محند امین میر
جموں و کشمیر میں ہزاروں شہری اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی خرچ کرکے زمین خریدتے ہیں۔ وہ قانونی تقاضے پورے کرتے ہیں، اسٹامپ ڈیوٹی ادا کرتے ہیں، رجسٹریشن فیس جمع کرتے ہیں اور باقاعدہ رجسٹرڈ سیل ڈیڈ حاصل کرتے ہیں۔ خریدار یہ سمجھتے ہیں کہ سب رجسٹرار کے دفتر میں رجسٹری مکمل ہونے کے بعد ملکیت کی منتقلی کا عمل اختتام پذیر ہو گیا ہے اور ریونیو ریکارڈ میں انتقال کا اندراج ایک رسمی اور انتظامی کارروائی ہے۔بدقسمتی سے زمینی حقیقت اس سے مختلف ہے۔ مختلف علاقوں میں بے شمار انتقالات اس وجہ سے برسوں سے زیر التوا ہیں کہ متعلقہ مسوی، لتھا، نقشہ جات یا دیگر ریونیو ریکارڈ دستیاب نہیں ہیں۔ کہیں ریکارڈ ضائع ہو چکا ہے، کہیں خراب ہو گیا ہے اور کہیں متعلقہ دستاویزات کا سراغ ہی نہیں ملتا۔ نتیجتاً وہ افراد جنہوں نے قانونی طور پر زمین خریدی، تعمیرات کیں اور زمین پر قبضہ بھی حاصل کر لیا، وہ بھی ریونیو ریکارڈ میں اپنے حقوق کے اندراج سے محروم رہتے ہیں۔ کیا حکومت کے اپنے ریکارڈ کی عدم دستیابی کسی شہری کے اس حق کو ختم کر سکتی ہے جو اسے ایک قانونی طور پر رجسٹرڈ سیل ڈیڈ کے ذریعے حاصل ہوا ہو؟قانونی اور آئینی نقطۂ نظر سے اس سوال کا جواب نفی میں ہونا چاہیے۔
سب سے پہلے انتقال (Mutation) کی نوعیت کو سمجھنا ضروری ہے۔انتقال ملکیت پیدا نہیں کرتا،ملکیت مختلف قانونی ذرائع سے منتقل ہوتی ہے، مثلاًفروخت (Sale)، ہبہ (Gift)،وراثت (Inheritance)،تبادلہ (Exchange)، تقسیم (Partition)،عدالتی حکم (Court Decree)،یا کسی قانون کے تحت ملکیت کا انتقال۔انتقال کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ ریونیو ریکارڈ میں اس تبدیلی کو درج کیا جائے۔بھارت کی مختلف عدالتیں بارہا قرار دے چکی ہیں کہ انتقالی اندراجات بنیادی طور پر مالیاتی اور انتظامی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ یہ نہ تو ملکیت پیدا کرتے ہیں اور نہ ہی ملکیت ختم کرتے ہیں۔چنانچہ جب ایک درست اور رجسٹرڈ سیل ڈیڈ موجود ہو تو ملکیت کا حق اسی دستاویز سے پیدا ہوتا ہے جبکہ انتقال اس حق کی ریونیو ریکارڈ میں عکاسی کرتا ہے۔
رجسٹریشن کا نظام جائیداد کے لین دین میں یقین، شفافیت اور قانونی تحفظ فراہم کرنے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ایک رجسٹرڈ سیل ڈیڈ درج ذیل مراحل سے گزر کر وجود میں آتی ہے۔فریقین کی تصدیق،شناخت کی جانچ،اسٹامپ ڈیوٹی کی ادائیگی،رجسٹریشن فیس کی وصولی،سرکاری ریکارڈ میں اندراج،دستاویز کا مستقل تحفظ،لہٰذا رجسٹریشن محض ایک رسمی کارروائی نہیں بلکہ ریاست کے ایک مجاز افسر کے ذریعے انجام دیا جانے والا قانونی عمل ہے۔جب حکومت خود ایک لین دین کو رجسٹر کرتی ہے اور اس کے عوض فیس وصول کرتی ہے تو شہری کو یہ جائز توقع حاصل ہوتی ہے کہ بعد میں اسی لین دین کو ریونیو ریکارڈ میں بھی تسلیم کیا جائے گا۔