عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ہفتہ کے روز کہا کہ بھارت کی تہذیبی شناخت ہمیشہ سے رواداری، ہم آہنگی اور تمام مذاہب کے احترام پر قائم رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے کبھی کسی پر اپنا مذہب مسلط نہیں کیا اور نہ ہی کسی سے اس کا مذہب ترک کرنے کا مطالبہ کیا، بلکہ ہمیشہ یہ پیغام دیا کہ ’’اپنے مذہب کے ساتھ آئیے اور ہمارے ساتھ مل جل کر رہیے۔
سرینگر کے شیرِ کشمیر انٹرنیشنل کانفرنس سینٹر (ایس کے آئی سی سی) میں منعقدہ بین المذاہب مکالمہ (Interfaith Dialogue) سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نےکہا کہ یہ اجتماع بھارت کی صدیوں پر محیط دانش، مکالمے، برداشت اور پُرامن بقائے باہمی کی روایت کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قدیم زمانے سے ہی بھارت نے مختلف فلسفوں، ثقافتوں، مذاہب اور افکار کو باہمی احترام اور وقار کے ساتھ فروغ پانے کا ماحول فراہم کیا ہے۔منوج سنہا نے کہایہ وہ سرزمین ہے جہاں انسانیت کو ہمدردی، عزت اور باہمی احترام کے ساتھ جینا سکھایا گیا،اور مزید کہا کہ بھارت کی تہذیب نے ہمیشہ تنوع کو اپنی سب سے بڑی طاقت سمجھا ہے، نہ کہ اختلاف یا تصادم کی وجہ۔
انہوں نے ’’دھرم‘‘کے تصور کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس کا تعلق صرف مذہب یا فرقے سے نہیں بلکہ راست بازی، فرض شناسی اور ان اقدار سے ہے جو معاشرے کو قائم رکھتی ہیں۔ انہوں نے رگ وید کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قدیم صحائف ایک ایسے واحد خدا کا ذکر کرتے ہیں جو پوری انسانیت کا ہے۔
اتھرو وید کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس میں زمین کو ایک مشترکہ گھر قرار دیا گیا ہے جہاں مختلف عقائد، روایات اور عبادت کے طریقوں پر عمل کرنے والے لوگ امن کے ساتھ رہتے ہیں۔انہوں نے کہا، میں اسے بھارتیہ کہتا ہوں،اور مزید کہا کہ خواجہ معین الدین چشتی نے بھی اسی جذبے کو ہندوستان کی اصل روح قرار دیا تھا۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ بھارتی تہذیب ہمیشہ اس اصول پر قائم رہی ہے کہ کوئی انسان نہ برتر ہے اور نہ کمتر، بلکہ پوری انسانیت ایک خاندان ہے۔ ان کے مطابق، سچائی ابدی ہے جبکہ تنوع خدا کی عطا کردہ نعمت ہے۔
انہوں نے جموں و کشمیر کو بھارت کے تہذیبی ورثے کا تاج قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’کشمیریت‘‘دراصل بھارتی تہذیب کی روح ہے، جس کی بنیاد ہمدردی، بقائے باہمی، برداشت اور باہمی احترام پر قائم ہے۔انہوں نے کہا کہ یہی اقدار صدیوں سے کشمیر کی مشترکہ تہذیب کا حصہ رہی ہیں اور آج بھی اس کی سماجی شناخت کو مضبوط بناتی ہیں۔
اسلام کی برصغیر میں آمد کا ذکر کرتے ہوئے منوج سنہا نے کہا کہ بھارت نے ہمیشہ مکالمے، ثقافتی تبادلے اور علمی تعاون کا راستہ اختیار کیا، نہ کہ تصادم کا۔ انہوں نے کہا کہ متعدد سنسکرت کتابوں کا عربی میں ترجمہ کیا گیا، جس سے مختلف تہذیبوں کے درمیان علم کا تبادلہ ممکن ہوا۔بھگوت گیتا کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خدا ہر اس شخص کی عبادت قبول کرتا ہے جو کسی بھی شکل میں اس کی پرستش کرتا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ مختلف راستے آخرکار ایک ہی سچائی تک پہنچتے ہیں۔
