شبیر حسین شبیر
زمانۂ جدید کی سب سے بڑی ستم ظریفی شاید یہی ہے کہ یہاں ہر شخص کو اپنی پہچان خود تراشنے کی کھلی چھوٹ مل گئی ہے۔ پہلے پہل تو یہ آزادی ایک نعمت معلوم ہوتی تھی، مگر اب یہی نعمت رفتہ رفتہ زحمت بنتی جا رہی ہے۔ سوشل میڈیا کے اس بے لگام جنگل میں ہر ہاتھ میں موبائل ہے اور ہر موبائل میں ایک ’’خود ساختہ صحافی‘‘ اور ’’نوخیز شاعر‘‘ بیدار ہو چکا ہے، ایسا شاعر جسے ادب و شاعری کے بنیادی اصولوں کا پتہ نہیں اور ایسا صحافی جسے خبر کی حرمت کا شعور نہیں۔اب صحافت کسی ادارے، تربیت یا اصول کی محتاج نہیں رہی۔ بس ایک فیس بک پیج، دو چار واٹس ایپ گروپس اور تھوڑی سی بے باکی (یا یوں کہیے بے شرمی) درکار ہے، اور آپ بھی ’’عوامی آواز‘‘ بن سکتے ہیں۔ خبر کی تصدیق، الفاظ کی ذمہ داری، اور کردار کی سچائی، یہ سب پرانے زمانے کی فرسودہ روایات ٹھہریں۔ اب تو جو سب سے پہلے چیخے، وہی سچا، اور جو سب سے زیادہ شور مچائے، وہی معتبر!
یہ خود ساختہ صحافی نہ صرف لوگوں کا بخیہ ادھاڑتے ہیں بلکہ سچ اور جھوٹ کے درمیان کی لکیر کو بھی مٹا دیتے ہیں۔ ان کے کیمروں کی آنکھ میں نہ اخلاق کی جھلک ہے اور نہ قلم میں دیانت کی روشنی۔ گویا صحافت ایک مقدس پیشہ نہیں رہا، بلکہ ایک کھیل بن چکا ہے، ایسا کھیل جس میں اصولوں کی کوئی قیمت نہیں اور شہرت کا ہر شارٹ کٹ جائز ہے۔
ادھر ادب کا حال بھی کچھ مختلف نہیں۔ مشاعرے جو کبھی ذوقِ سخن کی معراج ہوا کرتے تھے، اب محض تماشہ گاہ بن چکے ہیں۔ سٹیج پر وہ لوگ جلوہ افروز ہوتے ہیں جنہیں نہ لفظوں کی حرمت کا احساس ہے اور نہ خیال کی لطافت کا شعور۔ قافیہ اور ردیف ان کے لیے ایسے اجنبی ہیں جیسے کسی بچے کے لیے فلسفۂ ارسطو۔
یہ شعراء نہیں، لفظوں کے سوداگر ہیں، جو داد سمیٹنے کے لیے جذبات کی سستی نمائش لگاتے ہیں۔ سامعین بھی بیچارے کیا کریں، وہ بھی اب سنجیدگی سے زیادہ تفریح کے طلبگار ہو چکے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے ادب کا معیار کسی گہرے کنویں میں گر چکا ہے اور ہم سب اس کے کنارے کھڑے تالیاں بجا رہے ہیں۔حیرت کی بات تو یہ ہے کہ یہی خود ساختہ صحافی ان غیر معیاری شعراء و ادباء کو پروموٹ کرتے ہیں اور یہی غیر معیاری شعراء و ادباء ان صحافیوں کی تعریفوں کے پل باندھتے ہیں۔ ایک عجیب سا گٹھ جوڑ قائم ہو چکا ہے، جہاں نہ سچ کی اہمیت ہے اور نہ فن کی عظمت۔ بس ایک دوسرے کو اوپر اٹھانے کا ڈھونگ، اور نیچے گرنے کا خاموش سفر۔
کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ اصل اہلِ قلم کسی گوشۂ گمنامی میں بیٹھے ان حالات پر آنسو بہا رہے ہیں اور میدان ان لوگوں کے ہاتھ میں ہے جو نہ قلم کی حرمت جانتے ہیں اور نہ لفظ کی وقعت۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اس ہجوم میں تمیز پیدا کی جائے۔ صحافت کو دوبارہ اس کی اصل روح، یعنی سچائی، دیانت اور ذمہ داری کی طرف لوٹایا جائے اور ادب کو ان ہاتھوں سے بچایا جائے جو اسے محض تفریح کا ذریعہ بنا چکے ہیں۔ ورنہ وہ دن دور نہیں جب ہم لفظوں کے اس بازار میں سچ، حسن اور معیار، تینوں کو کھو بیٹھیں گے۔
آخر میں بس اتنا ہی کہنا کافی ہے کہ’’ہر ہاتھ میں قلم ہونا اچھی بات ہے، مگر ہر قلم کا اہل ہونا ضروری نہیں۔‘‘
رابطہ۔099067 54208