مسوی، لتھا، فیلڈ بکس، نقشہ جات اور دیگر ریونیو ریکارڈ حکومت کی تحویل میں موجود عوامی دستاویزات ہیں،ان کی حفاظت اور نگہداشت شہریوں کی نہیں بلکہ ریاست کی ذمہ داری ہے۔اگر یہ ریکارڈ درج ذیل وجوہات کی بنا پر ضائع ہو جائیں۔سیلاب،آتش زدگی،غفلت،ناقص انتظام،دفاتر کی منتقلی،ریکارڈ مینجمنٹ کی ناکامی،تو اس کا بوجھ کسی بے قصور خریدار پر نہیں ڈالا جا سکتا۔کسی شہری کو یہ کہنا کہ:’’آپ کا انتقال اس لیے درج نہیں ہو سکتا کیونکہ حکومت اپنا ریکارڈ محفوظ نہیں رکھ سکی‘‘ انصاف، مساوات اور اچھی حکمرانی کے اصولوں کے منافی ہے۔
مسوی زمین کی شناخت کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ یہ تاریخی طور پر بندوبست اراضی کے دوران تیار کی جاتی رہی ہے اور ریونیو نقشہ جات کی بنیاد سمجھی جاتی ہے۔تاہم جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں آج بھی کئی مسویات ضائع ہو چکی ہیں،خراب ہو چکی ہیں،نامکمل ہیںیا ڈیجیٹل شکل میں محفوظ نہیں کی گئیں۔اس کے نتیجے میں ہزاروں انتقالی معاملات صرف نقشہ جات کی عدم دستیابی کی وجہ سے رُکے ہوئے ہیں۔کیا انتقالی کارروائی غیر معینہ مدت تک زیر التوا رکھی جا سکتی ہے؟قانون اس بات کی اجازت نہیں دیتا۔کوئی بھی انتظامی یا نیم عدالتی کارروائی لامحدود مدت تک زیر التوا نہیں رکھی جا سکتی۔اگر ایک مخصوص ریکارڈ دستیاب نہیں ہے تو متعلقہ افسران پر لازم ہے کہ وہ متبادل ذرائع سے زمین کی شناخت اور حقائق کی تصدیق کریں۔قانون ناممکنات کا تقاضا نہیں کرتا۔ آج کے دور میں زمین کی شناخت کے کئی متبادل ذرائع موجود ہیں، مثلاً جمعبندی، گرداوری ریکارڈ،رجسٹرڈ سیل ڈیڈ،تتیمہ نقشہ،موقعہ معائنہ،ہمسایہ مالکان کے بیانات،جی پی ایس سروے،ڈیجیٹل نقشہ جات، سیٹلائٹ امیجری،سابقہ انتقالی ریکارڈ،لہٰذا صرف مسوی کی عدم دستیابی کی بنیاد پر کارروائی روک دینا انتظامی جمود کے مترادف ہے۔انتظامی قانون کا ایک اہم اصول ’’جائز توقع‘‘ ہے۔جب کوئی شہری حکومت کی نگرانی میں رجسٹرڈ سیل ڈیڈ حاصل کرتا ہے تو اسے یہ جائز توقع ہوتی ہے کہ متعلقہ سرکاری محکمے اس لین دین کے نتائج کو تسلیم کریں گے۔ریاست ایک طرف رجسٹریشن فیس وصول کرے اور دوسری طرف اپنے ریکارڈ کی کمی کو جواز بنا کر انتقال درج نہ کرے تو یہ انتظامی انصاف کے اصولوں کے خلاف ہوگا۔
آئین ہند کا آرٹیکل 14 تمام شہریوں کو مساوات اور غیر امتیازی سلوک کی ضمانت دیتا ہے۔اسی طرح آرٹیکل 300A شہریوں کے حقِ ملکیت کو قانونی تحفظ فراہم کرتا ہے۔اگرچہ انتقال خود ملکیت پیدا نہیں کرتا، لیکن اس کے بغیر شہری کو متعدد مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔زمین کی فروخت میں دشواری،بینک قرض کے حصول میں رکاوٹ،ترقیاتی اجازت ناموں کے مسائل،وراثتی معاملات میں پیچیدگیاں،ریونیو ریکارڈ کی خامیاں،اس لیے انتقال سے مسلسل انکار بالواسطہ طور پر آئینی حقوق کو متاثر کر سکتا ہے۔تحصیلدار انتقالی کارروائیوں میں ایک نیم عدالتی حیثیت رکھتا ہے۔اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ تحقیقات کرے،شواہد کا جائزہ لے،متعلقہ فریقین کو سنے،
