عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/سابق صدرِ ریاست جموں و کشمیر ڈاکٹر کرن سنگھ نے ہفتہ کے روز جموں و کشمیر ریاستی درجہ بحال کرنے کی بھرپور وکالت کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت اس حوالے سے وعدہ کر چکی ہے، لہٰذا اب اس وعدے کو عملی جامہ پہنایا جانا چاہیے۔
سرینگر کے شیرِ کشمیر انٹرنیشنل کانفرنس سینٹر (ایس کے آئی سی سی) میں بین المذاہب مکالمے کی تقریب کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر کرن سنگھ نے کہا کہ جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ بحال کیا جانا چاہیے کیونکہ حکومت اس کا وعدہ کر چکی ہے۔
انہوں نے کہامیرا ماننا ہے کہ ریاستی درجہ بحال ہونا چاہیے۔ حکومت نے بھی اس کا وعدہ کیا ہے اور مجھے یقین ہے کہ اسے اپنا وعدہ پورا کرنا چاہیے۔
ڈاکٹر کرن سنگھ نے جموں و کشمیر کی سابقہ آئینی حیثیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں اس ریاست کی ملک میں ایک منفرد شناخت تھی، اور انہیں امید ہے کہ مناسب وقت پر ریاستی درجہ دوبارہ بحال کر دیا جائے گا۔
انہوں نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالمے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کو ایک دوسرے کے قریب آکر باہمی احترام، اعتماد اور بہتر سمجھ بوجھ کو فروغ دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا بین المذاہب مکالمے کا مقصد مختلف مذاہب کے ماننے والوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانا، ایک دوسرے کو سمجھنا اور باہمی احترام کو مضبوط بنانا ہے۔ کشمیر جیسے خطے میں اس نوعیت کی سرگرمیاں نہایت اہم ہیں۔
مرکزی حکومت نے ریاستی درجہ بحال کرنے کا وعدہ کیا ہے، اب اسے پورا کرنا چاہیے: ڈاکٹر کرن سنگھ