عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/ اکنامک آفنسز ونگ (EOW) کشمیر نے محکمہ صحت میں جعلی اور فرضی تعلیمی اسناد کی بنیاد پر سرکاری ملازمتیں حاصل کرنے کے الزام میں چار افراد کے خلاف عدالت میں چارج شیٹ پیش کر دی ہے۔
اکنامک آفنسز ونگ (کرائم برانچ جموں و کشمیر) کشمیر کے ایک ترجمان نے بتایا کہ ایف آئی آر نمبر 16/2014 (RPC) کی دفعات 420، 468 اور 471 کے تحت چیف جوڈیشل مجسٹریٹ، سرینگر کی عدالت میں چار ملزمان کے خلاف چارج شیٹ داخل کی گئی ہے۔
چارج شیٹ میں شامل ملزمان کی شناخت شجاع جیلانی ولد غلام جیلانی ساکن 79-بی، پمپوش کالونی، چنہ پورہ، سرینگر؛ محمد اقبال ولد محمد عثمان ساکن عمر کالونی، لال نگر، چنہ پورہ، سرینگر؛ نثار احمد وانی ولد ناصر احمد وانی ساکن مالواری، پلوامہ؛ اور ریاض احمد شاہ ولد عبدالعزیز شاہ ساکن مڈورہ، اونتی پورہ، پلوامہ کے طور پر کی گئی ہے۔
ترجمان کے مطابق یہ مقدمہ ایک شکایت کی بنیاد پر درج کیا گیا تھا، جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ سروسز سلیکشن ریکروٹمنٹ بورڈ (SSRB) کے ذریعے محکمہ صحت میں مختلف عہدوں پر منتخب کیے گئے چار امیدواروں نے جعلی اور فرضی تعلیمی اسناد پیش کرکے سرکاری ملازمت حاصل کی۔
تحقیقات کے دوران ملزمان کی جانب سے جمع کرائی گئی تعلیمی اسناد کی جانچ کی گئی، جس میں یہ دستاویزات جعلی اور انتخاب کے وقت جمع کرائے گئے ریکارڈ سے مطابقت نہ رکھنے والی پائی گئیں۔ اس کے بعد ان تمام امیدواروں کا انتخاب منسوخ کر دیا گیا۔
تحقیقات میں یہ بھی ثابت ہوا کہ ملزمان نے جعلی اسناد کا استعمال کرتے ہوئے دھوکہ دہی کے ذریعے سرکاری ملازمت حاصل کی اور متعلقہ حکام کو گمراہ کیا۔
ترجمان نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ معاشی جرائم اور دھوکہ دہی سے متعلق کسی بھی واقعہ کی اطلاع ایس ایس پی، اکنامک آفنسز ونگ کشمیر، کرائم برانچ جموں و کشمیر کو دیں۔ اقتصادی فراڈ کے متاثرین اپنی شکایات ای میل [email protected] پر بھی ارسال کر سکتے ہیں۔
ای او ڈبلیو نے جعلی تعلیمی اسناد پر سرکاری ملازمت حاصل کرنے کے الزام میں چار افراد کے خلاف چارج شیٹ پیش کردی