قبضہ کی تصدیق کرےاور معقول حکم صادر کرے۔جہاں ریکارڈ دستیاب نہ ہو، وہاں قانونی متبادل تلاش کرنا بھی اس کی ذمہ داری ہے۔رجسٹرڈ سیل ڈیڈ اور انتقال کا تعلق عام حالات میں رجسٹرڈ سیل ڈیڈ کے بعد انتقال کا اندراج ہونا چاہیے۔البتہ اگرزمین کی شناخت پر حقیقی تنازعہ موجود ہو،ملکیت کے متضاد دعوے ہوں،جعلسازی کا شبہ ہویا عدالت نے روک لگا رکھی ہوتو متعلقہ افسر قانونی طور پر کارروائی مؤخر کر سکتا ہے۔لیکن جہاں کوئی حقیقی تنازعہ موجود نہ ہو ،وہاں رجسٹرڈ سیل ڈیڈ کے اثرات کو ریونیو ریکارڈ میں ظاہر کرنا ہی قانون اور انصاف کا تقاضا ہے۔
جہاں مسوی یا دیگر نقشہ جات گم ہو چکے ہوں، وہاں حکومت کو ریکارڈ کی ازسرِ نو تشکیل (Record Reconstruction) کا نظام وضع کرنا چاہیے۔اس میں شامل ہو سکتے ہیں:دستیاب ثانوی ریکارڈ کا استعمال،موقعہ معائنہ،پڑوسی اراضی کی جانچ،ڈیجیٹل سروے،نئے نقشہ جات کی تیاری،عوامی نوٹس۔مجاز اتھارٹی کی حتمی توثیق،ضروری انتظامی اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔تمام تاریخی مسویات اور لتھات کی مکمل ڈیجیٹائزیشن،مرکزی ڈیجیٹل آرکائیو کا قیام،انتقالی مقدمات کے لیے مقررہ وقت کی حد،گمشدہ ریکارڈ کے معاملات کے لیے واضح قواعد،غیر ضروری تاخیر پر جوابدہی کا نظام لازمی ہے۔
ہر زیر التوا انتقال کے پیچھے ایک انسانی داستان موجود ہوتی ہے۔کوئی ریٹائرڈ ملازم اپنی جمع پونجی لگا کر زمین خریدتا ہے۔کوئی کسان کاشتکاری کے لیے زمین حاصل کرتا ہے۔کوئی خاندان اپنا گھر تعمیر کرتا ہےاور کوئی نوجوان جوڑا اپنے مستقبل کے خواب بساتا ہے۔جب انتقال برسوں تک زیر التوا رہتا ہے تو قانونی ملکیت بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو جاتی ہے۔مسوی یا لتھا کی عدم دستیابی یقیناً ایک انتظامی مسئلہ ہے، لیکن یہ کسی قانونی طور پر رجسٹرڈ سیل ڈیڈ کے اثرات کو غیر مؤثر بنانے کا جواز نہیں بن سکتی۔جب ایک سیل ڈیڈ مجاز سب رجسٹرار کے سامنے قانون کے مطابق رجسٹر ہو چکی ہو تو اس سے پیدا ہونے والے حقوق کو ریونیو ریکارڈ میں مناسب، منصفانہ اور بروقت انتقالی کارروائی کے ذریعے تسلیم کیا جانا چاہیے۔ریاست ایک طرف رجسٹریشن کا نظام قائم کرے، فیس وصول کرے اور دوسری طرف اپنے ہی ریکارڈ کی گمشدگی کو بنیاد بنا کر شہریوں کو غیر یقینی صورتحال میں مبتلا رکھے، یہ اچھی حکمرانی کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔جدید ریونیو انتظامیہ کا بنیادی اصول واضح ہونا چاہئے،جو شہری قانون کے مطابق رجسٹرڈ سیل ڈیڈ کے ذریعے جائیداد حاصل کرے، اسے صرف اس وجہ سے ریونیو ریکارڈ میں حق سے محروم نہیں رکھا جا سکتا کہ ریاست اپنے ریکارڈ کو محفوظ رکھنے یا ازسرِ نو تشکیل دینے میں ناکام رہی ہے۔ انتظامی خامیوں کا بوجھ بے قصور شہریوں پر نہیں بلکہ خود انتظامیہ پر عائد ہونا چاہیے۔