حال و احوال
جی کیو کامران
ہماری تہذیب میں درسگاہ حصول علم اور روحانی و اخلاقی تربیت کا سب سے مقدس مرکز تصور کیا جاتا ہے۔لیکن جب علم کے ان مقدس تربیت گاہوں کے راستے بھی غیر محفوظ ہو جائیں گے تو ہم کیسے یہ توقع کرسکتے ہیں کہ ہماری بیٹیوں کی عصمتیں اور انمول زندگیاں اسکولوں،کالجوں اور دیگر اہم اداروں تک پہنچتے پہنچتے محفوظ رہ سکتی ہیں۔حال ہی میں ضلع بڈگام کے گلوان پورہ گاؤں میں پیش آنے والا دلدوز سانحہ محض ایک معصوم بیٹی کی موت کا ماتم نہیں بلکہ پوری انسانیت کا جنازہ ہے ایک کم سن اور معصوم بچی جو ربّ کا کلام پڑھنے گھر سے نکلی تھی جس کی آنکھیں معصوم خوابوں اور دل ارمانوں سے سجا تھا اسے کیا معلوم تھا کہ اس کی پاکیزہ امیدیں اور والدین کی اس سے وابستہ توقعات درندگی کا شکار ہو کر مٹی میں مل جائیں گی۔یہ المناک سانحہ اس تلخ حقیقت کا انتباہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں انسانوں کے روپ میں درندے پھر رہے ہیں جو ہماری سماجی قدروں،عصمتوں اور معصوم جانوں کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔
اگرچہ سرکاری سطح سے لے کر عوامی حلقوں تک اس دلدوز سانحہ کی شدید اور پرزور الفاظ میں مذمت کی گئی اور احتجاجی مظاہروں کے ذریعے قاتل کو عبرت ناک سزا دینے کا پرزور مطالبہ کیا گیا۔لیکن محض تعزیت پرسی، مذمت اور احتجاجی مظاہروں سے کئی زیادہ اہم اور فوری ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ان لرزہ خیز جرائم کے پس پردہ محرکات کا گہرائی سے جائزہ لیں۔ہمیں ان محرکات کی نشاندہی اور سماج کی اس مجرمانہ بے حسی کو بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے جو ان بھیانک جرائم کو ہوا دے رہی ہے ایسے سانحات دوبارہ رونما ہونے سے روکنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم بحیثیت ذمہ دار شہری خواب غفلت سے بیدار ہو جائیں اور کسی بھی لاپرواہی کے بغیر اپنی ذمہ داریاں سنجیدگی سے نبھائیں۔
جموں و کشمیر جو کبھی اپنی اعلیٰ اخلاقی اقدار، روایتی بھائی چارے اور ہمسایگی کے مخلصانہ حقوق کے لیے دنیا بھر میں ایک منفرد اور مثالی مقام رکھتا تھا، آج وحشیانہ جرائم کی آماجگاہ بنتا جا رہا ہے۔ اب کشمیر میں معصوم اور کم سن بچوں کے خلاف ہونے والی زیادتیوں اور جنسی جرائم میں روز بہ روز اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک صحت مند معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں سماج کے ہر فرد کو تحفظ کا احساس میسر ہو، جہاں کی ہر گلی اور ہر راستہ خوف اور خطرے سے خالی ہواور جہاں ہمارے معصوم بچے، ہماری بیٹیاں اور معاشرے کا ہر کمزور طبقہ باعزت اور بغیر کسی خوف کے زندگی بسر کر سکے۔ لہٰذا اس صورتحال کا تقاضا ہے کہ ہم بحیثیت ِ ذمہ دار شہری اپنے گھروں کا جائزہ لیں اور پھر اپنے اردگرد کے ماحول پر کڑی نظر رکھیں۔ اگر ہمیں یہ محسوس ہو کہ ہمارے محلے، گاؤں یا بستی میں ایسے عناصر پنپ رہے ہیں جو ہماری سماجی اقدار کے لیے خطرہ ہیں تو فوراً سدِ باب کے اقدامات کیے جائیں۔ اس مقصد کے لیے مقامی سطح پر ایسی محلہ کمیٹیاں یا سماجی تنظیمیں قائم کرنا ناگزیر ہے جن میں علاقے کے معزز، باشعور اور ذمہ دار افراد شامل ہوں۔ یہ تنظیمیں انتہائی حکمت اور احتیاط کے ساتھ صورتحال کو سنبھالنے کی اہل ہونی چاہئیں۔وہ اس بات پتہ لگائیں کہ سماج میں ایسے جرائم کے محرکات کیا ہیں اور پھر ان وجوہات کے تدارک کے لیے نوجوانوں کی صحیح رہنمائی کریں۔ ایسے ہولناک اور دلدوز جرائم کے سدِ باب کے لیے معاشرے میں اخلاقی اور دینی تربیت کا ہونا ناگزیر ہے۔ اسلام سمیت دنیا کا ہر مذہب معاشرے کی پاکیزگی، انسانی جان و مال کے احترام اور عورتوں و بچوں کے حقوق کے تحفظ کی واضح ہدایات دیتا ہے۔ دین ِ اسلام نے تو عفت و عصمت پر حملہ کرنے والوں کے خلاف انتہائی سخت احکامات وضع کئےہیں۔ سنتِ نبوی ؐ کی روشنی میں عصمت دری جیسے لرزہ خیز جرم کے مرتکب درندوں کے لیے سنگسار کرنے جیسی عبرت ناک اور کڑی سزائیں مقرر ہیں۔ اگر ہماری نئی نسل دین کے ان سخت قوانین اور خدا کے خوف سے کماحقہ واقف ہو تو وہ ایسے روح فرسا جرائم کے قریب جانے سے بھی کانپ اٹھیں گے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں اسلامی ضابطۂ حیات کو پسِ پشت ڈال دیا گیا ہے۔ اسلام نے غیر محرم کے ساتھ خلوت سے سختی سے منع کیا ہے،کسی کے گھر میں داخل ہونے کے آداب سکھائے ہیں اور راستے پر چلنے کے قواعد مقرر کئے ہیں، مگر ہم ان سے یکسر غافل ہیں۔ جب والدین خود علم اور عمل کے لحاظ سے ان اسلامی آداب سے دور ہو چکے ہیں، تو وہ اپنی اولاد کی کیا تربیت کریں گے؟ لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ ہم خود بھی دین کے رہنما اصولوں کی پیروی کریں اور اپنے بچوں کو بھی ان پاکیزہ اقدار پر چلنے کی تلقین کریں۔
اخلاقی زوال اور ہولناک جرائم کے پھیلاؤ میں منشیات کی ہولناک وبا بھی ایک کلیدی اور بھیانک کردار ادا کر رہی ہے۔ جموں و کشمیر میں اس وقت تقریباً 13 لاکھ 50 ہزار افراد منشیات کی دلدل میں دھنس چکے ہیں ،جب کوئی نوجوان چرس، ہیروئن یا دیگر نشہ آور اشیاء کا عادی ہو جاتا ہے، تو اس کا ضمیر مر جاتا ہے اور وہ کسی بھی حد تک جانے سے گریز نہیں کرتا۔ یہاں والدین کی یہ اولین ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی حرکات و سکنات پر گہری نظر رکھیں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی صورت میں بروقت متعلقہ اداروں کو مطلع کریں۔ منشیات کے ساتھ ساتھ، موجودہ دور میں موبائل فون اور انٹرنیٹ کا بے لگام استعمال بھی ایک بڑا فتنہ بن چکا ہے۔ انٹرنیٹ پر فحش اور غیر اخلاقی مواد تک آسان رسائی نے نوجوانوں کی ذہنی و فکری تربیت کو بری طرح مسخ کر دیا ہے، جس سے معاشرے میں جنسی تشدد کے رجحانات کو فروغ مل رہا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ سرکاری سطح پر ایسے فحش مواد اور ویب سائٹس پر سخت پابندی عائد کی جائے اور ساتھ ہی والدین بھی اپنے بچوں کو اس ڈیجیٹل بے راہ روی سے بچانے کے لیے اپنا فعال کردار ادا کریں۔
نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو (NCRB) کے اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں خواتین کے خلاف جرائم میں نہ صرف 15.62 فیصد کا تشویشناک اضافہ ہوا ہے، بلکہ عدالتوں میں مجرموں کو سزا ملنے کی شرح (Conviction Rate) بھی انتہائی مایوس کن رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، جہاں صرف سال 2021 کے دوران 7 ہزار سے زائد گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں، وہیں محض 95 افراد کو سزا سنائی جا سکی۔ اب ضرورت اس بات کی ہے ایسے لرزہ خیز جرائم کے معاملات کی ترجیحی بنیادوں پر تیز رفتار عدالتی سماعت (Fast-Track Trial) کی جائے اور ان ناقابلِ برداشت جرائم میں ملوث درندوں کو ایسی کڑی اور عبرت ناک سزائیں دی جائیں جو آئندہ کے لیے ایک مثال بن جائیں۔بڈگام کا یہ دلدوز سانحہ ہمارے لیے محض ایک عبرت ہی نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کی مجرمانہ غفلت کا آئینہ دار ہے۔ اگر ہم آج بھی اپنی بیٹیوں کی آبرو اور زندگیوں کو تحفظ فراہم نہیں کر سکےتو ہم ایک ایسے مردہ اور بے حس معاشرے کو تشکیل دے رہے ہیں جہاں بزرگوں، عورتوں اور بچوں جیسے حساس طبقات کے لیے کوئی امان نہیں ہے۔ ان بے گناہ مظلوموں کی تڑپتی روحوں کو تب تک سکون نہیں مل سکتا، جب تک ہم ایک ذی شعور اور ذمہ دار معاشرے کے وجود کو یقینی نہیں بناتے اور درندگی کے مرتکب ان وحشیوں کو ان کے کیفرِ کردار تک نہیں پہنچاتے۔ اب مزید انتظار کی گنجائش نہیں؛ ہم سب کو متحد ہو کر ان سماجی جرائم کا قلع قمع کرنا ہوگا اور نئی نسل کی صحیح اخلاقی تربیت اور دینی رہنمائی کو عام کرنا ہوگا، اسی صورت میں ہم مظلوم روحوں کو حقیقی انصاف دلا سکتے ہیں اور اپنے کل کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