شخصیات
کے ڈی مینی
دربار بابا جی صاحب کے سجادہ نشین میاں الطاف احمددبے کچلے لوگوں، گجر قوم کی امید، بھروسے اور اعتماد کی علامت مانے جاتے ہیں۔ دور پہاڑوں، ڈھوکوں اور کٹے پھٹے علاقوں سے لوگ ایک امید کے ساتھ دربارِ عالیہ حضرت بابا جی صاحب میں سجادہ نشین میاں الطاف احمد کے پاس آتے ہیں کیونکہ یہاں انہیں روحانی فیض حاصل ہوتا ہے، دنیاوی راحت ملتی ہے اور عوامی رہبری نصیب ہوتی ہے۔ میاں صاحب بڑے پرخلوص انداز میں ان سے ملتے ہیں، ان کے معاملات کو سمجھتے ہیں اور پھر سرکاری دفاتر میں ان کے حل کراتے ہیں، تو انہیں بھروسہ ہو جاتا ہے کہ کوئی ہے جو ان کا ہے۔ پھر میاں صاحب مخصوص دوائیہ مجلس میں ان کے لیے دعا کرتے ہیں تو مریدوں کو یقین ہو جاتا ہے کہ یہ وہی مقام ہے جہاں دین اور دنیا سنورتی ہے۔ اسی لیے گجر اور دبے کچلے لوگ پچھلے 135برس سے دربارِ عالیہ کے بزرگوں سے جڑے ہوئے ہیں جسے وہ روحانیت کا قلعہ مانتے ہیں۔
میاں الطاف احمد گزشتہ 30برسوں کے دوران اپنے عوام میں مقبولیت کے باعث پانچ بار ممبرِ اسمبلی رہے ہیں اور 2024میں آپ اننت ناگ۔راجوری پارلیمانی حلقے سے ممبرِ لوک سبھا ہیں اورلوک سبھا میں آپ کی آواز کشمیر کی آواز بن کر ابھر رہی ہے۔
میاں احمد کی ولادت بابا نگری وانگت میں 1957میں ہوئی۔ ہوش سنبھالا، والدین کی محبت و شفقت اور درگاہ شریف کے روحانی ماحول نے آپ کو سچ، حق اور انصاف کے راستوں پر ڈال دیا۔ بنیادی تعلیم کے لیے وانگت اسکول میں داخلہ لیا۔ کئی بار آپ نے اسکول کی تعمیر کے لیے پتھر توڑے۔ ان دنوں آپ کے دادا صاحب حضرت میاں نظام الدین ابھی زندہ تھے۔ الطاف صاحب ان کی خدمت میں رہ کر پذیرائی حاصل کرتے اوردرگاہ پر آنے والے مریدوں کی دیکھ بھال بڑی انکساری سے کرتے رہے۔ وانگت میں بنیادی تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ نے ڈی اے وی کالج سری نگر میں داخلہ لیا، لیکن جب بھی آپ وانگت آتے تو دربار کے کاموں سے وابستہ ہو جاتے اور اپنے والد میاں بشیر احمد کی روحانی مجالس سے بھی فیضیاب ہوا کرتے تھے، جس کے باعث آپ درگاہ کے دینی ماحول اور سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ کے اصولوں سے متاثر ہوتے گئے۔ پھر ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کرنے تک آپ کی رغبت سماجی کاموں کی طرف مائیل ہوتی گئی۔
میاں الطاف احمد کا رجحان شروع سے ہی لوگوں کی بہتری کی طرف مائل رہا اور دین اور درگاہ سے آپ کا لگاؤ بڑھتا گیا۔ آپ والدِ محترم میاں بشیر احمد کا بے حد احترام کرتے تھے جنہوں نے صلاح دی کہ آپ سرکاری ملازمت کے بجائے عوام کی خدمت کر کے ان کے دکھ بانٹیں، ان پر ہونے والے استحصال کو روکنے کے لیے کام کریں اور دینی مجالس میں شرکت کیا کریں۔ چنانچہ میاں الطاف احمد نے سرکاری نوکری کا خیال چھوڑ دیا اور ایک صنعتی ادارہ قائم کیا، لیکن وہ آپ کو راس نہ آیا۔ ادھر دربار بابا جی صاحب پر آنے والے مریدوں کی اکثریت کی حالتِ زار نے آپ کے اندر ایک ہلچل جاری رکھی ، چنانچہ آپ نے فیصلہ کیا کہ آپ دور افتادہ علاقہ میں رہنے والے بے بس اور بے کس لوگوں کے دکھ درد کم کرنے اور دباؤ و ظلم کے خلاف لڑائی لڑیں گے۔ ساتھ ہی ساتھ آپ والدِ محترم کی ہدایت کے مطابق درگاہ پر رہے اور لنگر چلانے کے معاملات میں مشغول ہوتے گئے۔اسی خمیر سے تیار ہونے والی شخصیت میاں الطاف احمد کو 1987 میں کنگن اسمبلی حلقہ انتخاب سے چناؤ لڑنے کا مینڈیٹ ملا جسے آپ نے اس حلقے سے بآسانی جیت حاصل کی۔ کانگریس۔نیشنل کانفرنس مخلوط حکومت میں آپ کو بحیثیت کابینہ وزیر شامل کیا گیا۔ اس کے بعد میاں صاحب نے مسلسل پانچ بار کنگن سے اسمبلی کا چناؤ لڑا اور ہر بار پہلے سے زیادہ ووٹوں کی اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔ ادھر والدِ محترم حضرت میاں بشیر احمد لاروی کے انتقال کے بعد آپ 8جون 2017میں دربار بابا جی صاحب کے سجادہ نشین بنے۔
2024میں جب لوک سبھا کے انتخابات ہوئے تو نیشنل کانفرنس پارٹی نے آپ کو اننت ناگ–راجوری–پونچھ سے چناؤ لڑنے کا مینڈیٹ دیا۔ اگرچہ آپ نے بہت کم انتخابی مہم میں حصہ لیا، اس کے باوجود جب نتائج سامنے آئے تو میاں الطاف احمد لاروی بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے۔اس جیت میںگُجر اور پہاڑی لوگوں نے مل کر میاں صاحؓ کو ووٹ دیکر انھیں کامیاب بنایا کیونکہ پہاڑی علاقوں میں رہنے والے گجر اور پہاڑی لوگوں کے ساتھ آپ کا پیری مریدی کا رشتہ بھی ہے۔
میاں الطاف احمد جموں و کشمیر میں دوبار کابینہ وزیر کی حیثیت سے بھی کام کر چکے ہیں اور ایک بار محکمہ سماج سدھار کا چارج بھی آپ کے پاس رہا۔ آپ ان لوگوں کی نمائندگی کرتے رہے ہیں جن کا کوئی نہیں ، جو دبے کچلے ہیں ، پسماندہ اور بے سہارا ہیں، دور پہاڑوں ڈھوکوں اور جنگلوں میں رہتے ہیں۔ آپ ان کے لیے مسیحا بھی ہیں، مددگار بھی ہیں اور ان کی اُمید بھی۔جب کوئی مرید دور دراز علاقے سے آپ کے پاس پہنچتا ہے تو اسے دیکھ کر آپ کے چہرے پر خلوص اور درد مندی پھیل جاتی ہے۔ بڑی اپنائیت سے آپ ان سے بات کرتے ہیں، گھر والوں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں، اپنے پن کے جذبوں سے پیش آتے ہیں اور انہیں عزت سے نوازتے ہیں تو آنے والا آپ کے خلوص اور مروّت سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا ۔ پھر میاں صاحب آنے کی وجہ پوچھتے ہیں، ان کے مسائل پر بات ہوتی ہے پھر اسی وقت ٹیلی فون اٹھاتے ہیں، متعلقہ افسر سے بات کرتے ہیں اور پھر ان کے چہرے پر خوشی عود کر آتی ہے اور وہ اکثر مریدوں سے یوں مخاطب ہوتے ہیں:“میں نے بات کر لی ہے، آپ کا کام آج ہی ہو جائے گا۔ آپ لنگر سے کھانا کھائیں تب تک میں تیار ہو جاتا ہوں، آپ میرے ہی ساتھ چلیں، نہیں تو سیکرٹریٹ میں آپ کو روکا جائے گا”۔پھر وہ مرید، مسکین یا بے سہارا آدمی سیکرٹریٹ سے باہر آتا ہے تو اس کے ہاتھ میں اس کے مسائل کا حل ہوتا ہے، اس کا کام ہو چکا ہوتا ہے۔ یہ روز کا معمول ہے۔
1946 میں پہلی بار دربارِ عالیہ کے سجادہ نشین حضرت میاں نظام الدین جموں و کشمیر پرجا سبھا کے لیے منتخب ہوئے تھے۔ آزادی کے بعد 1952 سے 1967 تک آپ ممبرِ اسمبلی رہے۔ ان کے بعد صاحبزادے میاں بشیر احمد لاروی 1967 سے 1987 تک کنگن حلقے سے ایم ایل اے رہے۔ 1987 میں جب آپ نے چناؤ لڑنے سے انکار کیا تو آپ کے جگر گوشے میاں الطاف احمدنے 1987 سے 2024 تک پانچ بار کنگن سے ایم ایل اے چنے جاتے رہے۔اُدھر میاں بشیر احمد شیخ محمد عبداللہ کی وزارت میں وزیر رہے جبکہ میاں الطاف احمد دوبار کابینہ وزیر رہے۔ اس طرح میاں خاندان کو پچھلے 78 برس سے عوام کی خوشنودی حاصل رہی ہے کیونکہ ان کی سیاست غریب سے غریب، پسماندہ اور دبے کچلے لوگوں کی سیاست رہی ہے جن کا کوئی نہیں ہوتا ا وہ ان کے کام آتے ہیں۔
اس وقت آپ لوک سبھا میں نیشنل کانفرنس جماعت کی طرف سے بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ جموں و کشمیر کے مسائل اجاگر کر رہے ہیں اور مرکزی حکومت کو ایکشن لینے پر آمادہ کر رہے ہیں۔ آپ کی وزن دار تجاویز اور مشورے جموں و کشمیر کے عوام کی آواز بن کر سامنے آ رہے ہیں۔ آپ کی میانہ روی، خوش اخلاقی اور بلا لحاظ مذہب و ملت کام کرنے کا انداز آپ کے قد کو قد آورو بنا رہا ہے۔ لوک سبھا میں آپ کے خاندان کے تاریخی پس منظر، روحانی مقبولیت اور گجر قبائل کے ورثے کی علامت ہونے کے باعث آپ کا بہت احترام کیا جاتا ہے۔
یاد رہے کہ آپ کے خاندان کے بزرگ اور روحانی ولی حضرت بابا عبیداللہ 1890کے آس پاس بالاکوٹ ہزارہ سے ہجرت کر کے کشمیر آئے اور ہری دھجی وانگت میں آباد ہوئے تھے جوحضرت بابا جی صاحب کے نام سے بھی مقبول ہیں ۔ اُس دور میں جموں و کشمیر کی گجر قوم دور پہاڑوں میں بکھری ہوئی تھی جن کا آپس میں کوئی رابطہ نہ تھا۔ چنانچہ حضرت بابا جی صاحب نے کشمیر کے پہاڑوں سے لے کر پونچھ اور راجوری میں رہنے والے گجر قبائل کی دینی اور روحانی رہبری کرنی شروع کی اور ان کی نشونما کر کے انھیں ایک لڑی میں پرودیا تھا جس کے باعث گُجر قوم کاتشخص پھر سے بحال ہونا شروع ہوا تھا ۔اس طرح حضرت باباجی صاحب کی ریاست جموں و کشمیر میں گُجر قبائیل کی شیرازہ بندی کرنے کی یہ پہلی کوشش تھی۔