محکمہ جل شکتی کے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا کہ تمام واٹر سپلائی منصوبوں کا ہنگامی معائنہ کیا جائے، پانی کے نمونوں کی لیبارٹری جانچ کروائی جائے، پانی کے ذخائر کی مکمل صفائی اور جراثیم کشی کو یقینی بنایا جائے، جبکہ مبینہ غفلت کے ذمہ دار افسران اور ملازمین کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔اس سلسلے میں نمائندے نے اسسٹنٹ ایگزیکٹیو انجینئر محکمہ جل شکتی مہور، ذوالفقار احمد سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ چسانہ کے ملی کوٹ میں متعلقہ ہوز کو مکمل طور پر صاف و شفاف کرکے محفوظ انداز میں بند کر دیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ گلاب گڑھ کے اڈبیس، کاشلی میں مردہ بھینس دراصل نالے میں موجود تھی، جسے فوری طور پر نکال دیا گیا ہے اور پانی کی سپلائی کو صاف و شفاف طریقے سے بحال کر دیا گیا ہے۔اے ای ای ذوالفقار احمد کے مطابق اس واقعے کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے یہ معلوم کیا جا رہا ہے کہ مردہ بھینس نالے میں کس نے پھینکی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ذمہ دار افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے مزید بتایا کہ سب ڈویژن مہور کے تمام جل شکتی فیلڈ ملازمین کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ وہ تمام واٹر سپلائی لائنوں، ہوز، ذخیرہ آب ٹینکیوں اور سپلائی نظام کی روزانہ نگرانی کریں تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کا کوئی واقعہ دوبارہ پیش نہ آئے۔عوام کا کہنا ہے کہ صاف پینے کا پانی ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور اس حق سے محروم کرنا نہ صرف انتظامی ناکامی بلکہ عوامی صحت کے ساتھ سنگین کھلواڑ بھی ہے۔ متاثرین نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کو یقینی بنایا جا سکے اور عوام کو صاف و محفوظ پانی کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