ماسٹر طارق ابراہیم سوہل
دورِ جہالت کی روایات پھر سے بنت حوا کے وجود کو اپنی حرص و ہوس اور ظلم و زیادتی کا ہدف بنانے میں مسلسل، بعید از عقل اور حیران کن ہتھکنڈوں کے سہارے، بڑی بے مہری اور سنگدلی کے ساتھ نوچ رہی ہیں۔گلوں کی مہک، طائروں کی چہک،بہاروں کی رنگینی، شاعروں کی شاعری،محبت کی داستان، مہر و وفاء کا سامان، تسکین خاطر کا خزینہ، شفقت کا دفینہ اور اولاد آدم کی بقاء کی ضمانت، حوا کی بیٹی، عصر حاضر کی اس بے روح تہذیب کے تیزاب میں جھلس رہی ہے۔ جہاں آجکی اس مہذب دنیا میں، جب تحقیق اور مشاہدے سے معلوم ہوتا ہے کہ عوامی سطح پے قیادت و سیادت اور امامت کے مناصب سنبھالنے کے مدعیان، اپنی تمام تر فرنگی دانش اور سیاسی حلقوں میں معروف ہو نیکے باوجود اپنی ہی شریک حیات پے شب و روز، طعن و تشنیع اور تحقیر کے تیر برسانے کے علاؤہ جسمانی تشدد کے بعد ہی اپنی انا کو تسکین پہنچا تے ہیں تو پھر وہاں عام لوگوں کے، اپنے گھروں کی چار دیواری کے اندر، اس صنف نازک کے ساتھ کیا کچھ گذرتی ہوگی اور اسکی حالت زار کیا ہوگی ، اندازہ لگانا دشوار نہیں۔
اس خیاباں کو ریگزاروں میں بدلنے والو، عورت بہن کی شکل میں دعاؤں کا سمندر یے، بیٹی نوید رحمت الٰہی کا سامان ہے، ماں باغ رضواں ہے اور شریک حیات ربّ ذوالجلال کا ایک اعزاز ہے اور ایک احسان ہے۔
حضرت آدمؑ جنت میں تماتر نعمتوں اور ہر غم سے آزاد ہوتے ہوئے بھی تنہائی کے کرب سے دو چار تھے کیونکہ ابھی اسکی تسکین خاطر اور دلجمعی کا عظیم تحفہ یعنی حضرت حوا کی تخلیق باقی تھی۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان آسائشوں سے نہیں بلکہ رفاقت سے زندہ رہتا ہے اور انسان کی تخلیق، تکمیل کے لئے عورت کے وجود کا محتاج ہے۔اس لئے رب ذوالجلال نے آدمؑ کو سب سے عظیم تحفہ ،حضرت حوا کی شکل میں بخشاء۔ وہاں جنت میں بھی، دل کو سکون ، مادی نعمتوں سے نہیں بلکہ قلبی تعلقات کی وابستگی سے ملا مگر یہاں ہم عورت کے حقوق کی پائمالی میں جنت کو تلاش کر رہے ہیں۔
کائنات کے حسن و جمال اور انسانیت کے بقاء کے اس گلستان کی کلیوں کو مسلنے والو، تمہاری انا سے تمہاری آنکھوں میں چاند اتر آیا ہے، تمہارے دلوں کی وسعتیں بہیمیت اور حرص و ہوس کی خباثت و کثافت سے لبریز ہیں اور تمہارے کانوں میں جہالت کے ڈاٹ لگے ہوئے ہیں۔تمہاری مردانگی اپنے گھر کی نازک اندام شریک سفر کی آواز دبانے اور زد و کوب کرنے تک ہی محدود ہے۔اگر تم اپنی اہلیہ کے لئے بہتر نہیں تو پھر پوری دنیا کے لئے آپ سے کسی خیر کی توقع نہیں۔
اگر تمہاری روح ابھی زندہ ہے تو سن لو واقعہ اس عظیم محسن انسانیت کا بتاؤں جسکے متعلق رب کائنات نے قرآن میں فرمایا،’’ اے نبی! تیرا ذکر ہم نے بلند کردیا ۔‘‘جہاں الله نے اپنا نام ذکر کیا تو وہاں انکا نام بھی ساتھ لیا۔جنکے بارے میں اعلان کر دیا،’’اے نبی! ہم نے تجھے سارے عالموں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا۔‘‘جسے غیروں نے بھی درجہ اول کا عظیم شاہکار و کردار تسلیم کیا۔ جس کے متعلق Michael.H.Hart نے دنیا کی سو اعلیٰ ترین تاریخی و روحانی شخصیات میں، سب سے معظم تسلیم کیا۔جسکے بارے میں Bernawd Shaw نے اعتراف کیا کہ حضرت محمدؐ کا لایا ہوا دین، غیر معمولی زندگی بخش ہے،اس وجہ سے میں اسے قدر نگاہ سے دیکھتا ہوں۔جسکے کردار کا مہاتما گاندھی نے اعتراف کیا کہ محمدؐ کی سیرت، تماتر دنیاوی مسائل کو امن اور خوشحالی کے ساتھ حل کرنے کا بہترین نظام پیش کرتی ہے۔ذرا دیکھتے ہیں ،آپ کا اپنی ازواج مطہرات کے ساتھ کیا رویہ تھا۔ خوف طوالت حائل ہے، اس لئے ایک دو واقعات ہی نقل کرنے کی گنجائش ہے۔
قافلہ جا رہا تھا، چند اونٹوں پے ازواج مطہرات سوار تھیں۔حضرت انجشہؓ ، خوش الثانی سے ہدی خواں تھے اور اشعار پڑھ رہے تھے تاکہ اونٹوں کے چلنے کی رفتار تیز ہو جائے۔الله کے نبیؐ نے فرمایا،’’ اے انجشہ! آہستہ چلو، ان شیشوں(آبگینوں) کا خیال رکھو۔‘‘ یعنی اونٹوں پے سوار ازواج مطہرات کو اونٹوں کی سبک رفتاری سے تکلیف کا سامنا نہ ہو۔
ربّ ذوالجلال ارشاد فرماتے ہیں،’’ یہ عورتیں تمہارا لباس ہیں اور تم انکا لباس۔‘‘الله کے نبیؐ کا فرمان ہے کہ تم میں سے بہتر وہ شخص ہے جو اپنے گھر والوں ،یعنی اپنی بیوی کے لئے بہتر ہو۔اتنا ہی نہیں بلکہ یہ بھی ارشاد فرمایا عورتوں کے ساتھ بھلائی کرنے کی وصیت قبول کرو۔
دراصل ہمارے معاشرے میں صنف نازک پر جبر و استبداد اور ظلم کی جو روح فرسا داستانیں رقم ہو رہی ہیں، وہ ہماری انتہاء درجے کی جہالت کا واضح ثبوت اور کھلی دلیل ہے۔ چونکہ ہم ضابطہ اخلاق کی روح سے قطعی طور بیگانہ ہیں۔رب ذوالجلال فرقان مجید میں اعلان کرتے ہیں کہ بے شک تمہارے لئے نبی کریمؐ بہترین نمونہ ہے۔ مگر ہم نے اس عملی نمونے کی تاریخ اور کردار کو جاننے کی، کبھی زحمت گوارہ نہ کی۔
ایک اور واقعہ نقل کر دیتا ہوں۔شاید ہماری نجات اور رب کی رضا کا ذریعہ اور معاشرے کے ذہنی طور مرض و مفلوج اور بے راہ و بےمہار افراد کی اصلاح کی راہ ہموار ہو۔یہ جو آجکل عورتوں کے استحصال کی خوفناک داستانیں رقم ہو رہی ہیں ،انکے پس پردہ بد گمانی کا عنصر محرک ہے۔حالانکہ قرآن مقدس میں بد گمانی سے بچنے کی واضح تلقین ہے۔اکثر و بیشتر افراد اپنی ازواج کے متعلق بدگمانی کے مرتکب ہو رہے اور اس بد گمانی کو ، ہر معاشرے میں تقویت پہنچانے کے لئے، منافقین کا ایک گروہ موجود ہوتا ہے اور منافقین اس فکر سے بے نیاز ہوتے ہیں کہ گھر کا کس کاجلے گا،سکون کس کا اجڑے گا ،عفت و عصمت اور نام و مقام کس کا داؤ ہے لگے گا ۔ رئیس المنافقین عبد الله ابن ابی ابن سلول نے، حضرت عائشہ صدیقہؓپر الزام تراشی کرکے اُنکے دامن عفت کو داغدار اور نبی اکرمؐ کے دل و دماغ میں شکوک پیدا کرنے کی نا پاک کوشش کی اور اس بہتان تراشی کی مہم میں چند سادہ لوح صحابہ کو اپنی شاطر دماغی سے ملوث کر دیا۔اس واقعہ کی آواز جب رسول اللهؐ کے گوشان مبارک تک پہنچی تو انہیں شدید رنج و الم لاحق ہوا، بلکہ پورے مدینے کی آبادی میں اُداسی پھیل گئی۔ اس موقعے پے الله کے نبیؐ نے حضرت عائشہؓ سے خطاب کرتے ہو کہا،’’ اے عائشہ اگر تم بے قصور ہو تو الله رب العزت تمہاری برأت خود کریگا، اور اگر تم سے خطا سرزد ہوئی ہو تو توبہ کرو۔‘‘ان واقعات سے جہاں ہمیں عورتوں کے مقام و حقوق کی عظمت کا تعین کرنے میں رہبری ملتی ہے تو وہیں ہمیں اپنے کردار اور اپنے خفتہ ضمیر کو بیدار کرنےکی دعوت بھی۔ آج کئی خاندانوں میں، عورتوں ہے تشدد، تحقیراور استہزاء کے مسلسل واقعات نے انگنت خواتین کی زندگیوں کو اجیرن بنا دیا ہے۔ انسانیت اور اخلاقی اقدار کو پائمال کر دیا ہے۔اس ابلیسی روش کے خلاف صف بستہ ہوکرمعاشرے میں مظلوم خواتین کو انصاف دلانے کے لئےہر محاذ پے زوردار طریقے سے سر کشوں کی سر کوبی کی تیزگام مہم جوئی نا گزیر ہے۔جن گھروں میں خواتین کی عزت کی جاتی ہے، حقوق تسلیم کئے جاتے ہیں، حوائج کی فکر کی جاتی ہے، تحفظ کا احساس دیا جاتا ہے، اس گھر میں مہر و وفاء کی کلیاں مسکراتیں ہیں، خیر و برکت کی برسات ہوتی ہے، امن و آشتی کے چراغ روشن ہوتے ہیں، سماج میں قدر و منزلت نصیب ہوتی ہے اور اس گھر کی اولاد کی کردار سازی کی فضاء قائم رہتی ہے۔
رابطہ۔9858018662.