ہارون ابن رشید
ماں روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی سب سے خوبصورت نعمت اور سب سے پیاری مخلوق ہے۔ ہر معاشرہ خاندانوں سے تشکیل پاتا ہے، اور خاندان وہ بنیاد ہیں جن پر ایک مضبوط اور مہذب معاشرے کی عمارت قائم ہوتی ہے۔ جس قدر خاندان مضبوط، بااخلاق اور باکردار ہوں گے، اسی قدر معاشرہ بھی مضبوط ہوگا۔ ان خاندانوں کی تعمیر و تربیت میں ماں کا کردار سب سے زیادہ اہم اور بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔آج کی خواتین زندگی کے مختلف شعبوں میں کامیابی، اعلیٰ تعلیم اور کیریئر کی ترقی حاصل کرنا چاہتی ہیں، جو یقیناً ایک مثبت امر ہے۔ لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ایک ماں کا سب سے عظیم کارنامہ نیک، بااخلاق اور باشعور بچوں کی تربیت ہے، کیونکہ یہی بچے آگے چل کر ایک بہترین معاشرے کی تشکیل کرتے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ بچے پیدا کرنا آسان ہے، مگر ان کی اچھی تربیت کرنا بہت مشکل کام ہے اور یہی ہر ماں کے لیے اصل امتحان ہے۔ ماں اپنے بچوں کی زندگی میں حوصلہ، امید اور کامیابی کی سب سے بڑی وجہ ہوتی ہے۔ دنیا میں بہت سے لوگ ہماری زندگی میں تحریک بن سکتے ہیں، جیسے استاد یا کوئی کامیاب شخصیت، مگر میری زندگی میں سب سے بڑی محرک میری ماں ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ مجھے آگے بڑھنے، محنت کرنے اور اپنے مقاصد حاصل کرنے کی ترغیب دی۔ماں محبت، شفقت، صبر، قربانی اور ایثار کا مجسمہ ہوتی ہے۔ جب ہم غلطیاں کرتے ہیں تو وہ ہمیں معاف بھی کرتی ہے اور ہماری اصلاح بھی کرتی ہے تاکہ ہم ایک اچھے انسان بن سکیں۔ صبح سے رات تک وہ اپنے بچوں کی خوشیوں اور ضروریات کے لیے انتھک محنت کرتی ہے۔ ماں کی محبت بے مثال ہوتی ہے۔ بچہ چاہے چھوٹا ہو یا بڑا، فرمانبردار ہو یا نافرمان، ماں کے دل میں اس کے لیے محبت ہمیشہ قائم رہتی ہے۔بعض اوقات بچے ماں کی ڈانٹ کو ناراضی سمجھتے ہیں، حالانکہ وہ ڈانٹ بھی محبت ہی کا ایک انداز ہوتی ہے۔ ایک اچھی ماں ہمیشہ اپنے بچے کو یہ احساس دلاتی ہے کہ وہ ہر حال میں اس سے محبت کرتی ہے۔ یہی محبت بچے میں اعتماد، سکون اور خوشی پیدا کرتی ہے۔
ماں اپنی اولاد کے لیے بے شمار قربانیاں دیتی ہے۔ وہ اپنی نیند، آرام، وقت اور خواہشات تک قربان کر دیتی ہے تاکہ اس کے بچے خوش اور محفوظ رہیں۔ جب بچہ اس دنیا میں آتا ہے تو وہ ہر چیز سے ناواقف ہوتا ہے، اور ماں ہی اسے دنیا، اخلاق، محبت، انسانیت اور دین سے روشناس کرواتی ہے۔ بچے کی ابتدائی تربیت اس کی پوری زندگی پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ایک اچھی ماں ہمیشہ اپنے بچوں کی جسمانی، ذہنی اور جذباتی ضروریات کو ترجیح دیتی ہے۔ جدید دور میں بہت سی خواتین اپنے گھروں سے زیادہ کیریئر کو اہمیت دینے لگی ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ گھر اور بچوں کی تربیت ایک عورت کی سب سے قیمتی ذمہ داری ہے۔ یہ کوئی قربانی نہیں بلکہ ایسی سرمایہ کاری ہے جس کا صلہ ایک بہترین نسل اور کامیاب معاشرے کی صورت میں ملتا ہے۔
ماں وہ ہستی ہے جو ہماری ہر مشکل میں ہمارے ساتھ کھڑی رہتی ہے۔ جب ہم پریشان ہوتے ہیں تو وہ ہمیں تسلی دیتی ہے، جب ہم خوفزدہ ہوتے ہیں تو وہ ہماری ہمت بنتی ہے، اور جب ہم ناکام ہوتے ہیں تو وہ ہمیں دوبارہ کوشش کرنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ اگر ہم رات کو سو نہ سکیں تو وہ ہمیں اپنی گود میں سلا دیتی ہے۔ اگر زندگی میں اندھیرا چھا جائے تو وہ روشنی بن کر ہماری رہنمائی کرتی ہے۔ماں واقعی ایک سپر وومین ہوتی ہے۔ وہ گھر سنبھالتی ہے، بچوں کی تعلیم و تربیت کرتی ہے، شوہر کا خیال رکھتی ہے اور ہر ذمہ داری خوش دلی سے نبھاتی ہے۔ اس کے باوجود اگر کوئی اس سے مدد مانگے تو وہ مسکرا کر جواب دیتی ہے۔گویا ماں اللہ تعالیٰ کی رحمت کا سب سے خوبصورت مظہر ہے۔ وہ سچائی، خلوص، محبت اور ایثار کا پیکر ہے۔ وہ اپنے بچوں کے لیے سب کچھ کرتی ہے مگر بدلے میں کچھ نہیں مانگتی۔ ’’میں جو کچھ بھی ہوں اور جو بننے کی امید رکھتا ہوں، اس میں میری ماں کی محبت، دعاؤں اور تربیت کا بہت بڑا کردار ہے۔’’اللہ تعالیٰ تمام ماؤں کو صحت، سلامتی، خوشی اور لمبی عمر عطا فرمائے۔جو مائیں دنیا سے رخصت ہو چکی ہیں، اللہ پاک ان کی مغفرت فرمائے۔