بھارت کی پناہ دینے کی قدیم روایت کا ذکر کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ظلم و ستم سے فرار ہو کر آنے والے افراد کو کبھی اپنا مذہب چھوڑنے کے لیے نہیں کہا گیا۔انہوں نے کہا، جب ظلم سے بچنے کے لیے لوگ بھارت آئے تو کسی نے ان سے نہیں کہا کہ اپنا مذہب چھوڑ دیں۔ بھارت نے ہمیشہ ان کا یہ کہہ کر استقبال کیا کہ اپنا مذہب ساتھ لائیے اور ہمارے ساتھ مل کر رہیے۔انہوں نے کہا کہ یہ بھارتی تہذیب کی ایک منفرد خصوصیت ہے اور شاید دنیا کا کوئی دوسرا ملک اتنی طویل اور مسلسل مذہبی رواداری کی روایت پیش نہیں کر سکتا۔
منوج سنہا نے اردو زبان کے ارتقا کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ متعدد مؤرخین کے مطابق اردو کو ابتدا میں ’’ہندی‘‘کہا جاتا تھا، بعد ازاں انیسویں صدی میں اسے موجودہ شناخت ملی۔ انہوں نے امیر خسرو کی خدمات کو بھی بھارت کی مشترکہ تہذیب اور ادبی ورثے کے لیے نمایاں قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ جب دنیا اس وقت تنازعات، عدم برداشت اور غیر یقینی حالات سے دوچار ہے، ایسے وقت میں بھارت کی تہذیبی دانش پوری دنیا کے لیے امید اور رہنمائی کا پیغام فراہم کرتی ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے نالندہ یونیورسٹی کو دنیا کے عظیم ترین علمی مراکز میں شمار کرتے ہوئے مغل بادشاہ اکبر کی مختلف مذاہب کے درمیان مکالمے کی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔انہوں نے گرو نانک دیو، یوگنی للیشوری اور دیگر بزرگوں و صوفیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تعلیمات نے کشمیر میں مذہبی ہم آہنگی اور انسانی اخوت کی روایت کو مضبوط بنایا۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر بھارت کے مشترکہ روحانی ورثے کی بہترین مثال ہے، جہاں مندر، مساجد، مزارات، گردوارے اور گرجا گھر باہمی احترام اور بقائے باہمی کی علامت بن کر موجود ہیں۔محرم کے پُرامن انعقاد کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انتظامیہ اس بات کے لیے پوری طرح پُرعزم ہے کہ تمام مذہبی تقریبات امن، وقار اور ہم آہنگی کے ساتھ منعقد ہوں۔انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ آئندہ شری امرناتھ یاترا کی تیاریوں اور اس کے محفوظ و پُرامن انعقاد کا جائزہ لینے کے لیے آج ہی ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیا جائے گا۔
آخر میں ایک کشمیری کہاوت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خدا ایک ہی ہے، اگرچہ لوگ اسے مختلف ناموں سے پکارتے ہیں، اس لیے انسانیت کی مشترکہ روحانی اقدار کو ہر حال میں اختلافات پر غالب رہنا چاہیے۔مہاتما گاندھی کے قول کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا، “الفاظ اسی وقت معنی رکھتے ہیں جب انہیں عمل سے ثابت کیا جائے، ورنہ ان کی اہمیت باقی نہیں رہتی۔لیفٹیننٹ گورنر نے امید ظاہر کی کہ بین المذاہب مکالمے سے نکلنے والا پیغام جموں و کشمیر کے عوام کو باہمی اعتماد، احترام، امن، ہم آہنگی اور جامع ترقی کے راستے پر مزید مضبوطی سے آگے بڑھنے کی ترغیب دے گا۔
بھارت نے کبھی کسی کو اپنا مذہب چھوڑنے کے لیے نہیں کہا: لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا