عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// جموں و کشمیر میں پہلی بار بین الاقوامی فلم فیسٹیول کا انعقاد کیا جا رہا ہے جو 7 سے 11 ستمبر تک جاری رہے گا۔ یہ تاریخی ایونٹ خطے کو عالمی فلمی صنعت اور سیاحت کے مرکز کے طور پر پیش کرنے کی ایک اہم حکومتی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔سرکاری ذرائع کے مطابق یہ فیسٹیول نیشنل فلم ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے تعاون سے منعقد کیا جائے گا، اور حکومت جلد ہی این ایف ڈی سی کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرے گی۔ اس ایونٹ میں بالی ووڈ اور ہالی ووڈ کی نمایاں شخصیات کی شرکت متوقع ہے، جبکہ دنیا بھر سے منتخب فلموں کی نمائش بھی کی جائے گی۔ فیسٹیول کی افتتاحی اور اختتامی تقریبات سرینگر کے انٹرنیشنل کانفرنس سینٹر میں منعقد ہوں گی۔ اس کے ساتھ ساتھ وادی اور جموں کے مختلف اہم سیاحتی مقامات کو فلم اسکریننگ کے لیے زیر غور لایا جا رہا ہے۔
مجوزہ مقامات میں گلمرگ، پہلگام، سونمرگ، بھدرواہ اور جموں شامل ہیں۔ حتمی فیصلہ ایک اعلیٰ سطحی انتظامی کمیٹی کرے گی جو فیسٹیول کی تمام سرگرمیوں کی نگرانی کرے گی اور این ایف ڈی سی کے ساتھ مشاورت کے بعد عملی منصوبہ تیار کرے گی۔سرکاری اندازوں کے مطابق اس بین الاقوامی فلم فیسٹیول کی لاگت تقریباً 20.75 کروڑ روپے ہوگی، جس کے لیے پہلے ہی بجٹ میں انتظامات کیے جا چکے ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیسٹیول جموں و کشمیر کی فلمی صنعت کے لیے ایک نیا باب ثابت ہوگا اور عالمی سطح پر خطے کی مثبت شناخت کو فروغ دے گا۔حکام کے مطابق تفصیلی شیڈول، بین الاقوامی مہمانوں اور فلموں کی مکمل فہرست مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد جاری کی جائے گی۔ حکام نے مزید کہا کہ بین الاقوامی فلم فیسٹیول کے انعقاد کو جموں و کشمیر کی ثقافتی بحالی اور عالمی سطح پر مثبت تشخص کے فروغ کے لیے ایک اہم سنگ میل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس اقدام کے ذریعے نہ صرف عالمی فلم سازوں کو خطے کے دلکش قدرتی مناظر اور تاریخی ورثے سے متعارف کرایا جائے گا بلکہ مقامی فنکاروں، ہنرمندوں اور نوجوانوں کو بھی ایک بین الاقوامی پلیٹ فارم فراہم ہوگا جہاں وہ اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر سکیں گے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق اس فیسٹیول سے سیاحت کے شعبے کو نئی توانائی ملنے کی توقع ہے، جبکہ مقامی معیشت میں بھی بہتری آئے گی کیونکہ ہوٹلنگ، ٹرانسپورٹ، ہنر مندی اور سروس سیکٹر میں سرگرمیاں بڑھیں گی۔