۔83 فیصد سے زائد تعمیراتی کام مکمل، منصوبے پر 3733 کروڑ روپے صرف
عظمیٰ نیوزسروس
جموں// ضلع کشتواڑ میں چناب ویلی پر تعمیر کیا جا رہا 624 میگاواٹ کا کِرو ہائیڈرو الیکٹرک پاور پروجیکٹ اپنے آخری تعمیراتی مرحلے میں داخل ہو گیا ہے، جبکہ سرکاری نگرانی رپورٹ کے مطابق منصوبے پر مجموعی طور پر 83 فیصد سے زائد کام مکمل کیا جا چکا ہے۔مرکزی وزارتِ بجلی کی جانب سے حاصل کردہ دستاویزات کے مطابق اس اہم توانائی منصوبے پر اب تک 83.46 فیصد جسمانی پیش رفت ہو چکی ہے، جبکہ مجموعی اخراجات 3733.26 کروڑ روپے تک پہنچ گئے ہیں۔ منصوبے کی تکمیل کے لیے نیا ہدف دسمبر 2026 مقرر کیا گیا ہے۔ابتدائی طور پر اس منصوبے کی لاگت 4287.59 کروڑ روپے منظور کی گئی تھی، تاہم نظرثانی کے بعد اس کی مجموعی لاگت 5409 کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے، جس میں 1121 کروڑ روپے سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔حکام کے مطابق منصوبے کا زیادہ تر بنیادی تعمیراتی کام مکمل ہو چکا ہے اور اب اہم مرحلہ الیکٹرو مکینیکل آلات کی تنصیب اور کمیشننگ کا جاری ہے۔ اس مرحلے کو منصوبے کی حتمی تکمیل کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔سرکاری ذرائع کے مطابق یہ منصوبہ متعدد بار تاخیر کا شکار رہا ہے۔ ابتدا میں اسے ستمبر 2023 تک مکمل ہونا تھا، بعد ازاں یہ ہدف جولائی 2025 اور پھر دسمبر 2026 تک بڑھا دیا گیا۔ یوں مجموعی طور پر منصوبے میں تقریباً 39 ماہ کی تاخیر واقع ہوئی ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ تاخیر کی بنیادی وجوہات میں ارضیاتی پیچیدگیاں، دشوار گزار پہاڑی خطہ، شدید موسمی حالات اور دور دراز علاقوں میں بڑے پیمانے پر تعمیراتی کام کی مشکلات شامل ہیں۔چناب ویلی پاور پروجیکٹس پرائیویٹ لمیٹڈ کے تحت تعمیر ہونے والا یہ منصوبہ این ایچ پی سی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن کا مشترکہ منصوبہ ہے، جس میں این ایچ پی سی کا 51 فیصد اور جے کے ایس پی ڈی سی کا 49 فیصد حصہ ہے۔ چناب دریا پر تعمیر ہونے والا یہ رن آف ریور منصوبہ مکمل ہونے کے بعد سالانہ تقریباً 2272 ملین یونٹ بجلی پیدا کرے گا، جو شمالی گرڈ کو مضبوط بنانے اور ملک کی قابلِ تجدید توانائی میں اضافہ کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔منصوبے میں 135 میٹر بلند کنکریٹ ڈیم، ڈائیورڑن ٹنلز، پریشر شافٹس اور زیر زمین پاور ہاؤس شامل ہے، جہاں چار فرانسیس ٹربائن یونٹس نصب کیے جا رہے ہیں، جن کی مجموعی پیداواری صلاحیت 624 میگاواٹ ہے۔ماہرین کے مطابق کِرو منصوبہ چناب طاس کے وسیع ہائیڈرو پاور ترقیاتی پروگرام کا اہم حصہ ہے اور اس کی تکمیل سے خطے میں توانائی کے شعبے میں نمایاں بہتری متوقع ہے۔