شبیر احمد بٹ
مردُم شماری سے مراد کسی ملک یا علاقے کے رہنے والے باشندوں کی باقاعدہ گنتی کرنا اور ان کی سماجی و معاشی صورتحال کا مکمل ریکارڈ اکٹھا کرنا ہے ۔آبادی کی شرح ،روزگار اور رہائش کی تفصیلات ،عمر اور جنس کی درجہ بندی ،تعلیم کی شرح وغیرہ جیسی تفصیلات کو جمع کرانا ۔یہ مردُم شماری محض اعداد و شمار کا مجموعہ نہیں بلکہ ریاست کا آئینہ ہے جو بتاتا ہے کہ ہم کتنے ہیں اور کہاں کھڑے ہیں ۔اس جمع کردہ تفصیلات کے ذریعے ہی حکومتیں درست ملکی ترقی ،فلاحی منصوبوں اور مستقبل کی منصوبہ بندی کرتی ہے ۔ یعنی آبادیاتی، سماجی،ثقافتی اور اقتصادی اعداد و شمار کے ذریعے ہی منصوبہ سازی اور سیاسی ، سماجی اور اقتصادی شعبوں میں شواہد پر مبنی تفصیلات ہی فیصلہ سازی کو ممکن بناتی ہے ۔اس بات کو سمجھنا ضروری ہے کہ کسی بھی ملک کی پالیسی سازی میں مر دُم شماری سہولت فراہم کرتی ہے۔اس مردم شماری کے حوالے سے کسی بھی طرح کے خدشات یا شک و شبہات کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔اس سینسس کے زریعے کسی بھی شخص کے راشن ،بجلی یا پانی کے بل وغیرہ میں کوئی کمی پیشی نہیں ہوگی ۔کسی بھی شخص کی پراپرٹی پر ٹیکس وغیرہ سے اس سینسس کا کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔یہ مردم شماری ملک کی آزادی کے بعد آٹھویں مردم شماری ہے ۔اگرچہ ،1865 اور 1872 کے درمیان پہلی جدید مردم شماری کی گئی تھی لیکن یہ تمام خطوں میں بیک وقت نہیں تھی ۔ہندوستان میں پہلی بیک وقت مردم شماری 1881 میں کی گئی اور تب سے ہر دس سال بعد یہ مردم شماری ہوتی رہی اور ہر بار اس مردم شماری نے اپنے طریقہ کار کو بہتر بنانے کی کوششیں کیں ۔کوریج کو بڑھایا اور ملک کی آبادی کو بہتر طور پر سمجھنے کے لئے سوالناموں میں بھی ضروری تبدیلیاں کیں ۔کووِڈ اس مردم شماری میں تاخیر کا سبب بنا ۔یہ مردم شماری یعنیCencus 2027دنیا کی سب سے بڑی مردم شماری مہم ہوگی ۔جو ڈیجٹل شمولیت،مضبوط ڈیٹا سیکورٹی اور عمل کو مزید آسان بنانے کی جانب ایک زبردست اور بڑا قدم ہے ۔موبائل پر مبنی ڈیٹا جمع کرانا،اختیاری خود شماری کی سہولت ،درست جغرافیائی نقشہ سازی کا وسیع استعمال،ڈیٹا کی حفاظت اور عوامی شرکت کے اعلی ترین معیارات کو یقینی بناتے ہوئے اس مردم شماری کو زیادہ درست،موثر،شفاف اور تیز تر بنانے کے لئے جو اہم انتظامی اور تکنیکی اختراعات کی گئی ہیں وہ قابل ستائش ہے ۔یہ نہ صرف جدید بلکہ شواہد پر مبنی پالیسی سازی کے لئے زیادہ جامع اور بروقت آبادیاتی اعداو شمار کا باعث بھی بنے گی ۔اس مردم شماری کے لئے 11,718.24 کروڈ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے ۔ملک کے ہر باشندے کا فرض بنتا ہے کہ وہ اس میں اپنا بھر پور تعاون دے کر ملک کی ترقی میں اپنا حصہ ادا کرے اور بہترین شہری ہونے کا ثبوت دیں ۔ کیونکہ ہر انسان صرف ایک عدد نہیں بلکہ قوم کی ترقی کی کہانی کا ایک لازمی کردار ہے۔
مردم شماری 2027 کے دو مرحلے ہوں گے پہلا مرحلہ جیسا کہ آپ جانتے ہیں جون 2026 میں شروع ہونے جارہا ہے اور دوسرا مرحلہ فروری 2027 کے مہینے میں ہوگا ۔جب کہ چند جگہوں پر دوسرا مرحلہ رواں سال کے ستمبر میں ہی مکمل کیا جائے گا ۔جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے کہ اس مردم شماری کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ عوام کے لئے اختیاری خود شماری کی سہولت رکھی گئی ہیں یعنی اس بار عوام گھر بیٹھے ہی اپنے موبائل فون پر webbased link کے ذریعے اپنی جانکاری درج کرسکتا ہے ۔17 مئی سے31_مئی تک یہ سہولت مہیا رکھی جائے گی ۔آپ اپنے موبائل فون پر ڈیجٹل اپلیکیشن لاگن کریں گے، اس کے بعد آپ کے موبائل نمبر پر ایک او ٹی پی آئے گا، او ٹی پی حاصل کرنے کے بعد آپ آرام سے پوچھے گئے سوالات کے صحیح جوابات درج کرسکتے ہیں ۔اپنی جانکاری مکمل کرنے کے بعد آپ کو ایک سیلف انیو مریشن آئی ڈی یعنی
SEID Self Enumiration IDآئے گی ۔جب سرکاری آفیسر آپ کے گھر اس سلسلے میں آئے گا تو آپ کو صرف وہی خود شماری کا آئی ڈی نمبر اسے دکھانا ہے اور وہ
اسے تصدیق کرے گا ۔اس طرح سے آپ خود اس مردم شماری کے پہلے مرحلے کو مکمل کرکے اس بات کا ثبوت پیش کر سکتے ہیں کہ ملک کا ہر انسان صرف ایک عدد نہیں بلکہ قوم کی ترقی کی کہانی کا ایک لازمی کردار ہے ۔