جموں// محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے عین مطابق جموں صوبہ کے میدانی علاقوں میں بارشوں اور بالائی علاقوں میں برف باری کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا ہے جبکہ رابطہ سڑکیں زیر آب آنے کے علاوہ کئی سڑکوں پر پھلسن پیدا ہوئی ہے اور کئی علاقوں سے بجلی گل ہونے کی اطلاعات بھی ہیں۔
چناب
نامہ نگاروںعاصف بٹ ،اشتیاق ملک اور زاہد ملک کے مطابق خطہ چنابمیں دوسرے روز بھی میدانی علاقوں میں بارش و پہاڑوں پر برفباری کا سلسلہ جاری رہا جس کے نتیجے میں درجہ حرارت میں نمایاں کمی واقع ہوئی جبکہ بیشتر دیہات میں پانی و بجلی نظام متاثر ہوا ۔ کشتواڑ میںاگرچہ میدانی علاقوں میں رات بھر بارشوں کا سلسلہ تھم گیا لیکن صبح ہوتے ہی بارشوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا وہیں بالائی علاقوں میں دوبارہ برفباری درج کی گئی۔ ضلع کے بالائی علاقوں مڑواہ،واڑون، مچیل، کیشوان مرگن، سنتھن ٹاپ پر دوبارہ برفباری ہوئی جس کے سبب بالائی علاقوں میں زندگی بسر کررہی عوام کو مشکلات سے دوچار ہونا پڑاجہاں بجلی کی آنکھ مچولی نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کیا جبکہ دیہات کی طرف جانے والے متعددسڑکیں زیر آب ہیںاور لوگ سفر کرنے سے گریز کررہے ہیں ۔ میدانی علاقوں میں بھی دن بھر بارشوں کا سلسلہ جاری رہا جسکے سبب لوگوں نے گھروں میں رہنے کو ترجیح دی۔ قصبہ کے گلی کوچوں میں مسلسل بارشوں کے سبب نالیوں کا گندہ پانی جمع ہوگیا جسکے سبب لوگوں کا چلنا مشکل ہوا ۔ضلع ڈوڈہ میں اتوار کو شروع ہوئی بارش کا سلسلہ پیر کے روز بھی گرج چمک کے ساتھ جاری رہی، اس دوران پہاڑوں پر تازہ برفباری و دیہی علاقوں میںژالہ باری بھی ہوئی۔ بارشوں و برفباری سے جہاں درجہ حرارت میں نمایاں کمی واقع ہوئی وہیں رابطہ سڑکیں و گلی کوچے زیر آب ہو گئے اور ندی و نالوں میں پانی کی سطح میں اضافہ ہوا. بارشوں کی وجہ سے ڈوڈہ، بھدرواہ، ٹھاٹھری و گندوہ بھلیسہ کے درجنوں دیہات میں پانی و بجلی نظام بھی متاثر ہوا تاہم خراب موسم کے باوجود ڈوڈہ بٹوت قومی شاہراہ پر ٹریفک نظام بدستور جاری رہا۔ادھرتازہ بارشوں کے باعث ضلع ریاسی کے سب ڈویژن درماڑی اور سب ڈویژن مہور کے دور دراز علاقوں میں گزشتہ دو روز سے بجلی غائب ہے جس کی وجہ سے لوگ گھپ اندھیرے میں ہیں۔دو روز سے لگاتار بارشوں کی وجہ سے درماڑی ،ارناس ، مہور ، گلاب گڑھ اور چسانہ کے دور دراز دیہات میں بجلی غائب ہے۔اس کے علاوہ سڑکوں پر پھسلن،تغیانی اور چٹانیں کھسکنے کی وجہ سے آج سڑکوں پر ٹریفک بھی بہت کم دیکھنے کو ملا۔باشوں کے باعث سردی میں اضافہ ہوا ہے اور لوگوں نے دوبارہ سے گرم کپڑے پہننا شروع کردئے۔آخری اطلاعات ملنے تک دور دراز دیہات میں بجلی بحال نہیں ہوسکی تھی۔بجلی کے حوالے سے جب کشمیر عظمیٰ نے اے ای ای بجلی وجے کمار سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ لگاتار بارشوں کے باوجود بھی محکمہ بجلی کے ملازمین بجلی کی بحالی کا کام کر رہے ہیں کوشش ہے کہ جلدی ہی بجلی کو بحال کیا جائے۔
پیر پنچال
نامہ نگار سمت بھارگو اور محمد بشارت کے مطابق راجوری ، پونچھ میں موسلا دھار بارش اور آسمانی بجلی نے معمولات زندگی کو متاثر کیا جس سے سڑکوں کی آمدورفت میں معمولی سی نقل و حرکت اور بازار میں صارفین کی کم سے کم رش ہے۔اتوار اور پیر کی درمیانی شب میں شروع ہونے والی بارش کا سلسلہ جاری ہے اور آخری اطلاعات کے مطابق راجوری اور پونچھ کے تمام علاقوں میں بارش ہوئی۔ راجوری ٹاؤن مارکیٹ کے زیادہ تر صارفین کا تعلق دیہی علاقوں سے ہے لیکن بارش کے باعث لوگوں نے آج مارکیٹ نہیں جانا پسند کیاجبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی نقل و حرکت بہت کم تھی اور زیادہ تر لوگوں نے گھروں میں رہنے کو ترجیح دی۔دوسری طرف راجوری قصبے کی متعدد سڑکوں پر چلتے ہوئے موٹرسائیکل سواروں کو بے پناہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جہاں نالے پانی سے بہہ گئے۔دریں اثنا راجوری اور پونچھ دونوں کے بالائی علاقوں میں تازہ برف باری ہوئی جس کے نتیجے میں درجہ حرارت میں کمی واقع ہوئی۔سب ضلع کوٹرنکہ کے پہاڑی علاقوں میں تازہ برفباری جبکہ میدانی علاقوں میں مسلادھار بارشوں سے معمول کی زندگی متاثر ہو کر رہ گئی جبکہ سردی میں اضافہ ہوا۔ادھر کوٹرنکہ سے خواص جانے والی 33 کلو میٹر سڑک پھسلن کی وجہ سے آمد رفت کیلئے بند ہوگئی ہے۔ کنڈی سے جمولہ سڑک پر بھی پھسلن کی وجہ سے ٹریفک کی آمدو رفت بھی متاثر رہی۔ لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ بارش کے دوران بجلی غائب ہوجاتی ہے ۔ادھر پونچھ ضلع کے بالائی علاقوں بفلیاز،مغل روڈ ،سرنکوٹ ،منڈی وغیرہ میں برف باری کی اطلاعات ہیں جبکہ میدانی علاقوں میں بارشیں ہوئیں۔اس دوران میدانی جموں کے سبھی چاروں اضلاع جموں،کٹھوعہ ،سانبہ اور ادہم پور سے بھی موسلادھار بارشیں ہونے کی اطلاعات ہیں۔
گول میں شدیدبارشوں سے ندی نالوں میں طغیانی